چوروں کا ائر پورٹ اور احمد جواد کا استعفی 337

چوروں کا ائر پورٹ اور احمد جواد کا استعفی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی احمد جواد نے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ایک خط وزیر اعظم کو لکھا جو آجکل سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے اس خط کے مندرجات کو اپنے پڑھنے والوں تک پہنچانا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اندر کی باتیں باہر آنے سے عوام کو بھی شعور آتا ہے کہ ہمارا وزیر اعظم کتنا طاقتور ہے احمد جواد کی تحریر سے پہلے میں پشاور ائر پورٹ کے حوالہ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہاں پر جاکر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ چوروں کا ائر پورٹ ہے جسکی نگرانی کے لیے دشمن ملک سے بندے ادھا لے رکھے ہیں وہاں پر جاتے ہی ایک عام شریف شہری اپنے آپ کو احساس کمتری میں مبتلا کرلیتا ہے سکینر مشینیں موجود ہیں مگر پھر بھی اہلکار لمبے لمبے سوئے ہاتھوں میں پکڑے مسافروں کے بیگوں اور انکے جسموں کی ایسے تلاشی لیتے ہیں جیسے یہ سبھی چور ہوں اور اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ چھپا کرلے جارہے ہوں مجھے حیرت ہے اپنے پٹھان بھائیوں پر جو اپنی عزت نفس بڑے شوق سے مجروع کروارہے ہیں سامان والے بیگ کو سکینر مشین سے گذارنے کے بعد ایک بنچ پر تمام سامان نکال کر ایسے چیک کیا جاتا ہے جیسے انکے اندر کوئی نہ کوئی ناجائز چیز چھپائی گئی ہواور وہاں پر موجود عملہ اتنا بے حس کہ رہنمائی کرنا تو دور کی بات اچھے طریقے سے بولنا بھی انہیں ناگوار گذرتا ہے اپنے آپ کو آسمانی مخلوق سمجھنے والوں کا زور بھی اپنوں پر ہی چلتا ہے اور جب کسی غیر ملکی کو دیکھتے ہیں تو انکی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے اس وقت یہ دنیا کے مظلوم ترین انسان لگتے ہیں شکر ہے لاہور اور اسلام آباد میں پشاور کی طرح کے لوگ تعینات نہیں ہیں ان جگہوں پر پھر بھی انسانیت کا احترام کرنے والے موجود ہیں پشاور ائر پورٹ کی حالت اور وہاں کے افسران کا رویہ دیکھ کر انتہائی دکھ اور تکلیف ہوئی ان سے بحث بھی نہیں کرسکتے کیونکہ جو برف توڑنے والے سوئے انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑ رکھے تھے وہ بیگ کا آپریشن کرتے کرتے کسی کا بھی آپریشن کرسکتے ہیں اپنے ملک کے لوگوں کو عزت دیں تاکہ وہ بھی آپ کا دل سے احترام کریں اور آپ لوگوں کی تنخواہ بھی انہی لوگوں کے ٹیکسوں سے آتی ہے یہ مسافر اور پاکستان کے لوگ آپ کے محسن ہیں اور محسنوں کے ساتھ چوروں جیسا رویہ اختیار کرنا باعث شرم بھی ہے اور باعث شرمندگی بھی اب آتے ہیں احمد جواد کی اس تحریر پر جو انہوں نے وزیر اعظم جناب شہباز شریف صاحب کو لکھی ہے آپ کی عزت افزائی کا شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنا فوکل پرسن منتخب کیالیکن آپ کی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ آپ اعلی ترین عہدہ ضرور رکھتے ہیں لیکن حکومت کے تمام فیصلے تین مختلف جگہوں سے آتے ہیں آپ کی صلاحیتوں کا معترف ہوں لیکن آپ کی مجبوریوں کے پیش نظر میں اپنا استعفی پیش کر رہاہوں میں یہاں یہ وضاحت کر دوں میں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران کوئی تنخواہ لی گاڑی لی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی سہولت یا رعایت لی اپنی پوری سیاسی زندگی میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ دونوں جماعتوں سے ایک پائی کا فائدہ نہیں لیاہمیشہ اپنی جیب پر انحصار کیا اور اپنے وسائل اور اپنے پیسے سے خلوص کے ساتھ جماعت کی مدد کی جس جس ملک میں سچ موت کا پروانہ ہو،جھوٹ کامیابی کی کنجی ہو؟ جس ملک میں جھوٹ کا بیانیہ ترقی کا راستہ ہو اور اس کے خریدار معززین شہر ہوں جس ملک میں ناحق خون بہایا جائے اور ملک میں حقائق کبھی منظر عام پر نہ آ سکیں ملک کا حکمران چاہے عمران خان ہو یا آپ ہوں اور سبھی بے بس ہوں لاچار ہوں جس ملک میں ووٹ کو عزت دو جیسے نعرے اقتدار کے حصول تک محدود ہوں اس ملک کی عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا اور اب فیصلہ کی گھڑی آگئی ہے اس لیے اپنے ضمیر کی آواز سنی میں نے سچ کی تلاش میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت اور سرمایہ لگایا اور ملک کی خاطر اپنا فرض ادا کیا اس ملک کے ساتھ پڑے دھوکے ہوئے اور میں کسی دھوکے کا حصہ دار نہیں بنوں گاارشد شریف کے قتل کی انکوائری کا انجام بھی وہی ہو گا جو لیاقت علی خان اور بینظیر کے قتل کا ہوا یہاں سچ کو کفن پہنانے کیلئے کمیشن بنتے ہیں ایک اور سچ کو کفن پہنانے کی تیاری شروع ہو چکی ہے ایک حکمران کے طور قیامت کے روز جواب آپ کودینا پڑے گا آپ اچھے آدمی ہیں اس گناہ شامل نہ ہوں اور استعفی دیگر اپنی آخرت سنوار لیں یہ چند دن کی حکمرانی یا آخرت کی لامحدود زندگی سودا برا نہیں اس ملک کو صرف سچ بچا سکتا ہے اسکے علاوہ جھوٹ، آئی ایم ایف، فوج، امریکہ، چین، سعودیہ اور نہ آپ کی شب و روزکی محنت بھی نہیں وزیراعظم صاحب میں پوری قوم سے اپیل کروں گاسچ کے ساتھ کھڑے ہوں اپنی آنا اپنے ذاتی فائدے اور اپنی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سچ کا ساتھ دیں اس ملک کو حقیقی آزادی چاہیے 75 سال کے بعد بھی ہم غلام ہیں غلاموں کی عزت نہیں ہوتی چڑھتے سورج جلد ڈوب جاتے ہیں ان کی پوجا کا کوئی فائدہ نہیں ارشد شریف نے ایک انسان کے طور پر ہم سب کی طرح بہت غلطیاں کی ہوں گی لیکن کسی کو اس کی زندگی ختم کرنے کا اختیار نہیں اور جس نے بھی ایسا کیا انشاللہ وہ اس دنیا اور آخرت میں جہنم رسید ہو گایہ میرا یقین ہے یہ اہم ترین ہے کہ ارشد شریف کا خون رائیگاں نہیں جائے گاارشد شریف سیاست نہیں لیکن آزادی کی یادداشت ہے اس ملک کیلئے اسے آخری یادداشت سمجھیں آخری یادداشت کو انگلش میں Final Reminder کہتے ہیں اور یہ یادداشت قدرت کی طرف سے ہے آپ کیلئے میرا مخلص پیغام یہ ہے کہ روایتی اور موروثی سیاست کا اب اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں اور یہ دونوں طرح کی سیاست آپ کے پاؤں کی زنجیریں ہیں جنہیں آپ خوشی خوشی پہنے ہوئے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ہر روز 17000 بچے 18 سال کی عمر کو پہنچ رہے ہیں اور ان میں 90% عمران خان کے نظریے پر کھڑے ہیں اسے اب آپ روک سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ادارہ اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن نئے انتخابات کا اعلان کر دینا چاہیے ورنہ بوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی ہے اس ملک کی عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ اس ملک کو کون چلائے گا؟ میں نے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں کو اس وقت چھوڑا جب وہ حکومت میں تھے دونوں کا ساتھ اس وقت دیا جب وہ اپوزیشن میں تھے میں سیاست میں کمائی کرنے نہیں بلکہ نظریے کی بنیاد پر آتا ہوں اور نظریہ کی بنیاد پر چھوڑتا ہوں اقتدار سے پہلے ریاست مدینہ، ووٹ کو عزت دو، اقتدار کیلئے ''One Page'' اور اقتدار کے بعد مفادات کی دوڑ اور آخر میں مفادات کا ٹکراؤ یہ ہے ہماری سیاست کی کہانی یہی وجہ ہے کہ میں ارشد شریف کا کفن میلا ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دے رہا ہوں ایسے ملک کی سیاست سے میں ریٹائرڈ ہو رہا ہوں

بشکریہ اردو کالمز