179

روٹی کے چار حرف

پہلے ایک حکایت سنئیے جو بظاہر لطیفہ لگتی ہے لیکن اس لطیفے کے اندر بہت سے حقیقے بیان کیے گئے ہیں۔ پرانی حکایتوں اورلطیفوں میں یہی خوبی ہوتی تھی جسے اصطلاح میں سمندر کوکوزے میں بند کرناکہتے ہیں، ویسے آج کل کے دانا دانشور اس کا بالکل الٹ کرتے ہیں یعنی کوزے کو سمندرمیں پھینک دیتے ہیں۔

اس حکایت کے مطابق ایک مرتبہ جسم کے اعضا آنکھوں، کانوں، ہاتھوں، پیروں وغیرہ نے آپس میں مینٹگ کی کہ ساری محنت ہم کرتے ہیں اور یہ پیٹ آرام سے پڑا رہتا ہے اور ہماری محنت ہڑپتا رہتاہے چنانچہ سب نے پاکستانی ہوکر کام چھوڑ ہڑتال کردی اور پیٹ کو کچھ بھی نہ دیا۔

سب انتظار میں تھے کہ پیٹ کو لگ پتہ جائے گا لیکن پیٹ کو تو کچھ بھی نہیں ہوا البتہ وہ سب خود کمزوری محسوس کرنے لگے اور کمزور ہوتے ہوتے اس حال کو پہنچے کہ کسی میں ہلنے جلنے کی طاقت نہیں رہی، تب ان کی سمجھ میں آگیا کہ ہم سب کی طاقت کا سرچشمہ تو پیٹ ہی ہے اور ہم اصل  میں پیٹ کو نہیں بلکہ خود کوکھلاتے ہیں۔

انسان کو اپنے دماغ پر بہت غرور ہے اور ہروقت مونچھوں کو تاؤ دیتارہتاہے کہ ہم چو من دگرے نیست۔۔لیکن اس کا یہ دماغ بھی ان ہی اعضا میں سے ہے جن کا انحصار پیٹ پر ہے اور پیٹ کا انحصار جن چیزوں پرہے، وہ زمین دیتی ہے۔ نوع انسانی میں روز اول سے دوگروہ موجود رہے ہیں، ایک وہ جن کی خوراک نباتات کی صورت میں زمین سے تھی اور دوسرے وہ جن کاانحصار جانور پر رہا ہے یعنی ایک زراعت کار اوردوسرے مویشی پال یا چوپالی کرنے والے لیکن دیکھا جائے تو جانورکا بھی انحصار زمین پر ہوتاہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا سارا دارو مدار زمین پر ہوتاہے، اسی لیے ہمیشہ انسان نے زمین کو ماں کہا اورسمجھا ہے،یہ باقی جو کچھ انسان نے اب تک بنایا ہے، ایجاد کیا ہے، دریافت کیا ہے، اس کا بھی اول وآخر تعلق زمین ہی سے ہوتا ہے۔

یوں ہم انسان کو بنانے والا (جاعل) تو کہہ سکتے ہیں لیکن ’’پیدا‘‘ کرنے والا یعنی خالق نہیں کہہ سکتے۔خالق وہ ہوتاہے جو کسی چیزکو ’’نیست‘‘ سے ’’است‘‘ کرتا ہے اور جاعل وہ جو کسی موجود چیزکو نئی شکل وصورت دیتا ہے، حقیقی معنی میں تو زمین بھی خالق نہیں کہ وہ خود بھی مخلوق ہے،اصل خالق کوئی اورہے لیکن ہماری بحت ’’برسرزمین‘‘ چیزوں سے ہے اورپھر ان زمینی مخلوقات میں سرفہرست انسان ہے جوخود کو بہت بڑی چیز سمجھتاہے لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اگر دیکھا جائے تو انسان وہ مخلوق ہے جس نے اپنی دھرتی ماں سے ’’لیا‘‘ تو بہت کچھ ہے، آج اس کے پاس جو کچھ بھی ہے جس پر وہ بہت نازاں ہے اورخود کوخود ہی اشرف المخلوقات کا نام بھی دیے ہوئے ہیں لیکن اپنی ماں زمین کے لیے یہ سب سے بری مخلوق ہے۔ یہ جہاں بھی گیاہے یاجاتاہے تو زمین کو نقصان ہی پہنچتاہے۔

اسے کھودتا،کاٹتاہے، گندہ کرتاہے ،اس پر تباہیاں پھیلاتاہے بلکہ اس کے سینے پر اس کی اولادوں کاخون بہاتاہے لیکن اصل مسئلہ جو اس کے سر پر کھڑا ہونے والاہے، یہ ہے کہ اگر یہ اسی طرح زمین کو برباد کرتارہا تو وہ دن یقینی طورپر آنے والاہے جب اس کا پیٹ بھرنے کے لیے ’’زمین‘‘ نہیں بچے گی یا خوراک دینے سے قاصر ہوجائے گی۔

’’تعمیرات ‘‘ کے نام سے یہ جو تباہیاں زمین پر لا رہاہے، اس کے پیش نظر وہ دن سامنے صاف صاف دکھائی دے رہاہے جب زمین اس کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہوجائے گی تو یہ اپنا پیٹ کس چیز سے بھرے گا کیوں کہ ابھی تک اس نے جو بھی فتوحات حاصل کی ہیں، کرنسیاں، مشین، ایجادیں، ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہے جو روٹی کی جگہ لے کر اس کاپیٹ بھر سکے۔

چلیے ایک دو صدیاں اوربھی دے لیجیے لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ یہ روٹی کا متبادل ’’پیدا‘‘ کرسکے، بلکہ گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو اس نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیاہے،یہ جو کچھ بھی اپنے نام کیے ہوئے ہے، وہ بھی روٹی نے کیاہے، اگر سکندر کا ،آئن اسٹائن کا اور اس طرح کے دوسرے بڑے بڑوں کا پیٹ خالی ہوتا؟ اگر ان کے پیٹ میں روٹی نہ ہوتی تو وہ تو خود اپنے آپ حرکت کرنے کے قابل بھی نہ ہوتے، مطلب یہ کہ کسی نے سچ کہاہے کہ ۔

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر ہم وہیں پہنچنے والے ہیں جہاں سے چلے ہیں جب زمین خوراک دینے سے قاصر ہوجائے گی تو انسان کھائے گا کیا ؟ کچھ عرصہ تو جانوروں پر گزارہ کرلے گا ؟ لیکن پھر ؟ پھر تو خوراک صرف ایک جگہ ملے گی اور وہ ہے یہ ’’خود‘‘ بھوک کی انتہا میں یہ سب کچھ بیکار ثابت ہوگا اور وہ ایک دوسرے کو یاخود کو کھانے پر مجبورہوگا۔ انتظار کیجیے ۔

بشکریہ ایکسپرس