179

سلسلے بشارتوں کے!

رام نوامی کی نسبت بھارت میں عید قدرے سکون سے گزری یعنی نہ تو کسی مسلمان کی لنچنگ ہوئی، نہ مسلمانوں کی املاک، مساجد ، لائبریریوں اور محلّوں کو آگ لگائی گئی۔ البتہ ہراساں کرنے واقعات بھی ہوئے اور اس بات پر گرفتاریاں بھی کہ چوک میں نماز عید کیوں ادا کی۔ بی جے پی کے لیڈر البتہ بدستور زہرافشانیاں کرتے رہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر ضرور پابندی لگائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ملازمتوں کا کوٹہ کئی صوبوں میں ختم کر دیا گیا ہے، اور سنگ پریوار کے لیڈر اعلانات کر رہے ہیں کہ باقی صوبوں میں بھی یہ کوٹہ ختم کرائیں گے۔ عدالتیں بھی تسلسل کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف فیصلے د ے رہی ہیں۔ گجرات میں درجنوں مسلمانوں کو زندہ جلا دینے والے گرفتار ملزموں کو عدالت نے بری کر دیا۔ ایک ملزم نے رہا ہوتے ہی انٹرویو دیا اور کہا کہ ہاں میں نے مسلمان زندہ بھی جلائے اور کاٹے بھی۔ اس نے کہا مسلمانوں کو کاٹنے اور جلانے میں بہت ”مجا“ آتا ہے۔ مزید کہا کہ مسلمان جہاں بھی ملے، چاہے عورت ہو، مچھر ہو یا بڈھا، سب کو کاٹ دو، ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ اس ”خطاب“ پر ابھی تک اس کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنا۔ 

ایک ہندو نوجوان نے ٹویٹر پر اپنے مسلمان دوستوں کو عید کی مبارک دی ۔ اسے دوسرے ہندوﺅں نے پکڑ لیا اور خوب مارا، معافی منگوا کر چھوڑا۔ 

وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بھارت کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تو وہاں جلوس نکل آئے۔ جگہ جگہ کراس کے نشان والے ان کے فوٹو والے پوسٹر لگا دئیے گئے۔

یہ ہے آج کا بھارت کانگرس کے بھارت میں ایسا کچھ کرنے والوں کو بالعموم ریاستی یا عدالتی سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ اب تو ریاست اور عدالت مسلمانوں کے خلاف ایک ہی پیج پر ہیں اور یہ پیج آر ایس ایس کی کاپی سے لیا گیا ہے۔ 

ایک نتیجہ الگ قسم کا البتہ ضرور نکلا ہے۔ نماز پڑھنے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں مسجدیں نہیں ہیں، وہاں لوگ گھروں میں باجماعت نماز پڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے تبلیغی اور دعوتی اجتماعات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ نیز مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے والے لوگوں کی گنتی بھی بڑھی ہے، بھلے ہی میڈیا پر انہیں نہیں دکھایا جاتا۔ 

_______________

سیالکوٹ میں دعویٰ نبوت کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ چند دن پہلے فیصل آباد میں بھی نبوت کا دعویٰ کرنے والی دو عورتیں پکڑی گئیں۔ 

اخبارات کے ”آرکائیو“ میں جائیں تو پھر دوچار مہینوں بعد کوئی نہ کوئی ایسا دعویٰ کرنے والا سامنے آتا رہا ہے۔ اکثر کا تھانے جا کر مزاج بدل جاتا ہے اور وہ دعوے سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ ”سوال البتہ قابل غور ہے کہ نبوت اور مہدویت کے دعوے کرنے والے صرف پاکستان ہی میں کیوں، اور وہ بھی اس کثرت سے نمودار ہوتے ہیں۔ دنیا کے کسی اور مسلمان ملک، یہاں تک کہ پڑوسی ملک بھارت جہاں لگ بھگ 24 کروڑ مسلمان آباد ہیں، سے ایسی کوئی خبر کیوں نہیں آتی۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے دعوے کرنے والے دماغی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن ایسا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ دماغی مرض صرف پاکستان ہی میں کیوں پھیلا ہوا ہے۔ 

بعض کا خیال تھا کہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کا وہ حصہ بھارتی پنجاب میں رہ گیا جہاں اس مرض کی ابتدا ہوئی تھی لیکن لگتا ہے، دماغی مرض کے ”جرثومے“ وہاں سے فضائی راستے کے ذریعے اِدھر آ گئے۔ دوسرے مسلمان ملکوں میں پاکستان کا مذاق اڑتا رہتا ہے۔ ماجرا پراسرار ہے۔ دعویٰ کرنے والے کئی تو ایسے بھی نکلے کہ ہزاروں ان کے پرستار ہو گئے۔ ایسے دعوے کرنے والے دو افراد لندن میں پناہ لئے بیٹھے ہیں اور وہاں سے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کوئی گوہر شاہی کا نام رکھتے ہیں۔ ان کے والد نے نبوت اور مہدویت کا دعویٰ کیا، سینکڑوں ان پر ایمان لائے، پولیس نے کارروائی کی تو بھاگ کر لندن چلے گئے اور اعلان کیا کہ فلاں تاریخ کو وہ پاکستان فتح کر لیں گے لیکن اس تاریخ سے پہلے ہی یہ پرلوک سدھار گئے۔ اب ان کا صاحبزادہ، لندن میں بیٹھ کر پاکستانی افواج کے خلاف رات دن زہر افشانی کرتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ پاک فوج نہ ہوتی تو اس کے بابا کی نبوت کامیاب ہو جاتی۔ یہ صاحبزادہ خود کو الگوہر شاہی کہلواتا ہے اور پاکستان میں حقیقی آزادی کی جنگ کا پُرجوش حامی ہے۔ عدیل راجہ اور حیدر مہدی سے اس کی خوب گاڑھی چھنتی ہے۔ 

یہ جرثومہ کچھ سیاستدانوں میں بھی ہے۔ 2014ءکے دھرنے میں ایک مولوی صاحب ہر شام اپنے عقیدت مندوں سے خطاب کرتے اور بتاتے کہ رات بشارت ہوئی ہے، آسمانوں سے پیغام ملا ہے کہ فلاں تاریخ تک حکومت ختم ہو جائے گی۔ آئے روز بشارتیں آتیں اور تاریخ میں توسیع کرتی رہتیں۔ حکومت نہ بدلی۔ ایک روز بتایا، رات بشارت ہوئی ہے کہ کل مجھے شہید کر دیا جائے گا۔ اوپر سے آنے والی بشارت میں کفن سلوانے کا حکم بھی تھا۔ شہادت کی تاریخ بھی آ کر گزر گئی، موصوف شہید نہیں ہوئے بلکہ سمندر پار کسی ملک چلے گئے۔ کافی عرصے سے بشارتوں کا باب بند ہے۔ 

ایک اور صاحب نے بتایا کہ ان کی 22 سال تک اللہ تعالیٰ نے اسی طرح تربیت کی جیسے چودہ سو سال قبل نبی آخر الزماں کی کی تھی۔ 

پھر انہیں غالباً کسی بشارت ہی کے ذریعے بتایا گیا کہ تم صاحب امربالمعروف ہو اور جو تمہیں نہیں مانے گا، قبر میں اس کا حساب سب سے پہلے اسی سوال سے شروع ہو گا کہ تمہیں کیوں نہیں مانا۔ یہ بشارت بھی ان کے ایک ساتھی پر ہوئی کہ ان کا خطاب سننا لیلتہ القدر سے افضل ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ چند ماہ سے بشارتوں کا یہ باب بھی بند ہے۔ 

یہ سب اس سچائی کے باعث ہے کہ گورداسپور بھارت ہی میں رہ گیا، سوچو اگر گورداس پور کا ضلع پاکستان میں شامل ہو جاتا تو کیا ہوتا؟۔ 

_______________

سیاسی بشارتوں کی تاریخ لکھی جائے گی تو قبلہ شیخ رشید لال حویلی والے کے ذکر کے بغیر نامکمل رہے گی۔ ان پر بشارتوں کا سلسلہ شروع ہوئے تین عشرے گزر چکے۔ ایک سال سے ان پر پے درپے بشارتیں نازل ہوتی رہیں کہ خانہ جنگی ہو گی، سڑکوں پر خون کے نالے بہیںگے، انارکی پھیلے گی، ملک دیوالیہ ہو گا، پھر شیخ بچہ راج کرے گا اور کرے نہ کو۔ لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ مہینے بھر سے یہ سلسلہ بھی بند ہوا، آج کل بلاول بھٹو کو گالیاں دینے پر گزرا ہے۔ سُنا ہے، باب بشارت بند ہونے کے بعد سے ذہنی دباﺅ کا شکار ہے، اپنے فارم ہاﺅس میں اکثر درختوں کو ٹکڑیں مارتے دیکھے گئے ہیں۔ 

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز