ٹاسک فورس برائے گندھارا سیاحت

میں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تشکیل کردہ گندھارا ٹورازم ٹاسک فورس کے سربراہ کے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کے روز بتاریخ 26مئی کو اسلام آباد میوزیم میںہمارے خطے میں جنم لینے والے امن کے پیامبرگوتم بدھا کی سالگرہ منائی جائے، میں نے بطورپی ایم ٹاسک فورس چیئرمین رواں ہفتے منگل کو اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اظہارِ خیال کیا کہ موجودہ پاکستان کی سرزمین برصغیر کے دھارمک مذاہب بشمول بدھ مت، ہندودھرم، جین مت کے پیروکاروں کیلئے پوتر دھرتی (مقدس سرزمین)ہے،ہمار ے وطن میں واقع شمالی علاقے کی دوہزار سالہ سے زائد قدیم گندھارا تہذیب بدھ مت کے عظیم الشان ماضی کی آئینہ دار ہے جس کی جڑیں پہلی صدی عیسوی سے ساتویں صدی تک جاملتی ہیں،تاہم گندھارا تہذیب کو صرف بدھ مت تک ہی محدود نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اس زمانے میںدیگر مذاہب ہندو دھرم اور جین مت کے ماننے والوں کوبھی مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی، گندھارا دور ہمارے معاشرے کے روایتی تحمل و برداشت، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان کے تاریخی شہر ٹیکسلا سے سوات، گلگت بلتستان تک جابجا بدھ مت کے مقدس اسٹوپے اور مذہبی مقامات موجود ہیں۔میرے اِس موقف کی تمام ممبران نے تائید کی کہ ٹاسک فورس برائے گندھارا ٹورازم ہنگامی بنیادوں پر بُدھا سیاحت پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے فوری روڈ میپ پیش کرے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گندھارا دور میں قائم کردہ تاریخی مقدس مقامات کی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر قائل کیا جاسکے۔میں نے اپنے ہفتہ وار کالم بعنوان" بُدھا جنم دن مبارک۔۔۔!" بتاریخ 8اپریل 2021ء میںگوتم بدھا کو خراج ِ تحسین پیش کیا تھا کہ آج سے لگ بھگ ڈھائی ہزار سال قبل ہمارے خطے میں ہمالیہ کی ایک ریاست کے شاہی گھرانے میںایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی تھی جسکی پیدائش پر نجومیوں نے پیش گوئی کی کہ یہ بچہ یا تو بڑا ہوکر بہت بڑا بادشاہ بنے گا یا بہت بڑا سادھو، اسکا نام رہتی دنیا تک ادب و احترام سے لیا جائے گا۔ شہزادہ سدھارتھ نامی یہ بچہ تاریخ میں گوتم بدھا کے نام سے مشہور ہواجس نے آرام و آرائش کوہمیشہ کیلئے خیربادکہہ کر زندگی کے اصل مقصدکو کھوجنے کی خاطربدھ مت کی بنیاد رکھی، عمومی طور پر گوتم بدھ کی تاریخ پیدائش ایشیائی شمسی قمری تقویم سے طے کی گئی ہے جو گریگوری کیلنڈر کے مطابق اپریل یا مئی میں بدل بدل کر آتی ہے۔ ایشیاکے بیشتربدھ اکثریتی ممالک بشمول نیپال، جاپان، کوریا، منگولیا وغیرہ میں بدھا کا جنم دن منایا جاتا ہے،اِن ممالک کے بدھ سیاحوں کی بڑی تعداد پاکستان میں واقع گندھارا تہذیب کے آثار کی یاترا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، اسی طرح روس، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور مغربی ممالک میں بھی مقیم بدھا کے پیروکاروں کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں صدیوں سے قائم بدھا سے منسوب اسٹوپا اور دیگر مقدس مقامات پر حاضری دیں۔مجھے دوران اجلاس یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ پی ٹی ڈی سی نے ملک بھر میں گندھارادور کے 38مقامات کی شناخت کا عمل کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ،عام طور پر گندھارا تہذیب کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے نتھی کیا جاتا ہے لیکن پی ٹی ڈی سی کے فراہم کردہ نقشے سے دستیاب معلومات خود میرے لئے حیران کُن تھیں کہ بدھا کے مقدس اسٹوپے صوبہ سندھ میں بھی موجود ہیں،پاکستان اور پڑوسی دوست ملک چین کو زمینی راستے سے قریب لانے کیلئے شاہراہ قراقرم کو دورِ جدید کا ایک عجوبہ سمجھا جاتا ہے، ہمالیہ کے پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنانے کیلئے دونوں ممالک کے بے شمار کارکنوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا، صدیوں سے ہمالیہ کے بلند وبالا پہاڑوںاور سنگلاخ چٹانوںکے درمیان موجود راستوںسے مسافر گزرتے رہے ہیں ، یہاں گوتم بدھا سے اظہار عقیدت کیلئے پتھریلی چٹانوں پر قدیم رسم الخط میں تحریری اور تصویری صورت میں مختلف نقائش جابجا کنندہ ہیں،گلگت بلتستان کی پچاس فٹ بلند چٹان پرساتویں صدی میں تراشا گیا کارگا ہ بُدھا دنیا بھر کے بدھ پیروکاروں کیلئے مقام ِ عقیدت ہے، میری نظر میں گندھارا سیاحت کو فروغ دینے کیلئے قراقرم ہائی وے پر راک آرٹ ٹورازم (پہاڑی چٹانوں پر کنندہ آرٹ کی سیاحت)بلاشبہ ایک منفرد آئیڈیا ہے۔ اگر ہم گندھارا کے مقدس قدیم ورثے کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تونہ صرف پاکستان عالمی سیاحوں کی نظر میں ایک پرکشش سیاحتی ملک بن سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرے میں پنپتی شدت پسندی کا بھی خاتمہ کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے پی ایم ٹاسک فورس نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ جمعے کو اسلام آباد میوزیم میں امن کا پیغام عام کرنے والے گوتم بدھا کی سالگرہ شایان شان طریقے سے منائی جائے گی جس میں شرکت کیلئے دوست ممالک کے ڈپلومیٹس، اسٹوڈنٹس، سول سوسائٹی ، میڈیا نمائندگان، گندھارا آرٹ شائقین اور بُدھا کے چاہنے والوں کو عام دعوت ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج