237

جج نے حکم دیا ہے…!

افراد ناگزیر نہیں ہوتے، مر جائیں تو بھی نظام چلتا رہتا ہے۔ لیکن کچھ افراد اہم اور خاص ہوتے ہیں اندر رہیں تو کاروبار زندگی پر اثر ضرور پڑتا ہے اور بعض اوقات بہت زیادہ۔ قائد اعظم اگر چند برس اور زندہ رہتے تو جمہوری بنیاد کو مضبوط کر جاتے اور وہ کچھ نہ ہوتا جو اب تک ہوتا آ رہا ہے۔ 
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی مشرقی آذر بائیجان کے صوبے میں حادثے کی نذر ہو گئے۔ ان کی جگہ لینے والے ایک نہیں کئی آ جائیں گے لیکن رئیسی کی اہمیت ان کی صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت زیادہ تھی اور خاص طور سے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای صاحب کی جانشینی کیلئے ان کے نام پر انقلابی کونسل میں اتفاق رائے تھا۔ اب یہ اتفاق رائے نئے سرے سے حاصل کرنا ہو گا۔ چیف جسٹس کے طور پر ابراہیم رئیسی نے 88 ء اور مابعد کے زمانے میں جو کردار ادا کیا وہ ہر کوئی نہیں کر سکتا اس دور میں ایسے 30 ہزار افراد کا کیس انجام تک پہنچایا گیا جو انقلاب کے مخالف ، لبرل یا سیکولر یا صوبائیت پرست سمجھے جاتے تھے۔ یہ بہت بڑا کام تھا۔ ان افراد کی قسمت کے فیصلے کے بعد انقلاب ایران کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ قاسم سلیمانی کی وفات کے بعد ان جیسا جنرل ایران کو نہیں مل سکا۔ وہ شام میں استحکام کے ذمہ دار تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد شام میں تحریک مزاحمت پھر سے سراٹھا رہی ہے۔ شام اب بہت مختصر ملک رہ گیا ہے۔ ایک تہائی رقبہ تو کرد لے اڑے، لگ بھگ دس فیصد رقبہ ترکی اور مزاحمت کاروں کے پاس ہے۔ تین فیصد رقبے پر امریکہ نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ایک ’’کٹ ٹو سائز‘‘ ننّھا منّا سا شام پھر عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 
_____
کرغیزستان میں مصری طلبہ کی مقامی غنڈہ عناصر نے پٹائی کر دی۔ پٹائی کی لپیٹ میں چار پاکستانی طلبہ بھی آ گئے۔ ایک کو زیادہ زخم آئے، اسے ہسپتال بھیجنا پڑا جہاں سے اسے رات بھر زیر علاج رہنا پڑا۔ باقی تین معمولی مرہم پٹی کے بعد ٹھیک ہو گئے۔ 
لیکن پاکستان میں ان عناصر نے جنہوں نے آزاد کشمیر میں /13 افراد کی ہلاکت کی جھوٹی خبر چلا کر فسادات بڑھانے کی کوشش کی تھی، کرغیزستان کے مسئلے کو بھی ایسا ہی رخ دیا۔ پہلے 18 پھر 13 اور اس کے بعد 15 طلبہ کے قتل اور بعض طالبات کی آبروریزی کی ’’مصدقہ اطلاعات‘‘ چلا دیں۔ اس کے بعد سے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا نے بھی وہ سماں باندھا جیسے کرغیزستان ’’غزہ‘‘ بن گیا۔ کرغیز عوام لاکھوں کی تعداد میں نکل آئے ہیں، ہر چوک اور محلے میں پاکستانیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ پاکستانی لڑکیاں اٹھائی جا رہی ہیں اور اب تو بس کرغیز فضائیہ ہی رہ گئی ہے جو عنقریب حرکت میں آنے والی ہے اور پاکستانی نڑاد لوگوں کی بستیوں پر بمباری ہونے وی والی ہے۔ سوشل میڈیا پر کرغیزستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکومت کیخلاف گالیوں کی ایک عظیم الشان مہم شروع ہو گئی۔ 
برطانیہ میں اس سے زیادہ سنگین واقعات پاکستانی اور بھارتی کمیونٹیز کے خلاف ہوتے رہے ہیں۔ لوگ مارے گئے، املاک نذر آتش کی گئیں لیکن کسی نے نہیں کہا کہ برطانوی عوام نے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ 
