666

الیکٹ ایبلز، پاکستانی سیاست کو سمجھنے والے سائنس دان

2018 عمران خان کے وہ دو رنگے پارٹی سکارف تو یاد ہوں گے جو جہانگیر ترین کے طیارے میں بیٹھ کر آنے والے الیکٹ ایبلز کو پہنائے جاتے تھے۔ مجھ سے پوچھیں تو فروری کے عام انتخابات جمہوریت کی پرانی لاش پہ پوسٹ مارٹم کے بعد نیا کفن چڑھا دینے کی رسم لگتی ہے۔ لیکن چلیں گیانی دھیانی لوگوں کی بات مان لیتے ہیں کہ بدترین جموریت بھی آمریت سے بہتر ہے، یوں بہرحال ہم نظامِ جمہوریت سے جیسے تیسے چمٹے رہیں بہتر ہے۔ 2018 عمران خان کے وہ دو رنگے پارٹی سکارف تو یاد ہوں گے جو جہانگیر ترین کے طیارے میں بیٹھ کر آنے والے الیکٹ ایبلز کو پہنائے جاتے تھے اور پارٹی کے نظریاتی کارکن ترین کے طیارے کو اپنی آستین سے چمکاتے ہی رہ گئے۔ کچھ ایسا ہی وقت ن لیگی کارکنوں پہ بھی در آیا ہے کہ نواز شریف نے الیکٹبلز پہ دروازے کھول دیے ہیں۔ انتخابات میں ہارنے کے لیے تو کوئی آتا نہیں، اور جیتنے کا واحد مقصد حکومت بنانا ہوتا ہے۔ جیتنے کو تو جماعت اسلامی والے بھی جیت جاتے ہیں لیکن وہ حکومت بنانے کی پوزیشن نہیں ہوتی۔ پوزیشن تب بنتی ہے جب نمبر گیم پوری ہو اور یہی وہ نمبر گیم ہے جسے الیکٹ ایبلز اپنی شرائط پہ کھیلتے ہیں۔ اب یہ الیکٹ ایبلز کون ہیں؟ الیکٹ ایبل یعنی وہ جو انتخابات میں منتخب ہونے کی ضمانت رکھتے ہیں۔ اقتدار کی میوزیکل چیئر کے سب سے پھرتیلے کھلاڑی اور بقول پروفیسر طاہر نعیم ملک پاکستانی سیاست کی سائنس کو سمجھنے والے اور میرے مطابق سائنس دان، الیکٹ ایبلز ایوانوں میں جعلی انتخابات سے نہیں اپنے حلقے کے ووٹ سے آتے ہیں۔ انہیں سیاسی جماعت، نظریے یا انقلابی نعرے کی وجہ سے نہیں، خاندان، قبیلہ، ذات، برادری، پیر کی گدی اور جاگیرداری کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں۔ انہیں لوٹا کہیں آپ کی مرضی، جمہوریت کے نام پہ دھبہ کہیں، چاہے تو انہیں سیاست کی تھالی کے بینگن پکاریں لیکن یہ پاکستانی سیاست کی سائنس کو سمجھنے والے وہ سائنس دان ہیں جن کا فارمولا کئی نسلوں سے کامیاب جا رہا ہے۔ بلوچستان میں بعض ’الیکٹ ایبلز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب‘ اگر انتخابات جیتے تو وزیراعظم نواز شریف ہوں گے: اعظم نذیر تارڑ نواز شریف کی واپسی کے بعد جاتی امرا میں سیاسی سرگرمیاں بحال ایسے فیصلے کریں جن سے میرے، مریم کے لیے سیاست آسان ہو: بلاول مجھ سمیت پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والوں کو شاید گدی، ذات، برادری کے ووٹ بینک کو سمجھنے میں دشواری ہو۔ کئی سیاسی تجزیہ نگار اس موضوع پہ کتابیں لکھ چکے۔ چونکہ ہم اسے پاکستانی سیاست کی سائنس قرار دے رہے ہیں اس لیے اکیڈیمک سکالر ماہر قانون و سماجیات اسامہ خاور گھمن کی رہنمائی لی جو لمز یونیورسٹی لاہور میں وفاقی و مقامی نظام حکومت پڑھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کے مطابق سیاست میں الیکٹ ایبلز کا اس قدر مضبوط کردار ابھی حال کی پیداوار ہے۔ برصغیر میں بااثر افراد، روحانی سلسلے یا خاندان ہمیشہ سے تھے۔ پاکستان بنا تو جمہوری نظام میں الیکٹ ایبلز کی ملاوٹ کا پہلا کامیاب تجربہ ایوب خان نے کیا، لیکن الیکٹ ایبلز کو مرکزی سیاست کی راہ ضیا الحق نے دکھائی جنہیں غیر جماعتی نظام کے تحت اقتدار میں حصے دار بنایا۔ الیکٹ ایبلز اپنے ووٹرز کو سیاسی جدوجہد نہیں اقتدار کا وعدہ بیچتے ہیں۔ ان الیکٹ ایبلز کے پاس کھیلنے کے کئی کارڈز ہوتے ہیں، ہر کارڈ ان کی اقتدار کے ایوان میں لینڈنگ کو یقینی بناتا ہے۔ مثلاً: روحانی کارڈ: یہ کئی الیکٹ ایبلز کے پاس ہے۔ اگربتی و لوبان کی دھونی سے دھندلائے ماحول میں، اپنے جد کی قبر کے قریب لگی سرخ سنہری گدی پہ بیٹھے، ووٹر کے ہاتھ پہ دھاگہ باندھتے یہ روحانی الیکٹ ایبلز اپنے ووٹر کے سر پہ مور کے پنکھ کی جھاڑو پھیرتے ہیں اور پورے خاندان کا ووٹ پکا کرلیتے ہیں۔ سجادہ نشین جیسے پگاڑے، مخدوم، شاہ، سید، قریشی، بخاری، گیلانی وغیرہ کو پیری کی گدی سے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لیے کسی نظریئے کی ضرورت نہیں۔ زمینداری، جاگیرداری کارڈ: پنجاب سندھ اور بلوچستان میں کئی کئی ایکڑ رقبے پہ پھیلی قابل کاشت زمینیوں پہ کئی دہائیوں سے بیٹھے زمین دار خاندان اپنا الگ ہی پاکستان چلاتے ہیں، یہ انگریز کے زمانے سے اشرافیہ کا حصہ ہیں۔ ان کی زمین پہ اگنے والی فصل کا پھل اور مزارعوں کی نسل ان کی دسترس میں ہے۔ وہ لاکھوں افراد جن کی روزی، روٹی، زندگی جاگیردار کی زمین سے بندھی ہے مجال نہیں کہ وہ ان کے سوا کسی کو ووٹ دیں۔ ذات، برادری کارڈ: الیکٹ ایبلز کا کارآمد ہتھیار اپنی ذات برادری کا استعمال ہے۔ دیہاتی علاقوں میں برادریوں کے لوگ اکٹھ بنا کر رہتے ہیں۔ جاٹ، راجپوت، بٹ، شیخ، گجر، گھمن، ٹمن، اعوان، سلطان، میرپوری، لغاری، زرداری، مزاری، چیمے، چٹھے اور ایسی کئی سو اقسام، یہ سب ذات برادری کے نام پہ بنے وہ گروہ ہیں جن کے اندر بھی کئی دھڑے ہیں۔ اگر کرتا ہے تو پورے کا پورا دھڑا سپورٹ یا مخالفت کرتا ہے ۔ برادری کی حمایت یقینی یعنی حلقے سے جیت پکی، یہی نظریہ ہے یہی سیاست ہے۔ نظام جمہوریت کے ماہرین کہتے ہیں جمہوریت وہ فلٹر ہے جو کام کرتا رہے تو سسٹم کی برائیاں خود بخود نکال باہر کرتا ہے، یوں نئے اور ستھرےلوگوں کو نمائندگی کا موقع ملتا ہے۔ اب اپنا مسئلہ ذرا وکھرا ہے، یہاں ہر الیکشن نظریاتی طور پہ قلاش الیکٹ ایبلز کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر رہا ہے۔ الیکٹ ایبلز کا راستہ روکنے کا واحد اور دیرپا حل صرف اور صرف مقامی نظام حکومت ہے جو بغیر تعطل مسلسل چلتا رہے۔ یقیناً کئی رخنے ہوں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جمہور کی بالادستی کا سارا نشہ ہرن اور ہماری خام خیالی کافور ہو جائے کہ یہی الیکٹ ایبلز مقامی حکومتوں میں بھی تو موجود ہوتے ہیں۔ بالکل درست خدشہ ہے لیکن مقامی حکومت کا نظام عوام میں سے ایسے نمائندے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جنہیں ووٹ ان کی ذات، گدی یا برادری نہیں ان کی کارکردگی کی بنیاد پہ پڑے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز