496

جھوٹ اور بے حسی کا مارچ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے باسیوں میں آج کل ایک چٹکلہ مشہور ہے کہ یہاں سردی کے آنے کا پتا کسی لانگ مارچ یا دھرنے سے ہی چلتا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اکثر و بیشتر بالخصوص اکتوبر یا نومبر کے مہینوں میں وفاقی دارالحکومت میں دھرنوں، لانگ مارچ یا احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ایسے دھرنوں اور احتجاجوں کے منتظمین کی طرف سے ہر مرتبہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہمارا احتجاج پُر امن ہوگا اور یہ کہ اس دوران کوئی بھی سڑک یا راستہ بند نہیں کیا جائے گا لیکن ہر مرتبہ یہی دیکھا گیا ہے کہ ایسے احتجاجوں کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کے لیے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔

جیسے احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے ویسے پُر امن طرزِ زندگی اور عوامی راستوں کا استعمال بھی شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ ویسے تو یہ احتجاج کا حق بھی ہر کسی کو برابر نہیں ملتا، یہاں اساتذہ، ڈاکٹروں یا کسی اور شعبے کے احتجاج کرنے والے لوگوں کو تو لاٹھیاں اور واٹر بائوزر مار مار کر بھگا دیا جاتا ہے ، صرف سیاسی جماعتوں کے دھرنوں اور لانگ مارچ کو ہی جمہوری حق تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ جو وفاقی دارالحکومت کی جانب رواں دواں ہے، تحریک انصاف اسے لانگ مارچ نہیں بلکہ’’حقیقی آزادی مارچ‘‘ کا نام دے رہی ہے۔ یہاں اس پہلو پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر پاکستان کے شہریوں کو آزادی میسر نہ ہوتی تو آج اس مارچ کی اجازت بھی کسی کو نہ ہوتی، اور یہ کیسی عجیب آزادی ہے جس کا مطالبہ پنجاب اور کے پی میں حکومت قائم ہونے کے بعد بھی کیا جا رہا ہے۔ اور ایک طرف تو حقیقی آزادی مارچ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف غیر جمہوری طاقتوں سے التجائیں کی جا رہی ہیں کہ وہ ایک جمہوری طریقہ کار سے ہٹائے گئے شخص کو پھر سے وزارتِ عظمیٰ کا مسند حاصل کرنے کے لیے غیر جمہوری طریقے سے جمہوری نظام میں مداخلت کریں۔

 اسی مقصد کے تحت تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید اسی’’پُر امن‘‘ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے لاہور میں شہریوں سے حلف لے رہے تھے کہ کیا ہمارے ساتھ جہاد میں چلو گے؟، عمران خان جو کہیں گے وہ کرو گے؟ اپنی جان پیش کرو گے؟

سب سے بُرا جھوٹ وہی ہوتا ہے جو انسان اپنے آپ سے بولتا ہے۔ حقیقی آزادی مارچ، تبدیلی مارچ، پاکستان بچانے کا مارچ، جہاد، رجیم چینج کے خلاف مارچ اور پتا نہیں کیا کیا نام ہیں جو تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو دیے جا رہے ہیں۔ یہ سب اُسی جھوٹ کی وہ اقسام ہیں جن کی بابت خان صاحب تو جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہیں لیکن اُن کے حامی اسے سچ سمجھ کے بول رہے ہیں۔

یہ جھوٹ سچ سے معتبر کیوں کر ہوا؟ کیونکہ یہاں سچ اُس شدت سے بولا ہی نہیں جاتا جس شدت سے جھوٹ بولا یا پھیلایا جاتا ہے۔خان صاحب کے پیروکاروں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اُن کے نزدیک ملکی تاریخ اور سیاست میں سچ وہی ہے جو خان صاحب بولتے ہیں، چاہے وہ کچھ روز بعد اپنی کہی بات سے یو ٹرن ہی لے لیں۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اُن کا ملکی تاریخ اور سیاست سے آگاہی کا واحد ذریعہ بھی خان صاحب ہی ہیں۔