کرغیزستان میں محض تین طلبہ کو چوٹیں آئیں، ایک زخمی ہوا۔ کرغیز لوگوں نے دوسرے پاکستانیوں کی مدد کی، چند غنڈوں کی اس کارروائی پر اظہار افسوس کیا لیکن پاکستان میں ایسی مہم چلتی رہی گویا ہٹلر نے ہولوکاسٹ شروع کر دیا ہے۔ اللہ رحم کرے۔ میڈیا کا طوفان ہلاکت خیزی پراتر آیا ہے۔ 
_____
رفح کی 5 میل چوڑی، 8 میل لمبی پٹی میں 18 لاکھ افراد بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھسے ہوئے ہیں اور اسرائیل ان پر تاریخ کی مہیب ترین بمباری کر رہا ہے۔ ایک ہفتے سے بمباری میں شدّت آ گئی ہے اور ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں اور امریکی صدر بائیڈن نے اپنا یہ عزم دہرایا ہے کہ وہ اسرائیل کو رفح پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یعنی بائیڈن کے حساب سے اسرائیل نے ابھی رفح پر حملہ کیا ہی نہیں۔ 
اسرائیلی وزیراعظم کی ایک وڈیو لیک ہوئی ہے۔ کابینہ میں اختلافات ہیں ، اسی کی وجہ سے لیک ہوئی ہو گی اور کیا پتہ یاہو نے خود ہی لیک کر دی ہو۔ اس میں یاہو کہہ رہا ہے کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ فلسطینیوں کیلئے ’’قابل برداشت‘‘ ہے لیکن اب ہم جو کریں گے وہ فلسطینیوں کیلئے ناقابل برداشت ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں سارا غزہ انسانی وجود سے پاک کر دیا جائے گا۔ 
اسرائیلی حملوں میں شدّت کی وجہ ایک اور بھی ہے۔ دو ہفتوں سے اسرائیل کا فوجی نقصان بڑھ گیا ہے۔ ہر روز 40 سے 50 فوجی مارے جا رہے ہیں اور اتنے ہی زخمی ہو رہے ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو لڑاکا فوجیوں کی قلّت کا سامنا ہے۔ یہ قلّت بمباری کر کے پوری کی جا رہی ہے۔ عالم اسلام میں ہر طرف سکون ہے البتہ مغربی ممالک میں فلسطین کے حق اور اسرائیل کی مخالفت میں مظاہرے بڑھتے جا رہے ہیں۔ 
_____
محلے میں کوئی تنازعہ ہوا۔ ایک صاحب نے بتایا ، جج نے کہا ہے یہ معاملہ ایسے حل کرو، سو وہ ویسے ہی حل کرنا پڑا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جج سے مراد اعجاز دودھ فروش تھا۔ جج اس کا عرفی نام تھا۔ 
پی ٹی آئی کو تازہ تازہ پیارے ہوئے انگریزی اخبار نے خبر چھاپی کہ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں میں دھاندلی ہوئی، پی ٹی آئی یہ سیٹیں جی گئی تھی۔ قومی میڈیا اس رپورٹ کو لے اڑا اور دہائی مچ گئی کہ آڈٹ رپورٹ میں دھاندلی ثابت ہو گئی۔ 
سب نے خبر کا انٹرو پڑھا، پورا متن نہیں پڑھا۔ آڈٹ کسی آڈٹ بیورو نے نہیں کیا۔ یہ سرے سے کوئی آڈٹ رپورٹ تھی ہی نہیں۔ کسی ملکی یا غیر ملکی ادارے نے کسی قسم کا آڈٹ کیا ہی نہیں۔ دراصل یہ ایک الزام ہے جو آڈٹ 38 نامی تنظیم نے لگایا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کا یہاں مطلب یہ تھا کہ یہ الزام یا دعویٰ جو آڈٹ 38 نامی تنظیم نے لگایا۔ یعنی وہی بات کہ حکم دینے والا عدالت کا جج نہیں بلکہ اعجاز عرف جج ملائی پیڑے والا تھا۔ 
یہ معلوم کرنا ابھی باقی ہے کہ آڈٹ 38 نامی یہ تنظیم جس کا آج سے پہلے کسی نے نام تک نہیں سنا، کہاں واقع ہے۔ بنی گالہ میں؟۔ زماں پارک میں؟۔ گنڈا پور ہائوس میں یا پھر ان کے دفتر میں ہے؟۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز