170

سول اور جمہوری بالادستی کے خواب

خود کو سب سے زیادہ باخبر ثابت کرنے کو روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن سازوں“ کے مابین گزشتہ چند دنوں سے سخت مقابلہ جاری ہے۔ موضوع ”تعیناتی“ ہے۔ اس تناظر میں متوقع فرد کی خوبیاں انتہائی تفصیل سے بیان ہو رہی ہیں۔ کسی ایک نام پر تاہم اتفاق نہیںہورہا۔اسی باعث چند معتبر ”صحافی“ ایسے نام بھی آگے لانا شروع ہوگئے ہیں جو پنجابی محاورے ”نہ تہاڈی گل نہ ساڈی“کی عملی تفسیر ہوسکتے ہیں۔جس لگن سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں اس نے مجھے اپنی کم علمی پر شرمساری کو مجبور کیا۔ بعدازاں دل کو تسلی دینے کے لئے مگر چندمنطقی خیالات ذہن میں امڈ آئے۔ بنیادی حقائق پر توجہ مرکوز رکھنے ہی میں عافیت محسوس کی۔

”سول اور جمہوری بالادستی“ کے خواب دیکھنے والے پسند کریں یا نہیں جس تعیناتی کے سوال نے میرے کئی ساتھیوں کو دیوانہ بنا رکھا ہے وہ ہماری سیاسی تاریخ کے حوالے سے طاقت ور ترین عہدہ شمار ہوتا ہے۔ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے تاہم یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنا پڑتی ہے کہ مذکورہ عہدے پر فائز ہوا شخص بالآخر اپنے ادارے کی اپنائی ترجیحات ہی پر عمل پیرائی کا خواہش مند ہوتا ہے۔یوں کرتے ہوئے وہ یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ موصوف کو ”کس نے“ اس عہدے پر تعیناتی کی منظوری دی تھی۔جنرل ضیاءالحق کا پاکستان کے پہلے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے انتخاب کے نتیجے میں منتخب ہونے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ”سلوک“ مجھ جیسے افراد کو خوب یاد ہے۔

کئی محققین اگرچہ اب یہ بھی دریافت کرچکے ہیں کہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے لگائے جنرل یحییٰ خان نے بھی ان کے ”عشرہ ترقی“ کے اختتامی دنوں میں ہماری تاریخ کے طاقت ور ترین صدر کو بے بس کرنے کی گیم لگانا شروع کردی تھی۔ جنرل مشرف کے زوال کا سبب ”عدلیہ بحالی تحریک“ تصور ہوتی ہے۔ کئی ”باخبر“ لوگ مگر اب اس تحریک کو خفیہ ہاتھوں کی پشت پناہی کا ”شاہکار“ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

سازشی کہانیوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے میں ذاتی طورپر عمومی صورتحال کے ”منطقی نتائج“ ذہن میں لانے کی کوشش کرتا ہوں۔عمران خان صاحب کے اقتدار کو ایک برس گزر گیا تو یہ حقیقت عیاں ہونا شروع ہو گئی کہ ”سیم پیج“ ہونے کے باوجود بات بن نہیں پا رہی۔ بالآخر مارچ 2021ء میں سینٹ کی اسلام آباد سے خالی ہوئی نشست پر انتخاب کا مرحلہ آ گیا۔ خفیہ رائے شماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کی صفوں سے ابھرے ”باغیوں“ نے یوسف رضا گیلانی کو حکومتی امیدوار کے مقابلے میں کامیاب کروادیا۔معاملات اس کے بعد کبھی سنبھل نہیں پائے۔ اکتوبر 2021ء سے ایک اہم تعیناتی کی وجہ سے ”سیم پیچ“ کو مزید زک پہنچی اور بالآخر اپریل 2022ء ہو گیا۔

حالات کو معمول پر لانے کے لئے کلیدی ترجیح فوری انتخاب کا انعقاد ہونا چاہیے تھی۔ عمران خان صاحب کو باہمی اختلافات بھلا کر اقتدار سے محروم کرنے کے بعد حکومت سنبھالنے والوں نے مگر ”آئینی مدت“ پوری کرنے کو ترجیح دی۔ ”مذکورہ ہدف کے حصول کے لئے لازمی تھا کہ عالمی معیشت کے نگہبان اداروں کو مطمئن کیا جائے۔ان کے اطمینان کے لئے بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ لازمی تھا۔”ریاست“ کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا گیا۔”سیاست“ کی کمر مگر دہری ہو گئی۔

