243

گوہر تاج کے گوہر نایاب

آدھی رات اِدھر اور آدھی رات اُدھر گھنٹی بجتی ہے۔

یہ موبائل کی گھنٹی ہے یا کسی مندر کا گھنٹا ؟

میں بے قراری سے تکیے پر سر گھماتی ہوں۔ ہزاروں میل دور سے رضیہ آپا کی آواز آرہی ہے۔ رضیہ فصیح احمد۔ اردو کے افسانوی ادب کا ایک بڑا نام۔ میں خوش ہوجاتی ہوں۔

بہت دنوں بعد ان کی آواز سنی ہے۔ وہ گوہر تاج کا نام لے رہی ہیں۔ اس سے پہلے بھی انھوں نے بارہا گوہر تاج کی باتیں کی ہیں اور اب ان کی کسی کتاب کے بارے میں کچھ کہہ رہی ہیں۔

دوسرے دن میں کراچی کے پی ایم اے ہاؤس میں ہوں۔ ہاں یہ وہی کتاب ہے جس کا اس قدر دھوم دھڑکا ہے۔ گوہر تاج نے مجھے جب اس کے لیے فون کیا تو میں نے معذرت کر لی تھی اور کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

کہیں آنا جانا ایک مسئلہ بن گیا ہے ، لیکن گوہر تاج کا اصرار، رضیہ آپا بھی کچھ کہہ رہی ہیں۔ آج اتوار ہے، مجھے حیدرآباد جانا تھا۔ ایاز سومرو کا بلاوا ہے لیکن ڈاکٹر نے اجازت نہیں دی ہے اتنے لمبے سفر کی۔ اب جو ہو سو ہو۔

گوہر تاج کی کتاب مجھے مل گئی ہے ’’ خاک سے کیمیا ہوئے جو لوگ ‘‘ میں نے اسے ورق ورق پڑھ لیا ہے اور ان کے قلم کی داد دی ہے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ انھوں نے دکھیاروں کی خاک اکٹھی کی ہے، اسے اپنی مٹھیوں میں لے کر نچوڑا ہے اور درد و الم ان کی انگلیوں کی درز سے لہو کی طرح بہتا ہے۔

وہ ٹیگور، منشی پریم چند، حسن منظر، برصغیر کے دوسرے ادیبوں کی طرح ضمیر کی خریدار ہیں۔ انھوں نے کسی مرحلے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایک کامیاب سائیکو تھراپسٹ ہیں۔ سوشل ورکر ، منشیات کے عادی افراد کا علاج کرتی ہیں اور لوگوں کی دعائیں لیتی ہیں۔

انھیں کراچی والے اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ یہیں پیدا ہوئیں اور یہیں انھوں نے اپنا قد و قامت نکالا اور پھر نقل مکانی کی۔ شاید یہی مرحلہ تھا کہ وہ بلند ہوتی جائیں۔ ان کی یہ کتاب کیسے بہت سے باکمال لوگوں سے ہماری ملاقات کراتی ہے۔

مایا اینجلو سے ملاقات کراتے ہوئے گوہر تاج لکھتی ہیں ’’ امریکا کی مشہور شاعرہ ، ادیبہ اور انسانی حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مایا اینجلو کا کہنا ہے ’’ ایک اَن کہی داستان اپنے اندر رکھنے سے بڑا کوئی دکھ نہیں۔‘‘ مجھے اس جملے کی سچائی اور طاقت کا اندازہ ان کی شہرۂ آفاق کتاب ( میں جانتی ہوں پنجرہ میں قید چڑیا کیوں گاتی ہے۔ (I know why the caged bird sings) پڑھ کر ہوا۔ کئی سال قبل پڑھی اس کتاب کا اثر مجھ پر وقت کے ساتھ گہرا ہی ہوتا گیا۔

اس کی وجہ آگہی اور تجربہ کا وہ سفر ہے جو میں نے امریکا میں رہتے ہوئے طے کیا۔ مایا اینجلو نے کل سات سوانح عمریاں لکھی ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے جو کہ ان کی تین سے سترہ سال کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔

