جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن اس وقت پاکستان کے سب سے کامیاب سیاستدان ہیں، وہ ٹارگٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم اُٹھاتے ہیں، اگر ان کی جماعت کسی اتحاد کا حصہ ہو تو اتحادی جماعتیں ان کی ناراضی کا تصور بھی نہیں کر سکتیں، انہیں اس طاقتور پوزیشن میں وہ کارکن لائے ہیں جو ان کی مختصر کال پر جان تک کی پروا نہ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، ان کارکنوں کی غالب اکثریت ایک مسلک سے تعلق رکھتی ہیں، یہ مولانا ہی کا کمال ہے کہ اس مسلک کے جید عالم مولانا سمیع الحق کی بھی، جب وہ حیات تھے، اتنی نہ سنی گئی جتنی مولانا موصوف کی۔ انکے والد بزگوار ایک عالم باعمل تھے، جمہوریت کے استحکام، قانون وآئین کی پاسداری کیلئے ان کا کردار تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ درویش صفت سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ہر تحریک میں ان کا قائدانہ کردار رہا مگر کوئی اُن پر بلیک میلنگ یا صرف اپنے جماعتی، ذاتی و گروہی مفاد کیلئے کسی اتحاد کو استعمال کرنے کا الزام تک نہیں لگا سکا ۔ 1970کے انتخابات کے بعد صوبہ سر حد (پختونخوا) اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط حکومت بنی، بھٹو صاحب نے جب بلوچستان حکومت کو ختم کر کے گورنر راج نافذ کیا تو نیشنل عوامی پارٹی کا اصولی ساتھ دیتے ہوئے جے یو آئی نے بھی دونوں صوبوں میں حکومت چھوڑ دی، اور پھر دنیا نے یہ درویشانہ مظاہرہ بھی دیکھا کہ ان حکومتوں کے نیپ اور جے یو آئی کے گورنر، وزیر اعلیٰ ٹرکوں میں اپنا سامان لادنے کی بجائے اپنے اپنے سوٹ کیس اُٹھائے ذاتی گاڑیوں میں قصر سلطنت سے روانہ ہوئے۔ وہ دور نظریاتی دور تھا، سیاستدان جو کہتے تھے پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے، نیشنل عوامی پارٹی بلوچستان کےصدر خیر بخش مری بلوچستان کے سب بڑے قبیلے مری کے سردار تھے لیکن اُسی بڑے سردار ہی نے بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کیخلاف قراددد پیش کی جو ددو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی، اس قراددادمیں سرداری نظام کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کر کے اس کو مخمصے سے دوچار کر دیا۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہم مولانافضل لرحمٰن کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کی ناراضی مول لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ پی ڈی ایم اور اور جمعیت (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جہاں یہ انکشاف کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے انہیں چیئرمین سینیٹ بننے کی پیش کش کی تھی‘ فیض حمید نے ملاقات میں مجھ سے کہا تھا میں آپ کو سینیٹ کا رکن اور پھر چیئرمین دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ کو سسٹم میں تبدیلی لانی ہے‘ میں نے انکار کر دیا تھا، اُن کا فرمان ہے کہ‘مسلم لیگ (ن) کو دبئی میں ہونے والی ملاقاتوں پر پی ڈی ایم کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا‘ پی ڈی ایم ایک تحریک تھی اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی‘ عام انتخابات وقت پر ہوں گے‘ جلد مرکز‘سندھ اور بلوچستان میں نگران حکومتیں قائم ہو جائیں گی‘ گورنر غلام علی کو تبدیل نہیں کریں گے‘ عجیب بات ہے۔‘ خیبر پختونخوا میں حکومت ہماری ہو گی‘ ہم انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سخت خلاف ہیں۔ سینئر صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے نکلنے والوں کیلئےبھی پارٹی درکار تھی اسی لئے کنگ پارٹی بنی۔ ایمل ولی ابھی سیاست میں ناپختہ ہیں میری عمر کو پہنچیں گے تو اونچ نیچ سمجھ جائیںگے۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ دبئی مذاکرات اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے ہوئے اس لئے سب کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا۔ مولانا کے اس بیان کے بعد جیسا کے کہا گیا کہ ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی، فوری طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نےانہیں منانےکیلئے دبئی مدعو کر لیا، دوسری جانب وزیر اعظم سےپی ڈی ایم سربراہ نے ملاقات کی۔ جے یوآئی ف کے ترجمان اسلم غوری کا کہنا ہے کہ دبئی مذاکرات پر اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات ہمارا حق ہیں، جے یو آئی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد الیکشن کی حامی تھی۔ یاد رہے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی حکومت سے ناراضی کی وجہ سامنے آئی تھی، فضل الرحمان اسمبلیوں کی میعاد بڑھانے کے خواہاں ہیں جبکہ آصف زرداری نے اسمبلیوں کی میعاد بڑھانے کی مخالفت کی ہے، بتایا جاتا ہے کہ آصف زرداری نے نواز شریف کو بھی بر وقت انتخابات پر قائل کر لیا ہے۔ بنابریں مولانا کسی کا دل بھی دکھانا نہیں چاہتے، وہ جن سے ناراض ہوتے ہیں ان کے ساتھ انتخابات میں شراکت بھی کر لیتے ہیں وگرنہ اکیلے انتخابات میں بہر صورت اتنی نشستیں ضرور لے لیتے ہیں کہ اگلی یعنی نئی حکومت کی ضرورت بن جائیں، دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات کب ہونگے لیکن جب بھی ہوئے مولانا اپنے پتے حسب معمول خوب کھیلیں گے!!
255