ہمارے معاشی منظر نامے پر اداسی کی جو فضا حاوی ہو چکی ہے اس کے ہوتے ہوئے موجودہ حکومت کو مستحکم دکھانے کے دلائل ڈھونڈنا تقریباََ ناممکن ہے۔ کامل بے ثباتی کا عالم ہے جسے عمران خان صاحب اپنے جارحانہ اندازِ سیاست سے مزید بے بس بنائے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوچنا لازمی ہے کہ ہمارے ہاں اختیار پر حتمی اجارہ کس کے پاس ہے۔ جو مذکورہ اجارہ کا حامل ہے وہ خود کو قطعاََ لاتعلق رکھ نہیں سکتا۔

تعیناتی کی کہانی ابھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی تو ریاستی توشہ خانہ سے بازار میں بکنے کو پہنچی ایک ”گھڑی“ کا تذکرہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم متقاضی ہے کہ مجھ جیسے قلم گھسیٹ بھی اس قضیہ میں حصہ ڈالیں۔ ثابت کریں کہ یہ قصہ درست ہے یا نہیں اور اگر درست ہے تو اس کی ذمہ داری کس کے سررکھی جائے۔ جو تقاضہ ہورہا ہے میری دانست میں ”صحافت“ نہیں پراپیگنڈے کی حدود میں داخلے کو مجبور کرے گا۔ آپ کو اکتانے کی حد تک تکرار کے ساتھ فریاد کرتا رہتا ہوں کہ ”اندر کی اصل خبر“ ڈھونڈنے کی بے چینی میں مبتلا ہونے سے قبل تھوڑی دیر کے لئے ان سوالات پر بھی غور کرلیا جائے جو نظرآتے حقائق کی بدولت فی الفور ذہن میں آتے ہیں۔

ایک برادر ملک کے اہم ترین فرد کی جانب سے بہت قیمتی اور نہایت چاﺅ سے بنوائی گھڑی اگر بازار میں واقعتا بکی ہے تو سفارتی اعتبار سے ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے۔ اسے بیچنے یا خریدنے والے کی ”اخلاقی حیثیت“ میرا درد سر نہیں۔ اس سوال پر لیکن لوگوں کی اکثریت ایک لمحہ غور کرنے کو بھی تیار نہیں۔ گھڑی کے مبینہ خریدارکی دیانت کی بابت سوال اٹھائے جارہے ہیں۔عمران خان صاحب کے دیرینہ مخالف مذکورہ قصے کو ”بندہ ایمان دار ہے“ والے تاثر کو جھٹلانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔اس تناظر میں جو شوروغوغا برپا ہے اس کے ہوتے ہوئے مجھ جیسا بے ہنر لکھاری آپ کو ان معاملات پر فکر مند ہونے کو مائل کرہی نہیں سکتا جو میری دانست میں لاکھوں نہیں کروڑوں پاکستانیوں کی روزمرہّ زندگی کو اجیرن بنائے ہوئے ہیں۔ ان پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے ہی قابل عمل مداوے کے چند نسخے دریافت کئے جا سکتے ہیں۔

تعیناتی بالآخر ہو ہی جائے گی۔ گھڑی کا قضیہ اگرچہ مزید کچھ دن چلے گا۔ہم جو گیس خرچ کرتے ہیں اس کی قیمت مگر ہر صورت دوگنا کرنا پڑے گی۔ بھاری بھر کم قیمت ادا کرنے کے باوجود گیس کی لوڈشیڈنگ کے طویل وقفے بھی سردی کی شدت کے دوران برداشت کرنا ہوں گے۔ چسکہ بھری کہانیوں سے فرصت ملی تو ہم صحافی اس کے بارے میں سیاپا فروشی شروع کر دیں گے۔

(بشکریہ نوائے وقت)

بشکریہ نواےَ وقت