68

"جمہوریت ہے کیا چیز ہمیں بھی سمجھاو "

فقیر راحموں کافی دیر سے کتاب کھولے لیکن ’’نغمہ سرا ہے‘‘ غور کیا تو الاپ رہا ہے
’’جمہوریت ہے کیا چیز ہمیں بھی سمجھائو
 یہ کس نے ایجاد کی کچھ تو بتائو‘‘ 
پہلے اس ڈبل سٹنڈر  پر حیرانی ہوئی کیونکہ موصوف کے ہاتھوں میں ڈیوڈ بیتھم  اور کیون بابلے  کی تصنیف ’’جمہوریت کیا ہے ؟‘‘ تھی اس کتاب کا اردو ترجمہ انصار حسین نے کیا ہے۔
 کتاب اوراس کے موضوع پر بات کرتے ہیں پہلے اس ظلم عظیم پر بات کرلیتے ہیں جو کتاب کے پبلشر نے ڈھایا۔
 نیوز پرنٹ (کاغذ کی ایک قسم) پر شائع 120 صفحات کی اس کتاب کی قیمت مبلغ 500روپے  ہے نصف جس کا 250روپے بنتا ہے۔ یعنی تقریباً چار روپے 60پیسے فی صفحہ۔ اب اگر جمہوریت کیا ہے نامی 120صفحات کی کتاب 500روپے کی ہے تو خود  جمہوریت کتنی مہنگی ہوگی؟
 فقیر راحموں  بولے یہ بھی اشرافیہ کی جمہوریت جیسی کتاب ہے۔ کتابیں دن بدن مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور خریدار کم وہ تو  سکولوں کالجوں کے علاوہ بچی کھچی  پبلک لائبریریوں نے  پبلشروں کا ’’بھرم‘‘ بنارکھا ہے معاف کیجئے گا یہ بھی پورا سچ نہیں۔ 
کتاب اب بھی  فروخت ہوتی ہے، پڑھنے والا خود خریدے یا کسی دوست کے ذوق مطالعہ کو دیکھ کر کوئی کتاب تحفہ میں دے۔ کتابیں فروخت نہ ہورہی ہوتیں پبلشروں کی موجیں نہیں لگ سکتی تھیں۔
 بہرحال 120 صفحات کی 500روپے قیمت والی کتاب واقعی بہت مہنگی اور فقیر راحموں درست کہتا ہے کہ یہ بھی اشرافیہ کی جمہوریت جیسی کتاب ہے۔ 
500روپے ہیں تو خریدو پڑھو ورنہ ٹمپل روڈ یا مزنگ روڈ کے کنارے کھڑے ٹھیلے والوں سے 100روپے میں نان چنے کھائو اور گھر کا راستہ لو۔ 
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ 500روپے والی کتاب پر اتنا ہنگامہ کیوں؟ چلیں "جمہوریت کیا ہے؟" کی قیمت پانچ سو روپے تو ہے وہ مرزا جعفر حسین کی تصنیف ’’قدیم لکھنؤ کی آخری بہار‘‘ شائع کرنے والے پبلشر نے تو کتاب کی قیمت پر کالا مار کر پھیر دیا ہے۔
 لکھنئو  کو لکھنئو  کی طرح جاننے سمجھنے اور کتاب کے مندرجات کے سہارے لکھنئو  میں گھومنے پھرنے کے ہم ایسے شوقینوں کے ساتھ یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ 
ایک تو کتاب نایاب ہے اس پر ستم یہ کہ پبلشر منہ مانگی قیمت دھڑلے سے وصول کرتا ہے۔
 لکھنے پڑھنے والی میز کے الٹے ہاتھ  ابھی کچھ کتابیں رکھی ہیں پڑھنے کے لئے۔ ترتیب سے پڑھیں گے اور پڑھے ہوئے میں آپکو شریک کرتے رہیں گے۔
 یہاں شریک شریکے والا ہرگز نہیں بلکہ حاصل مطالعہ میں سے آپ کا حصہ آپ تک پہنچانے والی بات ہے۔ 
یہ بجا ہے کہ کاغذ اور طباعت کے دوسرے لوازمات بھی مہنگائی کے مارے ہوئے ہیں پھر بھی پبلشروں کو سوچنا چاہیے کہ اگر 120 صفحات کی کتاب کی قیمت میں کلو برائلر مرغی کے گوشت کے برابر رکھنی ہے تو آپ ایک سفید پوش پڑھنے والے کو سمجھارہے ہیں کہ چھوڑو یار مرغی کا گوشت ہی لے لو کچھ سوپ بنالو آج کل سردی ہے ایک آدھ بار پلائو اور ایک بار آلو چکن پکالو۔ 
ہائے ری مہنگائی جس نے آلو گوشت کی جگہ آلو  چکن متعارف کروادیا۔ لیکن جو لذت آلو گوشت میں ہے وہ آلو چکن میں کہاں۔ حساب سادہ ہے کسی ملتانی کے لئے جو مزہ ملتانی دال مونگ اور ڈولی روٹی میں ہے وہ لاہوری مرغ چھولے اور نان میں کہاں۔ معاف کیجئے گا بات سے بات یوں نکلتی چلی گئی اور ہم کتاب کے موضوع سے دور آگئے۔
 ’’جمہوریت کیا ہے؟‘‘ کا اردو ترجمہ انصار حسین نے کیا ہے شکر ہے بہت دنوں بعد ایسا ترجمہ پڑھنے کو ملا جو لفظی نہیں موضوعاتی ہے۔ مترجم نے اپنے تئیں کوشش بھرپور کی اور کامیاب بھی رہے کہ بھاری بھرکم الفاظ اور اصطلاحوں کی بجائے عام بول چال کے الفاظ میں ہی ترجمہ کیا جائے تاکہ پڑھنے والے تیسرے صفحے کے بعد کتاب کا بوجھ اٹھانے سے کترانے نہ لگ جائیں۔ 
جمہوریت یعینی ایسا نظام حکومت جو جمہور (عوام) کی خواہشات کے عین مطابق ہو۔
 ہمارے لیڈروں کی اکثریت مغربی جمہوریت کی بالادستی کی مثالیں اٹھتے بیٹھتے دیتی ہے لیکن انہوں نے جس قسم کی جمہوریت ہمارے ہاں متعارف  کرائی وہ دو طرح کی ہے ایک طبقاتی جمہوریت۔ اس میں عوام کا کام صرف نعرے لگانا، ووٹ دینا اور صبر کے خیمہ میں بیٹھ کر شکر کی تسبیح پڑھتے رہنا ہے۔ تسبیح پھیرنے سے کچھ وقت بچ رہے تو مخالفین پر تبرا کرلیجئے۔ تبرے میں احتیاط کیجئے آجکل تبرا  ، بیزاری کے اظہار کی بجائے گالم گلوچ کوکہتے ہیں۔
 ویسے کتابیں دوسری بہت ساری باتوں کے ساتھ ہمیں اس امر سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں کہ جناح صاحب (محمدعلی جناح) نے کہا تھا ’’آج سے آپ سب رنگ نسل عقیدے اور مذہبی امتیاز کے بغیر پاکستانی ہیں ثانیاً یہ کہ ہم پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ ایسی فلاحی جمہوری ریاست جہاں وسائل سب کے سانجھے ہوں اور قانون کی حاکمیت کے سامنے سبھی بلاامتیاز جوابدہ ہوں‘‘۔
 الحمدللہ شکر الحمدللہ پچھتر برسوں سے یہ دونوں کام نہیں ہوئے۔ ریاست نہ صرف مذہبی امتیازات کا تعارف ہے بلکہ قرارداد مقاصد کے بعد مذہبی ریاست اور جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم سے ایک خاص عقیدے کی ریاست ہے ۔
 اس خاص عقیدے کی من پسند تشریحات پر قانون سازی ہوتی آرہی  ہے۔
 یہ سطور  لکھتے ہوئے فقیر راحموں نے یاد دلایا کہ دستور میں لکھا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوگی۔ اس اطلاع پر قہقہہ لگانے کو جی چاہا۔ فقیر راحموں کے چہرے کا جائزہ لیا۔ ظالم خاصا سنجیدہ تھا ہم نے جی ہی جی میں سوچا ایسا نہ ہو کہ ہم قہقہہ لگائیں اور توہین کا الزام لگ جائے۔ 
آج کل بلکہ تین ساڑھے تین عشروں سے یہ ہمارے ملک کا منافع بخش کاروبار ہے۔ چھوڑیئے ہم جمہوریت پر بات کررہے تھے۔ اچھا یہ بھی اپنی جگہ لکھا پڑھا سچ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت  پر صرف بات ہی ہوسکتی ہے۔ خالی پیٹ اس سے بہتر اور مفت بٙری والی عیاشی اور  ہو بھی تو نہیں سکتی۔
 ویسے بھی ہمارے  ہاں جمہوریت کا ایک مطلب چند صد خاندانوں کی حکمرانی ہے۔ شخصی اور خاندانی وفاداری۔ بہت ہوا تو مخالف لیڈر اور اس کی جماعت  میں سے کیڑے نکالیں منہ بھر کے گالیاں  دیں، چور چور، اوئے سستے آدمی وغیرہ وغیرہ کہہ کر ’’جمہوریت  کو تسلی دیں‘‘۔
 اس اشرافیائی جمہوریت  کے بیچوں بیچ کبھی کبھی جرنیلی جمہوریت اور جرنیلی نظام اسلا کا دور بھی "ظہور"  پکڑ لیتا ہے۔ آپ کی سہولت کے لئے عرض کردوں کہ جرنیلی جمہوریت جنرل پرویز مشرف والی اور اس کے کچھ کچھ قریب فیلڈ مارشل ایوب خان کے صدارتی نظام والی ہوتی ہے۔ 
جرنیلی نفاذ نظام اسلام اس پر جنرل ضیاء کا دور پورا اترتا ہے۔ کچھ کچھ کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کا دور بھی ہے اور کیوں نہ ہو۔ آخر عالمگیر انقلاب اسلامی کی علمبردار جماعت اسلامی کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل میاں طفیل محمد نے ہی تو کہا تھا کہ ’’نفاذ اسلام کا جو عمل چوتھے خلیفہ راشد حضرت علیؑ  کی شہادت کے باعث رک گیا تھا امید ہے کہ ان کے نام لیوا کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کی قیادت میں وہیں سے شروع ہوگا‘‘۔
 سبحان اللہ، میاں صاحب اگر آج حیات ہوتے تو منصورہ کے باہر ان کے خلاف ایک پارٹی سر تن سے جدا کے گیت گارہی ہوتی۔ بہرحال ہمارے ہاں جمہوریت کی یہی دو اقسام معروف رہیں بلکہ اب بھی ہیں 
 عوامی جمہوریت ’’ہنوز دلی دور است‘‘  کے  مصداق ہے لیکن فقیر راحموں کے بقول اب ہنوز دلی دور است کی بجائے " ہنوز پنڈی دور است "  بولا لکھا جانا چاہیے۔ فقیر راحموں کی اس بات کا ترجمہ اور  تفیسر آپ اپنی مرضی سے کرنے کے لئے آزاد ہیں ادارہ آستانہ عالیہ حیدریہ حسینیہ جلالیہ فقیر راحموں ڈن ہل والی سرکار کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 معاف کیجئے گا میں نے پورے اڑھائی گھنٹے لگاکر آپ کی خاطر ڈیوڈ بیتھم  اور کیون بابلے کی کتاب ’’جمہوریت کیا ہے؟ ‘‘ کا مطالعہ کیا ایک سنجیدہ کتاب کے مطالعے کے بعد یہ سطور لکھتے ہوئے سنجیدگی لائبریری سے باہر چلتی ہوئی سرد ہوائوں میں ٹھٹھر رہی ہے۔ 
لائبریری کے اندر سگریٹوں کا دھواں ہے۔ کافی کی خوشبو اور فقیر راحموں کا فلسفہ ٔ جمہوریت۔ دو دن قبل فقیر راحموں کے ایک دوست اسے ملنے آئے تھے ملکی حالات و واقعات پر تبادلہ خیال کے دوران انہوں نے فقیر راحموں سے کہا 
’’یار فقیر اس ملک کو اسلامی صدارتی نظام کے ڈنڈے سے سیدھارکھا جاسکتا ہے۔ جمہوریت ہمارے مزاجوں کو راس نہیں‘‘۔ اسلامی صدارتی نظام میں صدر ملکت یقیناً عمران خان کو ہونا چاہیے میں نے فقیر کے دوست سے پوچھا، وہ مسکراتے ہوئے بولے میں آپ کی پریشانی سمجھ رہا ہوں۔ عرض کیا ہم نے کسی پریشانی کا اظہار کیا؟
 بولے، شاہ جی یقین کریں میں آپ کی مسکراہٹ کے پیچھے موجود نیٹ اور جذبات کو سمجھ رہا ہوں۔ عرض کیا جی بالکل اگر جرمنی اور جاپان کی سرحدیں مل سکتی ہیں تو آپ نیت اور جذبات کے بھید کیوں نہیں جان سکتے۔ اس جواب کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

بشکریہ اردو کالمز