221

لانگ مارچ پر حملہ

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کنٹینر پر وزیر آباد میں فائرنگ کر دی گئی، فائرنگ کی زد میں آکر ایک شخص جاں بحق ہو گیا جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، عمر ڈار، سینیٹر فیصل جاوید، احمد چٹھہ ، دو سکیورٹی گارڈ، دو پولیس اہلکار اور 3 کارکن زخمی ہو ئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ، نواز شریف، آصف زرداری ، چوہدری شجاعت، فضل الرحمان ، اسفند یار ولی ، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی ،وفاقی وزراء اور پاک فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان پر حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔ حملہ عمران خان کے لانگ مارچ کے کنٹینر پر ہوا ہے، لانگ مارچ سے پہلے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس ، وزیر داخلہ کے بیانات اور مریم نواز کا بیان ، یہ سب افسوسناک باتیں ہیں۔ اس واقعے کے اثرات نا صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے، امریکا اور کینیڈا کی طرف سے بھی عمران خان پر حملے کی مذمت کا بیان سامنے آیا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان دشمن غیر ملکی طاقتوں کو اس طرح کے واقعات سے خوشی ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ موقع پر موجود لانگ مارچ کے شرکاء اشتعال میں نہیں آئے اور جلائو گھیرائو، توڑ پھوڑ کے واقعات سے ابھی ملک محفوظ ہے، تاہم عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی ، ملتان سمیت پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے اور ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔ واقعے کے مبینہ ملزم کو موقع پر پکڑ لیا گیا جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر تھانے پہنچا دیا۔ بعد ازاں کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے مبینہ ملزم کا ویڈیو بیان سامنے آیا ، ویڈیو بیان میں ملزم نے کہا ہے کہ اس نے اس لئے فائرنگ کی کیونکہ عمران خان لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا، مجھ سے یہ چیز دیکھی نہیں گئی ، میں نے عمران خان کو مارنے کی پوری کوشش کی۔ مبینہ ملزم کی ویڈیو کا بیان سامنے آنا سوالیہ نشان ہے؟ اور اس سے بہت سے پیدا ہوئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے مبینہ ملزم کا ویڈیو بیان لیک ہونے پر ایس ایچ او سمیت پورا متعلقہ تھانہ معطل کر دیا۔ مبینہ ملزم کے ویڈیو بیان میں بھی تضاد ہے، ایک لمحے وہ کہتا ہے کہ میں نے آج صبح فیصلہ کیا، دوسرے لمحے کہتا ہے کہ جب سے عمران خان لاہور سے چلا ہے میں نے فیصلہ کر لیا تھا۔ تھریٹ الرٹ کے باوجود واقعے کا رونما ہونا امن و امان کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ پنجاب میں عمران خان کی اپنی حکومت ہے، اس واقعے نے سکیورٹی مسائل کے علاوہ مستقبل کے بھی سوالات کو جنم دیا ہے ۔عمران خان نے ہسپتال میں پارٹی رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ہر صورت اسلام آباد پہنچے گا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ کی قیادت کون کرے گا؟۔ آیا کنٹینر ساتھ جائے گا کہ نہیں کہ واقعہ کنٹینر پر ہوا ہے اور پولیس نے تفتیش بھی کرنی ہے۔ درحقیقت دیکھا جائے تو اس واقعے کے بعد لانگ مارچ کو نقصان پہنچا ہے اور احتجاجی تحریک کے حوالے سے حکومت کو وقتی طور پر اس کا فائدہ پہنچنا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں اس کے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟۔ عمران خان کی سیاست سے پی ڈی ایم اور دوسروں کو سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے ، تاہم عمران خان کی شخصی اور سیاسی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان کو 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیاء ایوارڈ اور ہلال امتیاز ملے اور وہ پہلے پاکستانی ہے جو بریڈ فورڈ یونیورسٹی برطانیہ کے چانسلر کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں، عمران خان کو حکومت پاکستان سے بھی صدارتی ایوارڈ مل چکا ہے۔ عمران خان کا خاندانی پس منظر یہ ہے کہ وہ میانوالی کے نیازی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ اکرام اللہ نیازی کے اکلوتے بیٹے ہیں، ان کی والدہ شوکت خانم صاحبہ میانوالی میں سکونت پذیر رہیں، عمران خان بچپن میں خاموش طبع اور شرمیلے تھے، کرکٹ کا شوق بچپن سے تھا، ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی، بعد ازاں وہ برطانیہ چلے گئے وہاں رائل گرائمر سکول اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین میں گریجوایشن کی، 1974ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان مختلف برطانوی اور ایشیائی اخباروں کے لئے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے۔ عمران خان کی شادیاں بھی عالمی سطح پر مشہور ہوئیں، 1995ء کو برطانیہ کے ارب پتی تاجر سر جیمز گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائما خان سے شادی اور 22 جون 2004ء کو طلاق ہوئی۔ 8جنوری 2015ء کو برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ شادی ہوئی اور 30 اکتوبر 2015ء کو طلاق ہوئی۔ 18 فروری 2018ء کو عمران خان نے بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کی ۔ جمائما خان سے عمران خان کے دو بیٹے سلمان اور قاسم بیرون ملک زیر تعلیم ہیں۔ عمران خان کے سیاسی کیرئیر کا آغاز حمید گل اور محمد علی درانی کی قیادت میں بننے والی پاسبان نامی جماعت میں شمولیت سے 1994ء میں شروع ہوا۔ 25 اپریل 1996ء کو عمران خان نے اپنی الگ پارٹی تحریک انصاف قائم کی۔ عمران خان 2002ء سے 2007ء اور 2013ء سے 2018ء تک رکن قومی اسمبلی رہے۔ طویل جدوجہد کے بعد 2018ء میں عمران خان کی جماعت کو کامیابی ملی ، 17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کے پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم بنے ۔ دوران اقتدار دعوئوں کے برعکس عمران خان عوام کی بہتری کیلئے کوئی کارنامہ سر انجام نہ دے سکے، ان کے دور میں عوام کو ریلیف کی بجائے تکلیف ملی ، سیاسی حوالے سے یہ عمران خان کی خوش قسمتی تھی کہ ساڑھے تین سال بعد عدم اعتماد کے ذریعے انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ لیکن شہباز شریف کی حکومت سے نہ صرف یہ کہ مہنگائی ختم نہیں ہوئی بلکہ عام آدمی کی زندگی میں اور مشکلات پیدا ہو گئیں جس کے باعث عمران خان ایک بار پھر نوجوانوں میں مقبول سیاسی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز