281

ذاتی پریشانی کا سبب بننے والا ایک واقعہ

طویل وقفے کے بعد ہفتے کے روز وطن عزیز کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف نے اپنے دل میں جمع ہوئی چند باتوں کو مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان باتوں کو بیان کرنے کا انداز اگرچہ ’بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کیے ہوئے‘ والی کیفیت کی نمائندگی کرتا سنائی نہیں دیا۔ دکھی دل میں جمع ہوئے غبار کی تھوڑی نکاسی تھی۔ اپنے دل میں جمع ہوئے بے تحاشا سوالات کے جواب وہ نظربظاہر اب تک ڈھونڈ نہیں پائے ہیں۔ اس کے باوجود جس تقریب سے وہ مخاطب تھے وہ انھیں ایک بار پھر ان ہی کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ کی صدارت پر براجمان کرنے کی جانب پہلاقدم تھا۔ سنا ہے کہ 28مئی کے دن ان کی صدارت کا ’باقاعدہ‘ اعلان ہوجائے گا۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب میرے پاس موجود نہیں ۔
مکمل معلومات تک عدم رسائی کے علاوہ اپنے قارئین کے ساتھ سچائی کے رشتے کو برقرار رکھنے کی خاطر یہ اعتراف کرنا بھی لازمی ہے کہ گزشتہ آٹھ دنوں سے میرا ذہن قطعاً مائوف ہوچکا ہے۔ ملکی اور چند عالمی امور پر ’ہر موقع کی غزل‘ پیش کرنے کا دعوے دار ذہن نہایت شرمساری سے یہ سوچ رہا ہے کہ کس منہ سے دنیا کے پیچیدہ ترین موضوعات کی تفہیم کا ٹھیکہ اٹھالیتا ہوں۔ مجھ سے تو اپنے ذاتی مسائل ہی کماحقہ انداز میں سنبھالے نہیں جاتے۔
طولانی تمہید میں آپ کا وقت ضائع کرنے کے بجائے فی الفور اطلاع دے رہا ہوں کہ مجھے ،میری بیوی اور بچوں کو میرے سسرال سے ایک ڈرائیور ورثے میں ملا تھا۔ میرے سسر کے انتقال کے بعد میری ساس ایک موذی مرض میں مبتلا ہوگئیں تو ہم ان کی تیمار داری کی خاطر ان کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کے انتقال کے بعد بھی یہ ملازم ہمارے ساتھ رہا۔ ہم نہایت خلوص سے اسے خاندان کا رکن شمار کرتے رہے۔ میری بیٹیوں نے ہمیشہ اسے ’آپ‘ کہہ کر مخاطب کیا اور ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اسے محض تنخواہ پر تکیہ کرنے کو مجبور نہ کیا جائے۔ اس کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ صاف ستھری زندگی بسر کریں۔ ہماری نیک دلی کو وہ مگر ڈھٹائی سے بنارسی ٹھگوں کی طرح ’مزید‘ کے حصول کے لیے استعمال کرتا رہا۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ کارکاتیل بدلوانے یا سروس کے لیے اسے جو پیسے دیے جاتے وہ انھیں مطلوبہ امور پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی جیب میں رکھنا شروع ہوگیا۔ اندھے اعتماد کے سبب اسے چیک ہی نہیں کیا اور اسی باعث اس کی ہمت وحوصلہ بڑھتا رہا۔
کہانی لمبی ہوجائے گی۔ مختصر ترین الفاظ میں یہ کہتے ہوئے ختم کرتا ہوں کہ تقریباً ایک ماہ قبل سے اپنے چند مہربان دوستوں کی مداخلت سے دریافت کیا کہ موصوف مجھے برسوں سے ’چونا‘ لگائے چلے جارہے تھے۔ اکثر اوقات انھوں نے وہ بل بھی ادا نہیں کیے جو ورثے میں ملے زمین کے ایک ٹکڑے پر واجب تھے۔ بالآخر میٹر کٹ گیا تو خبر ملی کہ مجھ دیہاڑی دار کو مالی اعتبار سے کتنی سنگین چوٹ لگی ہے۔ بل ادا کرنے اور میٹر کی بحالی کے بعد اسے فارغ کرنا پڑا۔
