164

عشق، احسان مندی, عاجزی اور کامیابی

 
یہ نارووال پنجاب پاکستان کے ایک گاؤں مالوکے تتلا جاٹ کا منظر ہے سکول جاتا ہوا محمد امین نامی چھوٹا بچہ اچانک ایک خوفناک کتے کو اپنی طرف لپکتا ہوا دیکھتا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ کتا اس بچے کو کوئی ناقابل تلافی نقصان  پہنچا دیتا  ایک نوجوان عورت بڑی بہادری سے بچے کو اس کتے سے بچا لیتی ہے۔

وقت گزرتا ہے اور ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ بچہ نوجوان ہو جاتا ہے۔کھیتی باڑی کے علاوہ طب کے پیشے سے وابستہ ہوتا ہے اور ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاتا ہے۔ حکیم محمد امین کے نام سےمشہور نوجوان طب اور روحانیت کے میدان میں اپنے والدحکیم فضل دین کا وارث تھا۔  اس نوجوان نے اپنے بچپن کا یہ واقعہ کبھی فرموش  نہیں کیا ۔ اس کی جان بچانے والی خاتون ایک غریب عیسائی فیملی سے تعلق رکھتی تھیں اس نوجوان نے ہمیشہ اس خاتون سے کہا کہ میں آپ کا مقروض ہوں خاتون کو اپنی بہن بنایا اور ساری زندگی اس خاندان کی خدمت کی جب اس عیسائی خاتون کا انتقال ہوا تو حکیم محمد امین اس کے گھر دیر تک میت کے قریب کھڑےہو کر آنسو بہاتے  رہے۔اور کہا آج میری بہن اس دنیا سے چلی گئی۔

اے حرف تسلی تیرے مشکور ہیں لیکن
یہ خیر ہے کہنے سے ذرا آگے کا دکھ ہے

احسان مندی کے اس انمول جذبے سے سرشار حکیم محمد امین کے صاحبزادے مشہور رائٹر جنگ جیو گروپ سے وابستہ پیرمحمد ضیاء الحق نقشبندی سے کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں ملاقات ہوئی آپ اجتہاد کے نام سے جیو تیز پر ایک پروگرام کرتے ہیں اور اسی ٹائٹل سےروزنامہ جنگ میں کالم بھی لکھتے ہیں اپنے والد محترم کی طرح ضیاء الحق نقشبندی کی ذات میں بھی عاجزی نظر آئی۔ کہنے لگے ثاقب بھائی میں اپنے بڑے بھائیوں سے آج بھی جھک کر ملتا ہوں اپنی والدہ سے اولیاء کرام سے محبت کا سبق سیکھا۔ تمام مذاہب و مسالک میں ہم آہنگی کے قائل ہیں۔

 
محبت کی کوئی حد نہیں
عشق ہے انتہا ہے
دل کے دروازے کھول دو
  محبت کی ہوا ہے
  (جلال الدین رومی )


اپنی زندگی کی پہلی جاب بحیثیت آفس بوائے کی۔ ماہانہ 1600 روپے تنخواہ ملتی تھی۔ اسی طرح روزنامہ آفتاب ،سعادت اور مساوات اخبار میں مختلف چھوٹے موٹے کام کرتے رہے ۔ آج ان کمپنیوں کے مالک ان کے ذاتی دوستوں میں شامل  ہیں۔2009  میں جنگ گروپ کو جوائن کیا اور اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا 

میں نے پوچھا اللہ تعالی کی اس عطا کے پیچھے کیا راز ہے جواب دیا جب کوئی مسلمان کلمہ پڑھ لیتا ہے تو گویا وہ عہد کرتا ہے کہ میں اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزاروں گا۔اور 24 گھنٹوں کی زندگی رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزاروں گا یعنی پروفیشنل زندگی سنت طریقے کے مطابق گزاری جائے آپ کی ذات سے لوگوں کو فائدہ ہو سچ بولیں ٹیم میں رہ کر کام کریں دھوکہ نہ دیں ٹائم کی پابندی کریں یہی وہ یونیورسل پرنسپلز ہیں جنہوں نے ضیاء الحق کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا

ہمہ جہت شخصیت کے ساتھ چیئرمین تنظیم اتحاد امت، متحدہ علماء بورڈ کے کوارڈینیٹر ہیں پنجاب کی پولیو مہم میں بطور مشیر شامل ہیں اتحاد امت کے داعی ہیں اور منفرد شعبوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ پاکستان کے 50 بڑے علماء کرام کے ساتھ مل کر انہوں نے فتوی دیا کہ ٹرانس جینڈرز شادی کر سکتے ہیں اس کی وضاحت میں بیان کیا کہ اگر کسی ٹرانس جینڈر میں مرد یا عورت ہونے کی واضح علامات موجود ہیں تو وہ آپس میں شادی کر سکتے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہے ان کی شخصیت میں دونوں جنس کی نشانیاں موجود ہیں تو وہ شادی کرنے کے اہل نہیں یہ فتوی تنظیم اتحاد امت پاکستان کی طرف سے جاری کیا گیا 

خدا کی ہر تخلیق میں حکمتوں کے راز ہیں
 تم بھی اسی کائنات کا عظیم ترین ساز ہو


 ضیاء الحق صاحب منفرد موضوعات پر کام کرتے ہیں کہتے ہیں ثاقب بھائی ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہمارا روٹین ہونا چاہیے ہیلمٹ پہننا ہر موٹر سائیکل سوار پر فرض ہے ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کے لیے بحیثیت قوم ہر پاکستانی کو اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ 

پیر محمد ضیاء الحق نقشبندی11 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں ان کی کتاب بے نظیر شہادت، حامد میر کہانی ، ولادت سے وزارت عظمی تک، وکی لیکس، بلیک واٹر اور دیگر کتابیں سنجیدہ حلقوں میں بہت شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

 بے نظیر بھٹو کے بارے میں بتایا کہ ان میں لچک بہت زیادہ تھی معاملات کو سلجھانے میں اتھارٹی سمجھی جاتی تھیں غلطی کو معاف کرنا اور ٹیم میکنگ ان کی خاص خوبی تھی کیونکہ کتابیں پڑھنے کی شوقین تھیں اس لیے اختلاف رائے کو برداشت کرنا اور تخلیقی ذہانت سے مالا مال تھیں 

ضیاء صاحب نے مشہور صحافیوں سہیل وڑائچ، مجیب الرحمان شامی اور سلیم صافی کے بارے میں بھی کتابیں لکھیں زندگی میں کامیابی کے فلسفے پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں ان میں کامیاب ہونے کے لیے جو فارمولے بتائے گئے ہیں ان میں زندگی کا ایک واحد بڑا مقصد ہونا اور سخت محنت شامل ہے معمولی کامیابی کے لیے تھوڑی سی محنت کافی ہے لیکن زندگی میں کوئی بڑا کام کرنے کے لیے جنون چاہیے محنت کی کھاد، رت جگہوں کی عادت اور سخت ڈسپلن 


پسینے کی سیاہی سے جو لکھتے ہیں اپنے ارادوں کو
 ان کے مقدر کے صفحے کبھی کورے نہیں ہوتے


 ضیاء الحق صاحب  نے لاہور میں  الامین اکیڈمی کی بنیاد ڈالی کیونکہ کچھ نیا کام کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اس لیے یہ اکیڈمی بھی دیگر تعلیمی اداروں سے منفرد ہے یہاں پر مستحق سٹوڈنٹس کو سکالرشپ پروگرام کے تحت فری میں سی ۔ایس۔ ایس اور پی ۔ایم ۔ایس کی تیاری کروائی جاتی ہے مجیب الرحمن شامی اور سہیل وڑائچ اس ادارے کے پیٹرنز میں شامل ہیں۔اس ادارے نے گویا کمال کر دیا اب تک اس ادارے کے 66 سٹوڈنٹس سی۔ ایس۔ ایس اور 56 سٹوڈنٹس پی۔ ایم ایس کی امتحانات  میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

 ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے طالب علم کے بارے میں بتایا کہ اُس کے گھر کا دروازہ ہی نہیں تھا اور جب وہ افسر بن گیا تو اس کے گھر والوں اور گاؤں کے لوگوں کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ کہنے لگے ثاقب بھائی اب میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد اس ادارے کو ترقی دینا ہے پاکستان کے لیے ایسے بیوروکریٹس تیار کرنا جو ملک کا مقدر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں یہ ادارہ سٹوڈنٹس کو رہائش، کھانا وائی فائی اور دیگر تمام سہولیات مہیا کرتا ہے۔ انٹر ویوز کی تیاری کروائی جاتی ہے سیلف اسٹیم کو بڑھانے کے لیے سو فٹ سکلز کی ٹریننگ کروائی جاتی ہے اس ادارے سے کامیاب ہو کر آفیسرز بننے والوں میں ماسی کی بیٹی گھر میں کپڑے سی کر گزارا کرنے والی فیملی کی بیٹی یتیم بچے اور عزم و حوصلے سے سرشار نوجوان سٹوڈنٹس کی درجنوں کہانیاں ملتی ہیں اور یہی سٹوڈنٹس بعد میں اس اکیڈمی کے ڈونرز بن جاتے ہیں

 اس اکیڈمی کی کراچی برانچ کا آغاز ضیا نقشبندی صاحب کے مستقبل کے پروگرامز میں شامل ہے ہم انہی صفحات میں اکیڈمی سے فارغ ہو کر آفیسرز کی صورت میں کام کرتے ہوئے کچھ نوجوانوں کی کہانی آپ سے شیئر کریں گے

 اپنی پسندیدہ کتابوں میں پیر محمد کرم شاہ کی ضیاء النبی کا تذکرہ کیا رانا نعیم کی لکھی ہوئی کتاب کواکب اور مشہور بزنس مین سید بابر علی کی خود نوشت پڑھنے کا مشورہ دیا۔ مشہور ڈرامہ سیریل یونس ایمرے ان کے پسندیدہ ڈراموں میں شامل ہیں

 اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ اپنی شریک حیات کو دیا یہاں تک کہا کہ ان کا کنٹریبیوشن 99 پرسنٹ ہے۔ان کے تعاون کی وجہ سے جو ذہنی سکون مجھے ملتا ہے وہ انرجی ہی مجھ سے بڑے کام کرواتی ہے

 بچوں کی تربیت پر زور دیا انہیں خود اعتمادی سکھائی جائے ریسٹورنٹس میں انہیں آرڈرز دینے کا موقع دیا جائے۔ صبر قناعت اور مہمان نوازی سکھائی جائے ۔ احسان مندی اور بڑوں کے ادب کا جو سلیقہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے سیکھا وہ بچوں کو بھی سکھایا جائے بڑی کامیابی کے لیے چیزوں کو راز میں رکھنے کی اہمیت پر زور دیا کہ بڑے پلانز لوگوں سے شیئر نہ کیے جائیں ان کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی انرجی ان کے اندر باقی ہے


 نگاہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز  
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے 

(علامہ اقبال)

بشکریہ اردو کالمز