بابا بزنجو کی یاد میں 364

بابا بزنجو کی یاد میں

مرض سےسال بھر کشمکش وکشاکش کے بعد جب خداوند کریم کی عنایت خاص سے روبہ صحت ہوا،توتن ومن میں اگرچہ کمزوری باقی تھی لیکن قلب ونظرکی دنیا کچھ کچھ جوان سی محسوس ہوئی ، جی نے چاہا کہ آرٹس کونسل جایا جائے،گویابقول فیض صاحب،’’پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں...پھر تصور نےلیا اُس بزم میں جانے کا نام‘‘جب ہم آرٹس کونسل پہنچے توآڈیٹوریم2میں نیشنل پارٹی کے تحت اورآرٹس کونسل آف پاکستا ن کراچی کی فوک اینڈ ہیرٹیج کمیٹی کے تعاون سے بے داغ وبااصول سیاستدان میر غوث بخش بزنجو اورحق گو حق نوازحاصل بزنجو کی یاد میں شمعیں روشن تھیں ۔ بنابریں اس کی روشنی میںمبارک بلوچ کی کتاب’’ تار یخ ایران و بلوچستان ‘اور جاوید حسن کی کتاب’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ کی رونمائی بھی ہورہی تھی ۔ بلاشبہ جہاں آرٹس کونسل کراچی اپنے ان تھک سربراہ احمدشاہ اوراُن کی ہر ساعت فعال ٹیم کی کوششوں کی بدولت علم وثقافت ،فن وہنرکا ایسا ادارہ بن چکاہے جس کی نہ صرف ملک کے طول وعرض میں توقیر ہے بلکہ بیرونِ دنیامیںبھی جس کو جانا اورمانا جاتاہے،درحقیقت آرٹس کونسل کراچی ہی ایک ایسا مقام ہے جہاں کےوسیع وعریض لان اور مختلف آڈیٹوریمزمیں بیک وقت کئی پروگرام جاری رہتے ہیں۔پورے ملک میں اس نوع کی مثال ناپیدہے۔ پروگرام کی صدارت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کررہے تھے۔ جبکہ سیمینا ر سے اُ ستا د محترم ڈاکٹرپروفیسر توصیف احمدخان،نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی ،اختر حسین ایڈووکیٹ، کرامت علی، مجاہد بریلوی، شاہینہ رمضان و دیگر نےخطاب کیا۔ڈاکٹر مالک بلوچ کے خطاب کا اجمالی خاکہ ومیزانیہ یہ تھاکہ قوموں کے تاریخی تشخص کو ماننے کے سوا پاکستان کو موجودہ بحران سے نجات دلانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔سوا تین سوبرس ہوئے، جب روح کو تن سے جدا کرنے والے فرشتۂ اجل سے جینئس خوشحال خان خٹک نے کہا تھا ’’مرتے تو وہ ہیں جن کا نام و نشان باقی نہیں رہتا، جو دوسروں کیلئے جیتے ہیں، بعد از مرگ بھی وہ زندہ رہتے ہیں‘‘ بلاشبہ خوشحال بابا احساس و خیال کے دہر میں آج بھی اسی طرح رونق افروز ہیں جس طرح وہ معرکہ حیات میں تمام تر کمالات کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔

ابتدائے کائنات تا امروز،اربوں کھربوںلوگ نیست و نابودہوچکے،مگر ان میں کتنے ایسے ہیں جو آج کسی کو یاد ہوں گے، اُستاد غالب نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا۔’’سب کہاںکچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں...خاک میں کیا کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں‘‘۔کہنایہ ہےکہ ہم جب آڈیٹوریم گئے تو کوئی نشست خالی نہیں تھی۔ہر مقررنےتاریخ کو گویا دریا کوکو زے میں بندکرتے ہوئےفیض وتفہیم کے دریابہائے۔راقم کامگران سطور میں ازبس کہنایہ ہے کہ مرد درویش میر غوث بخش بزنجو کی شخصیت و سیاست نے ایک جہان کو متاثر کئے رکھا، اور جیساکہ خوشحال باباکاکہناتھاکہ ایسے لوگ مرتے نہیں،حضرت بزنجو بھی آج ان گنت لوگوں کے دلوں میں زندہ وجاوید ہیں۔غوث بخش بزنجو مرحوم نے 72برس کی حیات میں25برس جمہوریت اور بشری وقومیتوںکے حقوق کی خاطر زندانوں کی نذرکئے۔مگرآمروں کےاشارہ ابروپر رقصاں سیاستدانوں کے ہاں یہ قربانیاں لایعنی ہیں۔ایسے موقع پرستوں کا کہنا یہ ہے کہ مروجہ نظام کو چلانے کیلئے ان جیسا ہی بننا ضروری ہے! آپ کو یاد ہوگاکہ جناب صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت حاصل بزنجو سینٹ کی چیئرمین شپ کیلئے پی پی، ن لیگ اور جے یو آئی سمیت حزب اختلاف کے متفقہ اُمیدوارتھے ۔31جولائی 2019کو جب صادق سنجرانی کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہوئی تو 64اراکین نے کھڑے ہو کر قرارداد کی حمایت کی لیکن خفیہ پولنگ کے وقت یہی 64ووٹ 50میں تبدیل ہو گئے۔یوں تحریک عدم اعتما د ناکام ہوئی اور حاصل بزنجوابن الوقت حلیفوں کی بے وفائی کے سبب چیئرمین نہ بن سکے ۔ المیہ یہ ہے کہ شعبدہ باز سیاستدانوں کے فریب میں آکر قوم حقیقت پر مجاز اور سچے لیڈروں پر نعرہ زن بہروپیوں کو ترجیح دیتی رہی ہے۔اس ملک کے دروبام نے داغداروں کیلئے بے داغ سیاستدانوں کو کھو دیا، یہی سبب ہےکہ لٹیرے خوشحال اور عوام کنگال ہیں۔ مرور ایام سےثابت ہوچکا ہےکہ باچاخان سے بزنجو تک اور میرگل خان نصیر سے اجمل خٹک تک تمام محب وطن لوگ تھے، ایسے وطن دوست کہ جن کے سینوں پر ’’غداری‘‘ کے تمغے تو تھے لیکن بددیانتی و بدعنوانی کا کوئی داغ نہ تھا۔ فیض صاحب نے ہی تو کہا تھا۔ ہر داغ ہے اِس دل میں بجز داغِ ندامت!!

بشکریہ جنگ نیوزکالم