اسے فارغ کردیا تو میرے مہربان دوستوں کی اکثریت مصر ہے کہ مجھے اس کو پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ میں یہ کہتے ہوئے اپنا دفاع کرتا رہا کہ پولیس کی مداخلت سے میرا مالی نقصان تو پورا نہیں ہوگا۔ اصل حقیقت جبکہ یہ ہے کہ کل وقتی صحافی ہونے کے بعد 1980ء کے آغاز میں میں نے اسلام آباد سے شائع ہونے والے ’دی مسلم‘ کے لیے ایک خبر لکھی تھی۔ اس خبر میں مشقت بھری جستجو کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد کے ایک متمول گھر میں صفائی پر مامور ناصر مسیح نامی ایک ملازم کو پولیس نے اس گھر میں ہوئی چوری کی تفتیش کے لیے گرفتار کیا اور دوران حراست وہ جان سے جاتا رہا۔ میری خبر ابتدائی تردیدوں کے بعد بالآخر درست ثابت ہوئی تو متعلقہ تھانے کا تمام عملہ اس کے انچارج سمیت معطل ہوگیا۔ ان میں سے دو کے کیریر بھی ہمیشہ کے لیے تباہ ہوگئے۔ جو خبر میں نے دی اس کی وجہ سے مجھے اخباری مالکان کی تنظیم، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کی جانب سے اس برس کی بہترین رپورٹنگ کا حقدار بھی ٹھہرایا گیا تھا۔ مجھے بطور رپورٹر شہرت دلوانے میں اس کہانی کا کلیدی کردار تھا۔
اس واقعے کے بعد بطور رپورٹر کئی واقعات میرے مشاہدے میں آئے جہاں پولیس چوری کے الزام میں گرفتار ہوئے افراد کے ساتھ ناروا تشدد میں ملوث رہی۔ ان واقعات کویاد کرتے ہوئے میرا کمزور دل کئی برسوں سے مسلسل بنارسی ٹھگوں کی طرح مجھے دھوکا دیتے ہوئے شخص کے خلاف قانونی کارروائی سے روکے ہوئے ہے۔میری ’احتیاط‘ مگر دوستوں کو احمقانہ محسوس ہورہی ہے اور میں ان کے روبرو شرمندہ ہوں۔
اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے ایک اور حقیقت بیان کرنا بھی لازمی ہے۔ کئی بار اس کالم میں تواتر سے بیان کیا ہے کہ میری دانست میں پاکستان اس وقت ایسے دورسے گزررہا ہے جسے پنجابی کے عظیم شاعر بلھے شاہ نے ’شک شبے دا ویلا(وقت)‘ کہا تھا۔ یہ وقت کامل انتشار کا نمائندہ ہوتا ہے جہاں کسی بھی شعبے یا ادارے کی توقیر باقی نہیں رہتی۔ سوشل میڈیا کی ایجاد کے بعد ’صحافی‘ بھی توقیر کے مستحق نہیں رہے۔ ہماری ایک سیاسی جماعت نے ان کی اکثریت کو سوشل میڈیا کی مدد سے ’لفافہ‘ ٹھہرانا شروع کردیا۔ بالآخر اب یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ہر صحافی بے ایمان ہے۔ ٹی وی کیمروں کے روبرو منافقانہ بھاشن دیتا ہے۔ بھاری بھر کم تنخواہ وصول کرتا ہے۔ جس ادارے کے لیے کام کرتا ہے اسے جدید ترین قیمتی گاڑی بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود ’ربّ کا فضل‘ رکتا نہیں۔ صحافی بڑے بڑے فارم ہائوسز میں رہتے ہیں۔محافظوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ اسی باعث روایتی میڈیا کے لیے لکھنے اور بولنے والوں پر اعتبار باقی نہیں رہا۔ لوگوں کی اکثریت ’خبر‘ جاننے کے لیے سوشل میڈیا سے رجوع کرنا شروع ہوگئی ہے۔
’صحافی‘ کی عوامی سطح پر ہوئی بے توقیری کی وجہ سے میں سوچ رہا ہوں کہ میرے ساتھ دھوکا دہی کی جو واردات ہوئی ہے اس پر اعتبار کرنے کو شاید مجھے طویل عرصے سے ذاتی طورپر جاننے والے ہی آمادہ ہوں گے۔ عام لوگوں کی اکثریت تاہم طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ میری ’دکھی داستان‘ سنے گی۔ اپنے ساتھ ہوئے دھوکے سے کہیں زیادہ مجھے بطور صحافی اپنی ساکھ اور توقیر کھودینے کا غم کھائے جارہا ہے۔ عمر کے آخری حصے میں اب میں کسی اور شعبے کی جانب رزق کمانے کی خاطر رخ نہیں کرسکتا۔ اسی باعث بے توقیری جی کو پریشان کئے ہوئے ہے۔
کالم ختم کرتے ہوئے اعتراف یہ بھی کرنا ہے کہ جی چاہ رہا تھا کہ اپنی ذاتی کہانی بیان نہ کروں۔ اس کے علاوہ مگر کسی اور موضوع پر لکھنے کے قابل ہی نہیں تھا۔ یہ کالم نہ لکھتا تو ’ناغہ‘ ہوجاتا اور میرے کالم کا ’ناغہ‘ ہوجائے تو مہربان قارئین کی مؤثر تعداد پریشان ہوجاتی ہے۔ان کے جذبات کا احترام لازمی شمار کرتا ہوں۔

بشکریہ نواےَ وقت