سیم پیج کے قصیدوں، واحد پارٹی جس کی حکومت سنبھالنے کی تیاری ہے، اُوپر والا ایماندار ہوتو نیچے کرپشن نہیں ہوتی، کروڑوں نوکریوں اور لاکھوں گھروں کی فراہمی، کرپشن کے اربوں روپے پاکستان لے کے آئوں گا۔

 جیسے دعووں کے بعد بھی جب اِن کی کار کردگی صفر رہی اور حکومت نہ چل سکی تو اب ملکی معیشت، پاکستانی معاشرے اور سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے کے بعد ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ رجیم چینج آپریشن تھا اور امپورٹڈ حکومت ہم پر مسلط کی گئی ہے اور اُسی مقتدرہ نے کی ہے جس کے خان صاحب دن رات قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔

ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ نہ صرف جھوٹ بولنا بلکہ اس مہارت سے بولنا کہ آپ کے حامی اُسے ہی سچ ماننے لگیں ، ایک بہت بڑی طاقت اور صلاحیت ہے۔ اور اس صلاحیت کو تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے آج کل بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

 یہ پاور پالیٹکس ہے اور بہت عرصے بعد ایک جماعت خود غیر جمہوری قوتوں کو دعوت دے کر اور جمہوری اقدار کو پامال کرکے اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔ خان صاحب مشرف دور میں بھی ایسا طرزِ عمل اپنا چکے ہیں بلکہ 2014ء کے دھرنے اور 2018ء کے انتخابات میں بھی خان صاحب نے بار بار یہ ثابت کیا کہ اُن کے نزدیک ملکی استحکام اور معیشت کو دائو پر لگانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

اس سب کے بعد خان صاحب کی طرف سے لانگ مارچ کے دوران خاتون رپورٹر صدف نعیم کے خان صاحب کے کنٹینر کے نیچے آ کر جاں بحق ہونے کے بعد جو رویہ اپنایا گیا اُس پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے افسوس کے ساتھ لانگ مارچ کو اگلے دن تک ملتوی ضرور کیا لیکن یہ افسوس خاتون صحافی کی جان جانے پر نہیں تھا بلکہ اس بات پر تھا کہ معاشرتی دبائو کے باعث انہیں مجبوراً اپنا لانگ مارچ تھوڑی دیر کے لیے روکنا پڑا۔

یہ کمال بے حسی ہے کہ یہاں ایک طرف تو میڈیا اور صحافتی برادری کی مدد سے اپنے بیانیے کو تشہیر کی جاتی ہے، جہاں کسی صحافی سے متعلق کسی خبر سے کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو تو اُس کے ساتھ ہمدردی بھی کی جاتی ہے، اُس کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی پڑھی جاتی ہے، اُس کے لواحقین کو دلاسا بھی دیا جاتا ہے،لیکن دوسری طرف ایسی بے حسی کا مظاہرہ بھی دیکھا گیا کہ خاتون صحافی کی موت کے بعد نہ کوئی افسوس ہوا نہ ہی لواحقین کو دلاسا دیا گیا۔

اگر ایسا ہی کوئی حادثہ اپوزیشن یا پی ڈی ایم کے لانگ مارچ یا احتجاج کے دوران ہوا ہوتا تو تحریک انصاف کی طرف سے دنیا بھر سے مثالیں پیش کی جاتیں کہ فلاں ملک کے سربراہ کا یا فلاں سیاسی جماعت کی قیادت کا کیسا ردِ عمل ہوتا یا وہ اپنی احتجاجی تحریک روک دیتا۔صدف نعیم کی موت سے قبل یہ صرف جھوٹ پر مبنی مارچ تھا لیکن اب یہ جھوٹ اور بے حسی پر مبنی مارچ بن جائے گا۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم