339

سنیارٹی کا مرض

سنیارٹی کا مرض ایسا خوفناک اور تکلیف دہ ہے کہ اس کی شدت کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا جو اس کا شکار ہے،ایسے لوگ عمر بھر کرب سے گزرتے رہتے ہیں،وقت سے پہلے ہی شوگر اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں،ان کے پاس فیصلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی اور یہ انتہائی جذباتی لوگ ہوتے ہیں۔ان کے بارے ہمارے ایک مفکر دوست نے کہا تھا کہ ایسے لوگ عقل سے بھی پیدل ہوتے ہیں،ایسے لوگوں کو اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اپنی خدمات کی فہرست جیب میں رکھنی پڑتی ہے تاکہ ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔ کوئی شادی ہو یا جنازہ،یہ ہر جگہ پروٹوکول کے خواہش مند ہوتے ہیں،انھیں یہ خوش فہمی بھی ہوتی ہے کہ ان کی موجودگی ہی محفل کی جان ہے،اگر کسی محفل میں ایسے مریضوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ نہ صرف میزبان کو کوستے ہیں بلکہ مہمانوں کو بھی گالیاں دینے سے باز نہیں آتے،یہ ہر اس آدمی کو فارغ اور اندھا سمجھتے ہیں جو انھیں نظرانداز کرتا ہے،یہ گالیوں اور بددعائوں سے بھی باز نہیں آتے۔اس بیماری کا شکار لوگ اگرچہ ہر شعبے میں موجود ہیں مگر ادیبوں اور شاعروں میں یہ مرض بہت زیادہ دیکھا گیا،اس کی وجہ ایک تو ان کی حساسیت ہے مگر لازمی نہیں کہ ہر قلم کار حساس بھی ہو،ہم نے اس قبیلے میں انتہائی پتھر دل لوگ بھی دیکھے ہیں۔قلم کار کے لفظوں سے خوشبو آتی ہے،ان کی موجودگی محفل کی خوبصورتی کو دو چند کر دیتی ہے مگر ہم نے اس شعبے میں ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جن سے تعلق تو کیا، شناسائی بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔ ایسے قلم کار ہر تقریب میں جانے سے قبل تقریب کا دعوت نامہ اور مہمانوں کی فہرست ضرور دیکھتے ہیں،میزبان سے باقاعدہ پوچھتے ہیں کہ بھائی اس محفل کا صدر کون ہوگا،اگر صدر پر اعتراض نہ ہو تو مہمانوں کاپوچھتے ہیں اور پھر ساتھ ہی دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ’’دیکھیں بھائی اگر چہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ مجھے فلاں شخص کے بعد مائیک پر بلایئے گا،اگر ممکن ہو تو میری کرسی بھی اس سے نمایاں ہونی چاہیے اور ہاں دعوت نامے پر بھی میرا نام پہلے اور اس جونیئر اور کمزور شاعر کا نام بعد میں آنا چاہیے‘‘۔اگر میزبان یہ ساری شرائط مان لے تو اگلا تقاضا اعزازیے کا ہوتا ہے،’’دیکھیں اگر آپ اسے پندرہ ہزار دے رہے ہیں تو میرا بیس ہونا چاہیے،آخر میرے شعری مجموعے بھی تو زیادہ ہیں اور عمر میں بھی دو چار سال بڑا ہی ہوں‘‘۔اعزازیے پر اگر میزبان رضا مند نہ ہو تو یہ اس شرط پر تقریب میں جانے کی ہامی بھر لیتے ہیں کہ’’ میرا اعزازیہ کسی کو نہ بتایا جائے،میں یہی کہوں گا کہ بہت مناسب ملا ہے‘‘۔ہمارے ایک دوست ہر ماہ ایک آدھ تقریب کرواتے ہیں،ان کی تقریبات میں شہر بھر سے اہم قلم کار شریک ہوتے ہیں،ایک دن مجھے کہنے لگے کہ یار فلاں شاعر تو بہت ہی عجیب انسان ہے،میں نے جب وجہ دریافت کی تو کہنے لگے ایک مشاعرے میں سب شاعروں کا اعزازیہ برابر تھا،جب انھیں لفافہ دیا گیا تو لفافہ واپس کرتے ہوئے شور مچانے لگا،اس صاحب کے ہاتھ میں ایک کتاب بھی تھی جو کسی خاتون نے اس کی ادبی خدمات پر لکھی تھی،وہ یہ کتاب سامعین کو دکھاتے ہوئے بولا کہ دیکھیں میں کتنا عظیم قلم کار ہوں اور مجھے کس طرح ذلیل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح میں ایک صاحب کو جانتا ہوں جو مشاعرہ شروع ہونے سے قبل کمپیئر کے پاس جاتے ہیں اور تین چار لوگوں کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے ہر صورت ان کے بعد پڑھانا ہے،اگر ایسا نہ کیا تو میں مشاعرے کا بائیکاٹ کر دوں گا،کمپیئر اگر اس دھمکی کو نظر انداز کر دے تو وہ بے چارے منت ترلوں پر آ جاتے ہیں کہ پلیز بھائی میری عزت کا سوال ہے،لوگ کیا کہیں گے کہ یہ اپنے شہر کا نمائندہ شاعر ہے اور اس کی کوئی عزت نہیں۔ سنیارٹی کا مرض شاعروں میں ہی نہیں،افسانہ نگاروں اور دانش وروں میں بھی پایا جاتا ہے،ایسے لوگ کسی بھی تقریب یا کانفرنس میں موجود ہوں،ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انھیں درجن سے زائد القابات کے ساتھ مائیک پر بلایا جائے،اگر کبھی کسی دانش ور کے بارے کمپیئر سے کوئی کمی رہ جائے تو وہ دانشور صاحب خود اسٹیج پر آکر پہلے اپنا تعارف کرواتے ہیں اور پھر باقی گفتگو کرتے ہیں۔میں ایک ایسی ہستی کو بھی جانتا ہوں جو ہر تقریب میں اس بات پر گھنٹوں ضائع کرتے ہیں کہ مجھے میری خدمات کے برابر عزت و توقیر نہیں ملی۔ایک صاحب تو صبح و شام سوشل میڈیا پر اپنی خدمات گنواتے ہیں،اپنی غزلوں کی دھنیں بناتے ہیں،اپنے ایوارڈز گنواتے ہیں،اپنی ستر سے زائد کتب کی فہرست بتاتے ہوئے حکومت سے تقاضا کرتے ہیں کہ میرے علاوہ جسے بھی سرکاری اعزاز دیا گیا،وہ واپس لیا جائے کیوں کہ اس قابلِ رحم معاشرے میں میرے علاوہ کوئی ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے سرکاری اعزاز یا کسی تمغے سے نوازا جائے۔ سنیارٹی کی طرح شہرت کے بھوکے بھی قابلِ رحم ہوتے ہیں،شہرت کی بھوک روٹی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے،یہ انسان سے اس کی زندگی کی ساری خوشیاں اور سکون چھین لیتی ہے مگر اس پر الگ سے کالم لکھوں گا۔سنیارٹی کے مریضوں کو یہ کون سمجھائے کہ آپ کے لکھے کا فیصلہ آپ خود نہیں بلکہ قاری کرتا ہے،یہ اہم نہیں کہ آپ نے کتنا لکھا بلکہ یہ اہم ہے کہ کیسا لکھا۔اگر درجن بھر کتب لکھنے سے بھی معاشرے میں آپ کا وقار بلند نہیں ہو سکا تو آپ اپنے لکھے پر غور کریں۔

بشکریہ اردو کالمز