201

میاں صاحب! شکوے چھوڑیں، اسٹیٹس کو توڑیں

قومی گھمبیر سیاسی و معاشی بحران کے متفقہ و مسلمہ حل ’’الیکشن‘‘ کے باوجود بڑی علت یہ بن گئی ہے کہ یہ ’’حل‘‘ ہی 25 کروڑ کی مملکت کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس لئے کہ ’’حل‘‘ کو دل سے نہ ماننے والے بھی زور دار عوامی تمنا اور آئینی پوزیشن کے باعث زبان سے تو یہ ماننے پر مجبور تھے کہ الیکشن کا انعقاد لازم ہے، اور یہ ہی بحران سے نکلنے کا حل ہے، لیکن عملاً قلبی ماہیت ہی غالب رہی، سو آئین سے گریزاں ریاستی اداروں کے انتخابات ٹالنے کے ہر حربے کو الٹی دلیلوں اور بڑی ڈھٹائی سے سچا ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔اوپر سے نگران حکومت کی مہربانی سے میڈیا کی کھلی سپورٹ مطلوب عوامی تائید کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ الیکشن کمیشن بجٹ نہ ہونے، سکیورٹی کی عدم فراہمی کے بہانے تراش رہا تھا اور اتحادی جماعتیں فروری میں برفانی موسم کا عندیہ دے رہی تھیں۔ کبھی قومی حکومت بننے کی تجاویز آ رہی تھیں اور کبھی ایمرجنسی لگا کر معاشی استحکام کو اولیت دینے کیلئے دو سالہ ماورا ئےآئین حکومت کے قیام کی تجاویز پر جلد عملدرآمد سمیت ہر حربے اور ہتھکنڈے کی تائید و حمایت 16ماہی شہباز حکومت اور اتحادی جماعتیں نہیں کر رہی تھیں؟

ان کی طرف سے ہی یہ ماورا ئےآئین و مطلوب تجاویز آتی رہیں، یوں الیکشن کا انعقاد، خود الیکشن کمیشن کے واضح الیکشن مخالف رویے اور اسے حاصل کھلی حکومتی تائید سے آگے سے آگے ہوتارہا۔ باوجود اسکے کہ 16 جماعتی اتحاد کی مجموعی کارکردگی کا حاصل بدترین گورننس اور اس کی عوام کو بڑی دین، بدترین (اور بیشتر حصے کو بلاجواز) مہنگائی کی شکل میںسامنے آئی۔ مختصر دور کی جمبو سائز کابینہ اور اس کے جاری اللے تللوں اور لاحاصل بیرونی دوروں پر دورے، پریشان اور بے بس خوفزدہ کئے گئے عوام میں الیکشن کے جلد انعقاد کی تمنا کو لاوے کی شکل دے رہے تھے، بالآخر چیف جسٹس صاحب نے 8 فروری کی تاریخ خود دے کر اسے ریڈ لائن قرار دے دیا۔ زور دار رائے عامہ پہلے ہی تائیدی تھی، جبکہ واضح ہوگئی ملکی سب سے پاپولر جماعت کے ساتھ جو سخت منفی اور جانبدارانہ رویہ الیکشن کمیشن اور جملہ سرکاری اداروں کی طرف سے اختیار کیا جارہا تھا اس سے ان پر عوامی اعتماد کا گراف تیزی سے گررہا تھا جو سنبھل گیا، لیکن الیکشن کی حکومتی تیاریاں اور انتخابی مہم جیسے جیسے قریب آتی گئی پی ٹی آئی کے ساتھ ایمی جیٹ بیک گرائونڈ والا جانبدارانہ رویہ اور اس کی حریف جماعتوں کو کھلے میدان میں تنہا ہی کھیلنے کے لئے دینے کے حربے پھر بڑھتے گئے۔ گویا لیول پلینگ فیلڈ کا ٹنٹنا ہی ختم کردیاگیا۔ لگ رہا تھا کہ پی ٹی آئی کیلئے الیکشن کو ممکنہ حد تک محال بنایا جارہا ہے، پھر پی ٹی آئی کو اس کے انتخابی نشان بلے سے محروم کردینے کے فیصلے نے مکمل واضح کردیا کہ آئین سے ماورا ریاستی نظام نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ہاتھ پائوں باندھ کر میدان انتخاب اس کی مقابل روایتی جماعتوں کے حوالے کرنا ہی کرنا ہےاور پی ٹی آئی ووٹر آسانی سے ووٹ بھی نہ دے سکیں گے۔ لاکھوں فیملی یونٹس کے ووٹ تتر بترکرکے گھنٹوں انہیں ادھر ادھر کوسوں دوربھگایا دوڑایا گیا اور بہت سے فسطائی حربے ،ہتھکنڈے پی ٹی آئی کی شکست کو یقینی بنانے کیلئے کئے گئے۔

قارئین کرام! بالخصوص جناب نواز شریف! آج کا آئین نو میاں صاحب کی پارٹی قیادت کی بحالی کے تناظرمیں تحریر کیا جارہا ہے۔ اس لئے کہ وہ اب وقت کی حکمران جماعت کی فقط رہبری سے دوبارہ سیاسی قیادت کی طرف آئے ہیں۔ ان کی مسلسل اور گہری مایوسی اور سیاسی زخموں کو مندمل کرنا دیگر پارٹی رہنمائوں اور وفا شعار کارکنوں کا تنظیمی فریضہ اور مطلوب سیاسی ضرورت تو تھی جو بہت دیر سے پوری ہو رہی ہے، لیکن دیر سے کی گئی ہے تو درست آیدکیلئے اور بہت کچھ کرنے والا لازم ہوگیا ہے۔ سوال پھر عقل اور قلب سے فیصلہ کا اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ میاں صاحب نے بحالی قیادت کے اجلاس میں گزشتہ روز جو خطاب کیا ہے وہ اس لئے اہم ہے کہ یہ خطاب بہت پیچیدہ صورتحال سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے ایک ایک قائدین اور ہرسطح کے رہنمائوں، ٹی وی پر پارٹی کے دفاع و مدعا کیلئے وقف ترجمانوں کا ایک بیانیہ تو قوم و ملک کیلئے ناگزیر ہوگیا ہے کہ: ’’آگے چلو‘‘ (MOVE FORWARD) جبکہ آپ کا کل کا خطاب اپنے تین ادوار کے ڈیزاسٹر میں سے کسی ایک کے بھی اعتراف کےبغیر بحث طلب شکوئوں سے پُر ہے۔ اس میں تو ہر مقابل اور انتخابی حریف پارٹی آپ کے برابر ہی نہیں کہیں زیادہ آپ کے مقابل مظلوم و معتوب و شاکی ثابت ہوگی۔ تاہم آپ کا ایک شکوہ بہت نوٹ ایبل اور آپ کی اپنی سیاسی غرض کیلئے زیادہ سے زیادہ فیڈ بیک کا متقاضی ہے۔ اب بطور پارٹی قائد آپ پارٹی کی رہنمائی اور سمت جبھی درست کر سکیں گے جبکہ پہلے خود اپنی ڈائریکشن درست کریں۔

یہی فیڈ بیک آپ کی کھوئی عوامی مقبولیت کوبحال کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے کہ بشرطیکہ آپ نے اس پر سنجیدگی سے غور کیا اور فیصلے فقط کھوٹی روایتی عملی سیاست کے تناظر اورا سٹائل میں فقط ’’عقل‘‘ سے نہیں بلکہ قلب و ذہن دونوں سے کئے ۔ دل بھی بہت کچھ بتاتا ہے چاہے نہ چاہے، مانے نہ مانے اندر سینے میں چھپا دھڑک دھڑک کر بہت کچھ اصل بتا رہا ہوتا ہے۔ اس ’’اصل‘‘ کا قومی سیاست میں تازہ ترین سبق حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے ساتھ ساتھ شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، ڈاکٹر آصف کرمانی، اس سے قبل چودھری نثار اور جاوید ہاشمی اور کئی وفا شعار سرگرم کارکنوں نے پڑھا، اور قلب و ذہن کے حتمی فیصلے کے بعد ان کی اعترافی طاقت ان کی سیاست کو بچانے سنبھالنے میں بڑی کارآمدثابت ہو رہی ہے۔ آپ کو ماضی کے شکوے شکایات اور مظلوم ترین عوام سے شکوئوں سے بچنا ہوگا۔ اور ان کے شکوے نہیں دل میں چھپے جلال کو پڑھنا ہوگا۔ اس لئے کہ ابھی آپ کی موجودہ حکومت تو فارم 47 سے ہی بنی ہے نہ بھی بنتی اور نہ بھی چلتی جیسا کہ تیزی سے واضح ہو رہا ہے تو بھی اپوزیشن تو ن لیگ کی ہی اصلی ہوگی، جس کا خود بھی اصلی سیاسی اور ذمے دار ہونا ناگزیر ہوگا، اسی سے شاید آپ فارم 45 کے زور پر چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکیں۔ (جاری ہے)

بشکریہ جنگ نیوزکالم