86

پرو گریسیو رائٹرز موومنٹ

تحریک انصاف کی قیادت اور لیڈروں کی ’’بہادری‘‘ دیکھ کر دل اداس ہے۔ بہادر دشمن کے ساتھ لڑائی کا مزا ہوتا ہے ‘یہاں تو زمان پارک ہی خالی ہوگیا۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر ہمارے کالم نویس اور دانشور بہت اچھے اور بروقت کالم لکھ رہے ہیں‘اس لیے میں نے سوچا کہ آج کے کالم میں ترقی پسند تحریک کی تاریخ پر نظرڈالی جائے ‘اس ’’یاد ماضی‘‘ کے عنوان سے میں نے ترقی پسند مصنفین کی ادبی تحریک  (Progressive Writers Movement-PWM)کے بارے میں لکھا ہے۔ مزیدار امر یہ ہے کہ پہلے میں نے مصنوعی ذہانت (AI-GTP) کو اس پر کچھ لکھنے کا کمانڈ دیا‘ پہلا پیراگراف(AI)کا لکھا ہوا ہے جو معلومات سے بھرپور اور بہترین انداز میں لکھا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے لکھا گیا پیراگراف ۔

’’ترقی پسند مصنفین کی تحریک ایک ادبی تحریک تھی ‘جو 1930کی دہائی میں برصغیر پاک و ہند میں ابھری ‘یہ تحر یک سوشلزم اور کمیونزم کے نظریات سے متاثر تھی اور اس کے ارکان نے سماجی تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے ادب کو استعمال کرنے کی کو شش کی ‘یہ تحریک خاص طور پر اردو اور ہندی میں سرگرم تھی۔ لیکن برصغیر کی دیگر زبانوں ‘جیسے بنگالی‘ پنجابی اور مراٹھی وغیرہ پر بھی اس کا خاصا اثر پڑا۔

پراگریسیو رائٹرز مومنٹ کی بنیاد 1936میں سجاد ظہیر‘ احمد علی اور فیض احمد فیض سمیت ادیبوں اور دانشوروں کے ایک گروپ نے رکھی تھی‘ تحریک کے منشور میں ایسے ادب کا مطالبہ کیا گیا‘ جو ترقی پسند‘ حقیقت پسند اور سماجی تبدیلی کے لیے پرعزم ہو‘تحریک کے ارکان نے غربت‘ جبر‘ اور آزادی کی جدوجہد سمیت بہت سے موضوعات کے بارے میں لکھا۔

انھوں نے سماجی انصاف اور مساوات کی ضرورت کے بارے میں بھی لکھا‘ ترقی پسند مصنفین کی تحریک نے برصغیر پاک و ہند کے ادبی منظر نامے پر نمایاںاثر ڈالا‘تحریک کے ارکان نے ایک ایسا کام تیار کیا جو سیاسی طور پر مصروف اور جمالیاتی طور پر اختراعی تھا ‘اس تحریک نے سماجی مسائل کے بارے میںبیداری پیدا کرنے اور ایک زیادہ ترقی پسند عالمی نظریہ کو فروغ دینے میں بھی مدد کی ‘ترقی پسند مصنفین کی تحریک 1950کی دہائی میںختم ہو گئی لیکن اس کی میراث برصغیر پاک و ہند کے ادب کو تشکیل دیتی ہے۔

تحریک کے ارکان نے ایک ا یساکام تیار کیا‘جس کو آج بھی پڑھا اور سراہا جاتا ہے اور ان کے خیالات لکھنے والوں کی نئی نسل کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ترقی پسند مصنفین کی تحریک سے وابستہ چند قابل ذکرادیب یہ ہیں۔سجاد ظہیر‘احمد علی‘فیض احمد فیض‘ منٹو‘عصمت چغتائی‘کرشن چندر‘راجندر سنگھ بیدی‘ملک راج آنند‘خشونت سنگھ۔امرتا پریتم۔یہ تحریک برصغیر پاک و ہند کے ادبی منظر نامے میں ایک اہم قوت تھی‘ تحریک کے ارکان نے ایک ایسا ورثہ چھوڑا ہے کہ ‘جسے آج بھی پڑھا اور سراہا جاتا ہے اور ان کے خیالات لکھنے والوںکی نئی نسل کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

یہ تو مصنوعی ذہانت کا اس تحریک کے بارے میں مضمون تھا ۔اب اپنی تحریر ۔

ہندوپاک میں کلاسیکی ادب کا زور تھا۔ہر طرف گل بکاؤلی‘داستان امیر حمزہ ‘عمر و عیار ‘سیف الملوک بدری جمال ‘لیلی مجنون ‘شیرین فرہاد ‘ہیر رانجھا ‘سوہنی مہینوال‘لٹ گیا تیرا شہر رنبھوروالے سسی پنوں ‘کہ قاف کے ‘دیووں‘جنات اور پریوں کی کہانیاںاور الف لیلے کی کتابیںپڑھی جاتی تھیں‘اس ادب کاعوام کے مشکلات اور مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس دوران ہندوستان سے ابھرنے والی سب سے اہم ادبی تحریکوں میں ایک ‘آل انڈیا پروگریسیو رائٹرز مومنٹ (AIPWM)کی جڑیں سیاسی انقلاب میں تھیں‘جس نے 1917میں سوویت یونین (United Socialist Soviets Republics-USSR)۔کی تشکیل اور اس کے استحکام میں مدد دی ۔اگر چہ (AIPWM)نے اپنے پیچھے ایک بھرپور ادبی میراث چھوڑی ہے ‘جس کا مقصد ہندوستان میں لوگوں کے مختلف مصائب کو منظر عام پر لانا تھالیکن یہ اپنے قیام کے فوری بعد بعض طبقوں کی طرف سے متنازعہ بنا دیا گیا۔

اس تحریک پر الزام لگایا گیا کہ سوویت یونین کی حمایت یافتہ مارکسی ایجنڈے کو آگے بڑھا نے کے لیے ایک عام آدمی کی حالت زار کو استعمال کیا جا رہا ہے ‘حالانکہ اس تحریک کا مقصد ادب کو لایعنی کہانیوں سے نکال کر عوام کے مسائل‘آزادی اور حریت کے لیے استعمال کرنا تھا۔

20ویں صدی کے اوائل میں ایک نظریاتی عمل انگیز کے ہوتے ہوئے ‘سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے اپنی تمام موجودہ ادبی تنظیموں کو ضم کر کے یو ایس ایس آرکی رائٹرز یونین تشکیل دی ‘جیسا کہ اس نے سوویت ادب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ‘رائٹرز یونین نے فکشن پر اثر انداز ہوکر اور اس کو عوام میں تقسیم کمیونسٹ نظریے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سوویت افسانے دنیا کے دوسرے حصوں میں مقبول ہوئے‘ہر جگہ پر میکسم گورکی‘چیخوف‘ٹالسٹائی کے لکھے گئے ناولوں اور کہانیوں کا چرچا تھا ۔ان تحریروں نے برصغیر کے ادب کو بھی متاثرکیا۔

رائٹرز یونین کے قیام کے چند سال بعد‘ہندوستان کے سوشلسٹ دانشوروں نے‘جواس وقت پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے ‘مل کر لکھنو میں پہلی ’’آل انڈیا پروگریسیو رائٹرز کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا ۔ میٹنگ کی قیادت اردو کے معروف ادیب سجاد ظہیر نے کی اور صدارتی خطبہ کسی اور نے نہیںبلکہ جواہر لعل نہرو نے دیا ۔

1930کی دہائی میں لکھنو ‘جوش بھری انقلابی آوازوں کا مرکز تھا ‘ کانفرنس سے چار سال پہلے‘اردو میں نو مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ اور ایک ڈرامہ ’’انگارے ‘‘شایع ہوا تھا ‘جنھیں چار مصنفین ‘راشد جہاں‘ احمدعلی‘محمود الظفر‘اور سجاد ظہیر نے تصنیف کیا تھا۔

اس کتاب کو اتنا متنازعہ سمجھا جاتا تھاکہ اس کی اشاعت کے چار مہینے کے بعد اس پر پابندی لگادی گئی اور مصنفین کو فرقہ وارانہ جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام لکھنو میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا‘جب انگارے کی کاپیاں ادب میں ابھرتی ہوئی لبرل ازم کے خلاف عوامی مظاہرے میں جلادی گئیں‘احمد علی انگارے کو ’’نوجوانوں کی طرف سے اعلان جنگ‘‘کہنے لگا۔(باقی باتیں آیندہ کالم میں )

بشکریہ ایکسپرس