258

عدلیہ اور پارلیمنٹ میں بڑھتی تلخیاں۔

عدلیہ اور ریاست کے طاقتور ترین ادارے کے مابین تلخیاں اور بدگمانیاں شدید سے شدید تر ہورہی ہیں۔ ان کے تعلقات کو معمول پر لانا مجھ دو ٹکے کے رپورٹر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر حوالے سے بے اختیار عوام کی اکثریت کے لئے ممکن ہی نہیں۔ کتابوں میں پڑھ رکھا ہے کہ جدید ریاستوں کے باسی ’’شہری‘‘ کہلاتے ہیں۔ ان کے چند بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔ ان کا تحفظ ریاست کا اولیں فرض ہے۔ وہ یہ فرض نبھانے میں ناکام رہے تو عدلیہ اس کے کان کھینچتی ہے۔
کاملاََ سیاسی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئے پاکستان کو سامراج سے ’’آزادی‘‘ میسر ہوجانے کے چار ہی برس بعد مگر بیوروکریسی سے اٹھے گورنر جنرل غلام محمد نے وہ اسمبلی معطل کردی جسے آزاد ہوئے ملک کا آئین تشکیل دینا تھا۔ دستور ساز اسمبلی کی معطلی کے خلاف اس ایوان کے سپیکر مولوی تمیز الدین کو برقعہ میں چھپ کر عدالت سے ر جوع کرنا پڑا۔ ’’چھوٹی عدالت‘‘ نے دادرسی فراہم کردی تو معاملہ ’’بڑی‘‘ عدالت تک پہنچا۔ وہاں موجود جسٹس منیر نے ’’نظریہ ضرورت‘‘ دریافت کرلیا۔ اس نظریہ کی ایجاد اور استعمال نے ہمیں جنرل ایوب کے بعد یحییٰ ، ضیاء اور مشرف کے لگائے مارشل لاء دیئے۔ ان کے لائے ’’انقلاب‘‘ کو عدالتوں نے ہر بار ’’جائز وواجب‘‘ قرار دیا۔ جسٹس منیر کا دریافت کردہ نظریہ ضرورت ان فیصلوں کی بنیاد رہی۔ قصہ مختصر ہماری عدالتوں نے شہری حقوق کی نگہبانی کے بجائے اپنی تاریخ میں عموماََ ’’گھڑسوار دلاوروں‘‘ کی جانب سے لئے اقدامات کو ہمیشہ جائز وواجب ٹھہرایا۔ ایسا کرتے ہوئے ہمارے اجتماعی لاشعور میں موجود اس حقیقت کو ثبات فراہم کیا کہ ’’ربّ‘‘ سے ’’گھونسہ‘‘ زیادہ نزدیک ہوتا ہے۔ ’’جس کی لاٹھی اْس کی بھینس۔‘‘
2007ء کے اپریل میں جب ’’عوامی ریفرنڈم‘‘ کے ذریعے وطن عزیز کے صدر ’’منتخب‘‘ ہونے والے جنرل مشرف نے اقتدار میں آٹھ برس گزارلئے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری سے ان کا پھڈا ہوگیا۔ شہر میں کہانی یہ پھیلی کہ افتخار چودھری کو ایوان صدر بلواکر چند دستاویزات دکھائی گئیں۔ وہ ان دنوں کے چیف جسٹس کو بدعنوانی کا ذمہ ٹھہراتی تھیں۔ مبینہ دستاویزات دکھاکر انہیں جاں بخشی کیلئے استعفیٰ دینے کا حکم ہوا۔ موصوف نے انکار کردیا اور یوں عدلیہ بحالی کی تحریک شروع ہوگئی۔ اس کی قیادت میں شامل ہوئے میرے مہربان دوست اعتزاز احسن نے ’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘ کی امید دلائی۔ پشاور سے کراچی تک عوام گھروں سے نکل کر افتخار چودھری کے ان کے شہر آنے کا انتظار کرنے لگے۔ معاملہ حد سے بڑھا تو جنرل مشرف نے 3نومبر کو ایمرجنسی پلس لگاکر سپریم کورٹ کے کئی ججوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا۔ وکلاء قیادت کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار ہوا۔ دریں اثناء نئے انتخابات کی تیاریاں بھی شروع ہوگئیں۔ عوام کی اکثریت عدلیہ بحالی کی تحریک بھلاتے ہوئے انتخابی مہم سے لطف اندوز ہونے لگی۔ کسی کو یاد ہی نہ رہا کہ افتخارچودھری کس حال میں ہیں۔
نظربند ججوں کے علاوہ مجھ جیسے صحافی جو ریاست کو ماں کی صورت دیکھنے کو بے تاب تھے ٹی وی سکرینوں سے غائب کردئے گئے۔ ہم فٹ پاتھوں پر مجمع لگاکر کشتے بیچنے والے عطاروں کی طرح کبھی ٹی وی پر چلنے والے ’’ٹاک شوز‘‘ چھابوں کی طرح لگانے لگے۔ ہماری کاوشوں کو مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ناگہانی قتل نے گہنا دیا۔ فکر یہ لاحق ہوگئی کہ محترمہ کی شہادت کے بعد ملک بچالیا جائے اور اس کے لئے لازمی تھا کہ انتخابات منعقد ہوں اور ایک جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آئے۔
انتخاب ہوگئے تو وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی یوسف رضا گیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل نظربند ججوں کی رہائی کا حکم دیا۔ اسی وزیر اعظم کو لیکن بعدازاں افتخار چودھری نے سوئس حکومت کو چٹھی نہ لکھنے کے ’’جرم‘‘ میں توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے فارغ کردیا۔ نواز شریف ججوں کی عقیدت میں مبتلا ایک اور سیاست دان تھے۔ موصوف نے افتخار چودھری اور ان کے ساتھیوں کی بحالی کیلئے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا فیصلہ کیا۔ وہ ابھی گوجرانوالہ پہنچے تو ان دنوں کے آرمی چیف نے چودھری اعتزاز احسن کو فون کے ذریعے یقین دلایا کہ افتخار چودھری کی بحالی کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ چودھری صاحب بحال ہونے کے بعد ریاست کو لیکن ’’ماں جیسی‘‘ بنا نہیں پائے۔
ان کی ریٹائرمنٹ کے چند مہینے گزرجانے کے بعد چیف جسٹس کے منصب پر فائز ثاقب نثار کوبھی لیکن ’’سماج سدھار‘‘ کا جنون لاحق ہوگیا۔ کرپشن کے خلاف جہاد برپا کرتے ہوئے ثاقب نثار اور ان کے ساتھیوں نے افتخار چودھری کو بحال کروانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے نواز شریف کو ’’جھوٹا اور خائن‘‘ پکارتے ہوئے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لئے تاحیات نااہل ٹھہرادیا۔ عدالتوں ہی نے ایسے کئی سوالات ازخود اختیار کی بدولت اٹھائے جنہوں نے عوام کی اکثریت کو یہ پیغام دیا کہ ہمارے سیاست دان عمومی طورپر نااہل اور بدعنوان ہیں۔جعلی ڈگریوں والے ہیں۔ سیاستدانوں کے علاو ہ انہوں نے اشرافیہ کے کسی دوسرے طبقے کو ’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے کی زحمت شاذہی اٹھائی۔
عدلیہ کی آزادی اگر واقعتا درکار تھی تو اپنے منصب پر بحال ہوتے ہی افتخار چودھری کو جنرل مشرف کی لگائی ’’ایمرجنسی پلس‘‘ کا حساب لینا چاہیے تھا۔ اس کے لئے مگر وہ نواز حکومت کو اکساتے رہے۔ نواز حکومت اس کیلئے آمادہ ہوئی تو عمران خان نے 14اگست 2014ء  والا دھرنا دے کر اپنے مداحین کی کثیر تعداد کو اسلام آباد کے ریڈزون میں جمع کرتے ہوئے پارلیمان کے مقابل کھڑا کردیا۔ جنرل مشرف ’’بیماری‘‘ کے سبب عدالت میں ممکنہ طورپر اٹھائے سوالات کے جواب دینے کے قابل نہ رہے۔ بعدازاں دوبئی اور لندن چلے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں سنائی سزائیں بھی عدالت ہی کے ہاتھوں ناکارہ قرار پائیں۔
عدلیہ بحالی کی تحریک کے قریبی مشاہدے اور اس کی وجہ سے چھ ماہ تک بے روزگار اور میڈیا کے لئے بین(Ban)رہنے کے بعد مجھ میں ہمت ہی نہیں رہی کہ یہ فیصلہ کرسکوں کہ عدلیہ اور ریاست کے طاقتور ترین ادارے کے مابین ان دنوں جو قضیہ چلا ہے اس کا جائزہ لوں اور کسی ایک فریق کو ’’حق‘‘ پر کھڑا دکھائوں۔ عمران حکومت کے دوران بھی چار برس تک کسی ٹی وی پر رونمائی کی اجازت میسر نہیں تھی۔ میں کوئی ایسا فورم تلاش کرنے میں ناکام رہا جو مجھے سمجھا دیتا کہ کس جرم کے تحت مجھے ٹی وی سکرینوں کیلئے ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا تھا۔ عام پاکستانی کی طرح میں کسی بھی ایسے حق سے محروم ہوں جو جدید ریاست کے شہریوں کیلئے ’’بنیادی‘‘ شمار ہوتا ہے۔ نہایت سوچ بچار کے بعد لہٰذا فیصلہ یہ کیا ہے کہ خاموشی سے ان دنوں جاری چپقلش کو تماشے کی صورت دیکھوں۔ اس کے انجام پر جو جیتا اس کی دادوتحسین کیلئے تالیاں بجاتے کھڑا ہوجائوں گا۔

بشکریہ نواےَ وقت