’’گنڈیریوں کی اوقات‘‘ 192

’’گنڈیریوں کی اوقات‘‘

ایک بار حمید اختر صاحب نے گنڈیریوں پر کالم لکھا۔ میرے لئے یہ عجیب سی بات تھی کہ حمید اختر صاحب جیسے ادیب کو کیا موضوعات کی کمی تھی جو گنڈیریوں پر کالم لکھ دیا۔میں اس وقت جان نہیں پایا تھا کہ ایک با ضمیر ادیب یا کالم نگار اپنے دور کے چبھتے سوالات پر بات کرنے سے گریز کی منزل تک کیسے لہولہان پہنچتا ہے۔میں نے ابن انشا ، ابراہیم جلیس جیسے ناموروں کے مساوات اخبار میں لکھے کالم پڑھ رکھے ہیں،میں نے اپنے عہد کے ان جمہوریت پسندوں کو بھی پڑھ رکھا ہے جو آمریت کے خلاف لکھنے کی تنخواہ بھی کہیں سے لیا کرتے تھے۔حمید اختر صاحب اور اطہر ندیم صاحب جیسے لوگ ہر حال میں عوام کے ساتھ رہے اس لئے نہ انہیں کسی کے اقتدار میں فائدہ ملا نہ اپوزیشن میں۔ہاں ایک دکھ تھا جو بڑھ جاتا تو وہ علامتی باتیں کرتے۔آج بیس برس بعد سوچ رہا ہوں کہ مجھے بھی گنڈیریوں پر کالم لکھنا چاہیے۔ پنجاب میں ایک ہی جنس کو کئی طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ چنے کے ننھے پودوں کے پتے ’’ پلی‘‘کہلاتے ہیں۔ نمک مرچ کے ساتھ کوٹ کر ان کے پتوں کو بطور چٹنی کھایا جاتا ہے‘ دیہاتی عورتیں تازہ پتے توڑ کر بھی کھا لیتی ہیں‘ پلی کا ساگ بنتا ہے،پھر چھولیا کی باری آتی ہے‘ یہی چھولیا پک کر چنے کی صورت استعمال ہوتا ہے‘ خول بند سبز چنوں کو آگ پر بھون کر اسے ’’ہولاں‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ سفید اور کالے چنے الگ الگ کھانوں میں استعمال ہوتے ہیں‘ چنوں کو پیس کر بیسن بنایا جاتا ہے۔ چنوں کو بھون لیا جاتا ہے۔ بیسن سے حلوہ اور پکوڑے بنتے ہیں۔ آرائش حسن کا کام دیتا ہے‘ کڑھی کا سالن بنتا ہے‘ بیسن کی روٹی بنتی ہے۔ یہی حال گنے کا ہے۔ گنے کی فصل نسبتاً ریتلی زمین میں ہوتی ہے‘ اسے پانی کی ضرورت کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ گنا 6سے 7ماہ تک کھیت میں رہتا ہے‘ اس فصل کو اردگرد کے رہنے والے لوگ اپنا سمجھ کر توڑ لیتے ہیں‘ سب سے زیادہ نقصان سور کرتے ہیں۔ وہ اس فصل میں اپنی پوری بستی بنا لیتے ہیں‘ وہ گنے جن سے گڑ بننا تھا‘ جنہیں سفید چینی بننا تھا۔ جن کی مٹھاس ریوڑیوں‘ پتیسہ ‘ برفی ‘ شربت ‘ جلیبی‘ کیک اور جانے کس کس رنگ اور شکل میں مخلوق کے دہن میں اترتی ہوتی ہے‘ سور انہیں روند ڈالتے ہیں‘ چبا دیتے ہیں۔ شوگر ملوں ‘ دیسی کھانڈ اور گڑ کے بیلنوں اور جوس میں استعمال ہونے سے جو گنے بچ جاتے ہیں وہی گنڈیری بننے کے مرحلے تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے گنڈیری کی قدر افزائی ضروری ہے۔ گنوں کو دھویا جاتا ہے۔ پاند‘ گنے پر جما سفیدی مائل میل اور مٹی دھول اس سے ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک سادہ سے تیز دھارآلے کو ایک ہاتھ کی انگلیوں اور انگوٹھے میں لے کر گنے کا چھلکا اتارا جاتا ہے۔ چھلکا اتارے جانے کے بعد ایک دستی ٹوکے سے گنا گزارا جاتا ہے جو گنڈیریاں کر دیتا ہے۔ بعد میں گانٹھ والی گنڈیریوں کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ بکتی نہیں۔ باقی گنڈیریاں خریداروں کے لئے برف کے بلاک کے اوپر اور نیچے سجا دی جاتی ہیں۔ خریدار اس بات کا دھیان رکھتا ہے کہ گنے کے اوپر والے حصے کی بنی گنڈیریاں زیادہ نہ ہوں کہ ان میں مٹھاس کم ہوتی ہے۔ نچلا حصہ زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔ زمین سے جس کا تعلق زیادہ پرانا ہوتا ہے۔ وہ گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔ وہ قصہ تو سنا ہو گا کہ دو بھائی اگلے سال گنا کاشت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ایک بولا کہ گنا تو ہم کاشت کر لیں گے لیکن ہمسائے بہت چور ہیں‘ وہ رات کو جمہوریت کا نعرہ لگا کر ہمارے گنوں پر حق جتائیں گے ،گنے توڑ کر لے جائیں گے اور چوری چوری چوپیں گے۔ یہ نکتہ ان سمجھدار بھائیوں کو تشویش میں مبتلا کر رہا تھا اس لئے دونوں نے اپنے خاندان کے دوسرے لاٹھی بردار لئے اور ہمسایوں پر حملہ کر دیا۔ وہ بیچارے پوچھتے رہے کہ ہمارا قصور تو بتائو‘ ہمارے پاس تو ہتھیار بھی نہیں۔ ہم نے کیا کیا ہے۔؟ حملہ آور بس یہی کہتے رہے:’’ہور چوپو، ہور چوپو‘‘۔ جو لوگ گنے کا سخت چھلکا نہیں اتار پاتے‘ جن کے دانت کمزور ہیں یا جو سہل پسند ہیں وہ گنڈیری چوستے ہیں‘ جو لوگ بدسلیقہ ہوتے ہیں وہ گنڈیریوں کا پھوک اردگرد بکھیر لیتے ہیں‘ سمجھدار اس پھوک کو ایک ہی مقام پر جمع کرتے جاتے ہیں۔وہ مقام آپ ڈھونڈ لیں کہ پھوک کہاں جمع ہوتا ہے۔ پرانی فلموں میں ایسے کئی سین ہوتے تھے جب کوئی فسادی کسی شریف آدمی کے کھیت میں جا کر اس کے گنے توڑ لیا کرتا‘ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ہیروئن گنا چباتے ہوئے چلی جا رہی ہے۔اس گنے سے کئی بار کسی کی پٹائی بھی ہو جاتی۔ گنڈیری فروش اسے کئی کئی ڈھنگ سے بیچتے۔جب سے کھیت ختم ہوئے ہیں۔ لاہور میں گنڈیریاں فروخت کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے۔ یہ میٹھے‘ ٹھنڈے اور نرم میوے ہماری زندگی سے نکلتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ غذائی ماہرین کی نظر سے گنڈیریاں بچی رہتیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گنڈیریوں میں ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو انسانی صحت کو بہتر بنانے کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں پوٹا شیم‘ کیلشیم‘ میگنیشم‘ آئرن اور زنک ہوتا ہے۔ گنڈیریوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آپ کو سوزش، تنائو سے بچاتے ہیں۔ گنڈیریاں بیماریوں کی روک تھام کرتی ہیں۔ میٹا بولزم کو تیز کرتی ہیں۔ گلے کی سوزش اور فلو سے نجات دلاتی ہیں‘ جلد کو نمی فراہم کرتی ہیں‘ سردیوں میں جسم میں پانی کی کمی دور کرتی ہیں۔ گویا اگر گنا بدمعاش اور بدخصلت افراد‘ سوروں اور باقی ضرورت مندوں سے بچ جائے تو وہ گنڈیری کی شکل میں ہم شہر واسیوں تک آ ہی جاتا ہے۔ لیکن کیا کریں اب کھیت محفوظ نہیں‘ کوئی گنا سربلند ہوتا ہی نہیں۔ ابھی تنے میں پوری طرح شعور کی مٹھاس نہیں پڑتی کہ سر کاٹ لیا جاتا ہے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اس کھیل کو چیچو چیچ گنڈیریاں کیوں کہا جاتا ہے لیکن یہ دیہی علقوں میں عام تھا ۔دو گروپ ہوتے ہیں۔ایک گروپ کی باری آتی ہے تو وہ چاک یا کئلے کے ساتھ ارد گرد کی دیواروں یا اوٹ والی جگہوں پر لکیریں لگا دیتا ہے۔وقت ختم ہونے پر دوسرا گروپ ان لکیروں کو تلاش کر کے ان کو کراس لگاتا ہے۔ پھر وہ لکیریں تلاش کی جاتی ہیں جو ڈھونڈنے والی ٹیم کی نظر سے پوشیدہ رہ گئیں۔جس ٹیم کی لکیریں زیادہ تعداد میں بچ جائیں وہ جیت جاتی ہے۔ہر بار وقت ختم ہونے پر آواز لگائی جاتی ہے ’’ چیچو چیچ گنڈیریاں ،دو تیریاں دو میریاں‘‘۔ پتہ نہیں یہ کھیل ہی ہے یا اس کا کوئی سیاسی مطلب بھی نکالا جا سکتا ہے۔ حمید اختر صاحب یقینا جنت میں خوش ہوں گے کہ گنے اور گنڈیری کے مضمون کو ان کے ایک شاگرد نے آگے بڑھایا۔ لیکن یقین کریں میں گنڈیریوں کی کاٹ و موت پر جو دکھ محسوس کر رہا ہوں اسے کسی میٹھے اور ٹھنڈے لفظ میں سمو نہیں پایا۔ شائد گنڈیریوں کی اتنی اوقات ہی نہیں کہ اخبار میں ان کے لئے کوئی آواز اٹھا سکے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم