سرکاری اسپتالوں کی حالتِ زار 275

سرکاری اسپتالوں کی حالتِ زار

وطن عزیز کے عوام آزادی حاصل کئے ہوئے 76سال بعد بھی وہ سہولتیں حاصل نہیں کرپائے ،جن کا نئی مملکت کے وجود میں آتے ہی وعدہ کیا گیا تھا،آزادی کا مقصد محض انگریز سے آزادی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ہر اس استحصال کا خاتمہ تھا جو دور غلامی میں مقامی لوگوں کا کیا جاتاتھا،لیکن شومئی قسمت کہ آج تک ایسا اس لئے نہیں ہوسکا کہ گورے انگریز کی جگہ اس کالے انگریز نے لے لی جو انگریزوں ہی کے پروردہ و ہم نشیں تھے،لہٰذا وہ کیونکر وہ مراعات عوام کو منتقل کرسکتے تھے جن کیلئے انہوں نے انگریز کی نوکری وچاکری کی تھی، بعدازاں ان کے ساتھ دیگر وطن ودین فروش بھی مل گئے،یہاں تک کہ انہوں نے ملک کے دولخت ہونے کو تو قبول کیا ہی بلکہ اس میں ہاتھ بھی بٹایا لیکن بنگالی عوام کو وہ حق نہیں دیا جو ان کا بنتا تھا،شرمناک امر یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ تسلسل جاری ہے۔

یہاں ہم کسی ایک حکمران کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ نہیں لےرہے، بلکہ جومجموعی صورتحال مشہورہے اس پر مجموعی بات کررہے ہیں۔قیام پاکستان سے اب تک بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص ہونے والی خطیر رقم حکمران طبقات کی جیبوں میں جانے کی بجائے اگر اس کا عشرِ عشیر بھی ترقیاتی کاموں پر صرف ہوتا تو آج یہ ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا نہ کہ سامراجی مالیاتی اداروں سے قرض کیلئے قطار میں لگا بے بسی کا شاہکار نظر آتا۔

عالمِ ستم یہ ہے کہ عوام کو روٹی،کپڑا اور مکان تو کیا ،روح وبدن کا رشتہ برقراررکھنے کیلئے ناگزیرسہولتیں بھی دستیاب نہیں ،اس سلسلے میں دیہات اور چھوٹے شہروں کے عوام کس اذیت سے دوچارہیںاس کے اندازے کیلئے صرف ملک کے سب سےبڑے شہر جسے بڑے فخر سے منی پاکستان کہا جاتاہے اس شہرقائد ،جسے عروس البلاد بھی کہاجاتارہا،آج لوڈشیڈنگ نےاسی عروس البلاد کو تاریکیوں کا شہر بنادیا ہے۔

حکمران طبقات اوران کی کھلی چھوٹ کی وجہ سے پیداہونے والے مافیاز میں بلاامتیاز اختیار رکھنے والاہر طبقہ شامل ہے،قابل افسوس حد تک وہ بھی جن کو مسیحاکہا جاتاہے،حکمرانوں کی نالائقیوں یا خود غرضیوں کی وجہ سے دیہات تو دیہات کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی سہولتوں کا فقدان ہے جو عرصہ دراز سے ہے اور کم ہونے کی بجائے اس میں آئے روز اضافہ ہی دیکھنے میں آرہاہے۔

جناح اور سول اسپتال جیسے بڑے اسپتالوں سمیت تمام سرکاری اسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں۔ ایکسرے، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں خراب رہتی ہیں۔جناح اسپتال جیسے بڑے اسپتال میں بھی ایم آر آئی وغیرہ کیلئے دوا تو دوایہاں تک کہ سرنج بھی مریض کو خود خریدکر لانا پڑتی ہے،ہر کوئی جانتاہے کہ کینسر کی دوائیں کس قدر مہنگی ہیں ایک مریض کے مطابق صرف ایک دوا ایک ماہ کیلئے 70ہزارروپے میں خریدنی پڑتی ہے ،دیگر دوائیوں کے اخراجات علیحدہ ہیں ۔

غیر ملکی سفیر وغیرہ شاہراہ فیصل کے ذریعے اپنے قونصل خانوں یا رہائش گاہوں کوجاتے ہیں انہیں اگر سرکاری اسپتالوں کے باہر فٹ پاتھوں پر سینکڑوں لاچار رات اوردن کو سونے والے مریضوں کے ساتھ آنے والے تیماردار نظر آجائیںتو انہیں اندازہ ہوجائے کہ سندھ کے حکمران کتنے مہمان نواز اور ان کے اسپتالوں میں کس قدر چابکدستی سے علاج ہوتاہے، خیر تیماردار تو جھلسنے والی گرمی اپنے پیاروں کیلئے پھر بھی برداشت کرلینگے لیکن وارڈز میں داخل مریضوں کو بھی کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی اکثر اسپتالوں میںبیڈ نہ ہونے کی وجہ سےزمین یا اسٹریچر پر ہی علاج کیا جاتا ہے، بسترکمیاب ہونے کی وجہ سے اکثر اسپتالوں سے مریضو ں کے سسک سسک کرزمین پرتڑپنے کی خبریں ملتی رہتی ہیں ۔آپریشن کیلئے جو تاریخ دی جاتی ہے اس پر آپریشن نہیں ہوتے ،مریض ہر مرتبہ آپریشن کی امید پر رہتے ہیں لیکن اگلی تاریخ دے کران کو لوٹادیا جاتاہے۔جن کے پاس مال وزر ہے ان کے لئے تو تمام سہولتوں سے آراستہ اسپتال موجود ہیں ۔ پاکستان میں نہ جن کے تیل کے کنویں ہیں اور نہ سونے کی کانیں وہ انہی غریبوں کا استحصال کرکے سرمایہ دار، مالدار بن گئے جبکہ اس ملک کے اصل محب وطن اور محنت کش غریب بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، فیض صاحب نے کہا تھا

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

بشکریہ جنگ نیوزکالم