حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا عقد نکاح (10) 145

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا عقد نکاح (10)

حضرت خدیجہ بنت خویلد ؓ کی وفات کی وجہ سے نبی کریمﷺ پریشان رہنے لگے، حضرت خویلہ ؓ بنت حکیم بن عثمان بن مظعون اس حالت کو دیکھ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور عرض کیا، خدیجہ الکبریٰ ؓ دنیا سے رحلت فرما گئیں ہیں، گھر کا انتظام بغیر موافق ساتھی کے جو غمگین دل کی تسکین اور گھریلو مہمات کی کفالت کر سکے، حاصل نہیں ہوتا، اب اگر آپ پسند فرمائیں، تو آپ کے لیے کسی شریف عورت کا رشتہ طلب کریں۔ آپ نے فرمایا، خویلہ! عورتوں میں سے وہ کون سی عورت ہے، جو اس کام کی لیاقت اور ہمارے ساتھ مناسبت رکھتی ہوں؟

حضرت خویلہ ؓ نے کہا، اگر دوشیزہ پسند کریں، تو وہ بھی ہے اور اگر ثیبہ (وہ عورت جو کنواری نہ ہو) چاہیں، تو وہ بھی ہے۔ آپ نے فرمایا؛ کون ہے؟ حضرت خویلہ ؓ نے کہا؛ دوشیزہ عائشہ آپ کے دوست ابو بکر کی بیٹی اور ثیبہ سودہ بنت زمعہ ؓ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں۔ حضور نبی کریم نے فرمایا؛ دونوں کا رشتہ میرے لیے مانگ لیں۔ حضرت خویلہ ؓ پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے گھر آئیں، اور نبی کریمﷺ کی طرف سے عائشہ کی خواستگاری کی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو شبہ ہوا، کہ میں نے نبی کریمﷺ سے عقد اخوت باندھا ہے۔ کیا بھائی کی لڑکی کی بھائی سے شادی کی جا سکتی ہے؟ حضرت خویلہ ؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئیں، اور مسئلہ پوچھا۔ آپﷺ نے فرمایا؛ واپس جا کر انہیں کہو کہ میرے اور آپ کے درمیان میں اخوت اسلامی ہے، نسبی اور رضاعی نہیں، جو تمہاری بیٹی کی حرمت کا موجب ہو۔ حضرت خویلہ ؓ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس آ کر اطلاع دی اور مطمئن کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دل کو پھر ایک اور اندیشہ نے آ پکڑا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے کے لیے عائشہ کا رشتہ مانگا ہوا ہے، اور انہوں نے قبول کر لیا ہے، اس کے ساتھ وعدہ تھا، اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی تھی۔ اس وجہ سے حضرت خویلہ ؓ کو کہا، کہ تم  اسی جگہ ٹھہری رہو، اور خود مطعم کے گھر گئے۔ مطعم کی بیوی نے جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو دور سے دیکھا کہا؛ اے ابو بکر! کیا تو اس بات کی امید رکھتے ہو، کہ ہمارے لڑکے کو ہمارے دین سے پھیر دو گے، اور اسے مسلمان کر لو گے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ 

حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے معطم سے پوچھا، کیا تمہاری بھی یہی رائے ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اسے غنیمت جانا، اور وہاں سے گھر آئیں اور حضرت خویلہ ؓ سے کہا؛ نبی کریمﷺ سے فرما دیجئے کہ تشریف لے آئیں۔ حضرت خویلہ ؓ آئیں، اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو بلایا۔ آپ تشریف لے آئے، اور عائشہ سے نکاح کیا۔ اس وقت عائشہ کی عمر مبارک چھ سال تھی، اور آپ کی رخصتی سن ہجری کے پہلے سال ہوئی۔ بعث کے دسویں سال ماہ شوال میں نبی کریم اور عائشہ صدیقہ کا عقد نکاح منعقد ہوا۔

(معارج النبوۃ فی مدارج الفتوۃ مصنف ملا معین واعظ الہروی مترجمین علامہ اقبال احمد فاروقی، حکیم اصغر احمد فاروقی جلد دوم صفحہ 341 اور 342)

بشکریہ اردو کالمز