یہ کتاب 1969میں شایع ہوئی، اس کی اشاعت نے امریکی سماج میں ایک تہلکہ مچادیا تھا۔ گو کچھ بک اسٹالز نے اس کتاب کو ان کی جرأتمندانہ سچائی کے اظہار کے باعث رکھنے سے انکار کردیا۔ مگر اس کے باوجود بھی یہ کتاب اس وقت لاکھوں کی تعداد میں بکی اور آج بھی اسی طرح مقبول ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اکثریتی سفید نژاد حاکمیت کے حامل معاشرہ میں پہلی بار ایک ایفرو امریکی نسل کی عورت نے نہ صرف نسل اور صنفی تفریق کی بنیاد پر رکھے معاشرے کو کھل کر بیان کیا بلکہ ایک ایسے واقعہ کو بھی لکھا جس کا اظہار سماج میں معیوب سمجھا جاتا تھا یعنی جنسی تشدد کا واقعہ۔ جس سے مایا اینجلو ساڑھے سات برس کی عمر میں اپنی ماں کے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں گزریں۔ اس واقعہ کا اثر اتنا بھرپور اور منفی تھا کہ اس کے بعد پانچ برس سے زیادہ عرصہ تک مایا اینجلو نے گفتگو نہ کی۔

آج می ٹو اور ٹائمز اَپ جیسی تحریکوں کا زمانہ ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں ٹویٹر ، فیس بک ، واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعہ خبریں ایک جگہ سے دوسری جگہ سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ جتنا بھی رد کیا جائے لیکن کمزور کی آواز کہیں نہ کہیں سنی جارہی ہے ، لیکن اگر ہم مایا اینجلو کی زندگی اس وقت کے امریکی سماج کے تناظر میں دیکھیں تو ان کے اظہار کی جرأتمندی کی داد دینی پڑے گی کہ کس طرح سادہ اور سلیس بیان سے انھوں نے دل کے کمرہ میں مقفل صدمہ کو صفحات پر منتقل کیا۔ جس نے لاکھوں کمزور لوگوں بالخصوص عورتوں کو سر اٹھا کر جینے اور اظہار کی جرأت کا سبق دیا ہے۔

مایا اینجلو نے اس کتاب کی اشاعت کے بعد کئی بار اس جنسی تشدد کے سبب ٹراما کے نفسیاتی دور رس اثرات کا ذکر کیا ہے۔ گو کہ یہ واحد ٹراما نہیں تھا جس سے وہ گزریں۔ ان کی زندگی بہت ہی چھوٹی سی عمر سے ٹراما کا شکار رہی ہے ، مگر ان صدمات نے انھیں عظیم ہستی بننے سے نہیں روکا۔ انھوں نے کئی زبانیں سیکھیں۔ امن اور صنفی اور نسلی تفریق کے خلاف کام کیا۔

پچاس اعزازی ڈگریاں اور بے شمار ایوارڈ حاصل کیے۔ بطور شاعرہ اور ادیبہ ہی نہیں بلکہ رقاصہ ، اداکارہ ، ہدایت کارہ ، گلوکارہ ، صحافی اور سماجی کارکن کے طور پر۔ گویا انھوں نے ایک زندگی میں کئی زندگیاں بسر کیں۔ تو آئیے ذرا ایک نظر مایا اینجلو کی زندگی میں جھانکتے ہیں جو جنسی تشدد ہی نہیں بلکہ نسلی ، معاشی اور سماجی تفریق اور ذاتی حالات کے سبب ٹراما سے بھرپور ہے۔

مایا اینجلو کی پیدائش 4 اپریل 1928کو سینٹ لوئیس (میسوری) میں ہوئی۔ اس کے والدین میلی جونسن اور ڈیویک ڈکسٹر نے اس کا نام مارگریٹا رکھا تھا جو ایک سال بڑے بھائی بیلی جونیئر نے پیار سے کچھ اس طرح بگاڑا کہ وہ مایا بن گئی۔

ابھی مایا تین اور بیلی چار برس کے تھے کہ ان کے والدین نے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا اور یوں دونوں بہن بھائی کو ان کی دادی اینی ہینڈرسن کے گھر یک طرفہ ٹکٹ خرید کے بھیج دیا۔ یہ مایا اوربیلی کی زندگی کا پہلا ٹراما تھا۔

اکیلے تن تنہا طویل سفر ، والدین کے بغیر۔ ماں باپ کا ننھی سی اولاد کو تیاگ دینا اور دادی کے پاس اسٹیمپس (آرکنساس) جوکہ امریکا کے جنوب میں واقع ہے بھیج دینا تکلیف دہ تجربہ تھا۔ اپنی دادی کے پاس پہنچ کر مایا کو یقین ہو چلا تھا کہ ان کے والدین زندہ نہیں۔ جب تک کرسمس والے دن ان کی طرف سے بھیجے ہوئے تحائف نہ ملے۔

والدین کا زندہ اور خوشحال ہونا مایا کے لیے احساس جرم کا سبب تھا کہ آخر انھوں نے کیوں چھوڑ دیا۔ ہم نے کیا غلط کیا تھا ، کیونکہ وہ اس جسمانی قربت میں بھی اپنے باپ کو تلاش کر رہی تھی ، جب کہ وہ کہہ رہا تھا کہ ’’ اگر تم نے کبھی بھی کسی کو بتایا تو میں بیلی کو مار ڈالوں گا۔‘‘

بیلی جونیئر مایا کا عزیز ترین بھائی ہی نہیں سب سے عزیز ترین دوست بھی تھا۔ وہ اس کو ہر بات بتاتی تھی لیکن اس کی جان کے خوف سے یہ راز نہ بتا سکی۔

حتیٰ کہ وہ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے اسپتال داخل ہوگئی۔ یہ بات تو ماں اور بیلی کو پتہ چل گئی کہ کیا ہوا ہے مگر کس نے کیا ، اس راز کو مایا نے فاش نہیں کیا ، لیکن جب بیلی نے یقین دلایا کہ وہ مجھے نہیں مارسکتا۔

میں اسے ایسا نہیں کرنے دوں گا تو مایا نے نام بتادیا۔ فری مین فوری طور پر پکڑے جاتے ہیں مگر ضمانت پہ ایک ہی دن میں رہا بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ مایا اینجلو کے مشتعل ماموں اسے قتل کردیتے ہیں۔

اس مسلسل کیفیت سے مایوس ہوکر وہ ایک بار پھر دادی کے پاس آرکنساس پہنچادی گئیں۔ یہاں ان کی ملاقات مسز فلاور سے ہوئی جو ایک تعلیم یافتہ ، محبتی ، ایلفرڈ امریکی خاتون تھیں۔ انھوں نے خاموش مایا کے اندر مطالعہ کے بیج بوئے۔

اپنے ایک انٹرویو میں مایا اینجلو نے بتایا کہ ان پانچ سالوں میں انھوں نے شیکسپیئر کے لکھے ڈرامے اور پچاس سو نیٹ زبانی یاد کر لیں۔ موپاساں ، بالزک ، ریڈیارڈ کپلنگ اور ایڈ گرایلن جیسے لکھنے والوں کی شاعری اَزبر کر لی۔

گوہر تاج کی کتاب کے بارے میں نبیلہ عصمت نے کیا خوب لکھا ہے کہ ’’ خاک سے کیمیا ہوئے لوگ ‘‘ ان لوگوں کی داستان ہے جن کی زندگیاں مسلسل محنت سے عبارت ہیں۔

گوہر کی درد مندی نے ایسے ایسے جواہر تلاش کیے جو اپنے میدان میں یکتا ہیں۔ گوہر کے جملوں کی بے ساختگی اور سادہ انداز بیاں ان کی تحریروں کو دلوں میں اتارتا چلا جاتا ہے۔

وہ رنگوں کے بجائے الفاظ سے تصویریں بناتی ہیں اور پھر ان میں حقیقت کے رنگ بھر دیتی ہیں۔ ان کی کہانیوں کے کردار جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔ مشرق و مغرب سے ان کرداروں کا انتخاب ان کے ذوق سلیمی کا عکاس ہے۔

بشکریہ ایکسپرس