78

اچھے برے جسم

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکیاں دیں تو ساتھ ہی دوچار گالیاں بھی دے ڈالیں۔ یہ گالیاں ایران کی قیادت کو دیں۔ ایک گالی آبنائے ہرمز کو بھی دے ڈالی۔ اس پر دنیا والوں نے حیرت ظاہر کی اور لے دے بھی کی۔ دو تین دن قبل انہوں نے ساتھ نہ دینے پر فرانس کے صدر میکراں کو بھی دوچار سنا ڈالیں، کہا تم تو وہی ہو ناں جسے اس کی بیگم نے تھپڑ دے مارا تھا۔ میکراں نے اس پر شرافت دکھائی اور جوابی طعنہ زنی کرنے کے بجائے محض اتنا کہا کہ یہ بیان اس قابل نہیں ہے کہ جواب دیا جائے۔ 
انداز گفتگو گھر اور گلی میں ملنے والی تربیت کا پتہ دیتا ہے اور کچھ پیدائشی صفات کا بھی یعنی جسے سائنس کی زبان میں وراثتی خصوصیات کہا کرتے ہیں۔ ٹرمپ اور میکراں کے مکالمے سے بس یونہی ایک پرانی بات یاد آ گئی جس کا کوئی تعلق حالیہ واقعے کے موازنے سے نہیں ہے بہرحال باہمی موازنہ تو موجود ہے۔ 
ہوا کچھ یوں کہ اپنے دور کے سب سے مقبول شاعر جگر مراد آبادی نے، رند بلانوش تھے، صوفی بزرگ اور شاعر اصغر گونڈوی کی تعلیم اور تلقین کے زیر اثر شراب چھوڑ دی اور پابند شریعت ہو گئے۔ یہ خبر سْن کر شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی بھڑک اٹھے۔ بہت ناراض ہوئے کہ شراب کیوں چھوڑی :
توبہ توبہ۔ شراب سے توبہ ؟
غصے میں آ کر جگر کی شان میں یہ ہجو بہ شعر کہہ ڈالا کہ:
یاد ہے جب جگر چڑھاتے تھے 
کیا الف ہوکے ہنہناتے تھے 
’’ترقی پسند‘‘ حلقوں میں یہ شعر خوب مقبول ہوا۔ جگر تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے بھی جواب میں ایک شعر ارشاد فرمایا۔ کیا شعر تھا، ملاحظہ کیجئے:
 تو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہے 
دیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے۔ 
خوش نفس اور بے خوش نفس کی تشریح جیسی بیالوجی نے اس دور میں کی ہے، ماضی کے فلسفی پورا زور لگا کر بھی نہیں کر سکے تھے۔ 
لیکن اس تشریح سے ایک الجھن بھی پیدا ہو گئی اگرچہ اس کی بھی سلجھن ہے لیکن بہت زور لگا کر ہی اس تک پہنچا جا سکتا ہے اور الجھن یہ ہے کہ اچھا برا ہر کوئی اپنی خلقت (ڈی این اے) کے باعث ہی ہے تو گناہ و ثواب کا تعین کیسے ہو گا۔ 
موٹی مثال، کیا شیر اور چیتے اس بات پر گردن زدنی قرار پا جائیں گے کہ وہ دوسرے جانوروں کو کیوں کھا جاتے ہیں، گھاس پھوس کھا کر ہرن کی طرح اچھے بچے کیوں نہیں بنتے۔ 
یہ الجھن اور بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ مثلاً ڈی این اے کے علم کے تحت تو پھر دنیا کا ہر شخص خود غرض ثابت ہو جائے گا۔ جن لوگوں کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ وہ انسانیت کے بے لوث خدمت گار ہیں، اصل میں تو وہ بھی خود غرض ہیں، حتیٰ کہ ماں کی مامتا بھی خود غرضی کا دوسرا نام ہے۔ 
بالکل ، ایسا ہی ہے۔ ایک نشئی اس لئے نشہ کرتا ہے کہ اسے نشے کے بنا چین نہیں ملتا تو یہ خود غرضی ہے، ایک عالم اور سکالر اس لئے رات دن علم حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے کہ علم کی کھوج اسے چین نہیں لینے دیتی تو وہ بھی خود غرض ہے۔ ماں سے بچے کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی، اْس کے دکھ سے وہ خود دکھی ہو جاتی ہے۔ بچے کی تکلیف دور کر کے اصل میں وہ کیا اپنی تکلیف دور کرنے کی فکر میں نہیں ہوتی؟۔ ایدھی، مدر ٹریسا اور نعمت اللہ خاں جیسے لوگ خدمت کیے بغیر آرام سے سو ہی نہیں سکتے، چنانچہ ان سب خدمت گاروں کی خدمت گاری اصل میں ذاتی چین سکون حاصل کرنے کیلئے ہے۔ صوفی رشی منی خدا کی یاد سے فرصت اس لئے نہیں پاتے کہ خدا کو یاد نہ کریں تو گویا کانٹوں کی سیج پر لٹا دئیے جاتے ہیں۔ کانٹوں سے بچنے کیلئے وہ سب تپسّیا کرکے دکھ جھیلتے ہیں۔
ایسے ہی پھر برے لوگوں کی بات ہو گئی۔ ڈی این اے کا علم بتاتا ہے کہ غصہ، بدلے کی آگ، اذیت رسانی کی عادت سب حیاتیاتی خصوصیات TRAITS ہیں جو انسان ساتھ لے کر پیدا ہوا۔ 
کوئی بہت اچھا آدمی مر جائے تو کہتے ہیں، نیک روح تھی، برے آدمی کو بری روح والا کہا جاتا ہے۔ لیکن اب پتہ چلا کہ روحیں تو سب ایک جیسی ہوتی ہیں، یہاں تک کہ انسان کیا، حیوان کیا، چرند پرند کیا اور حشرات کیا۔ برا یا بھلا تو جسم ہوا کرتا ہے۔ گدھے کی روح شیر کے جسم میں ڈال دو، وہ شیر ہو جائے گا۔ دکھ سکھ محسوس کرنا، غصے میں آنا، تکلیف اور درد سے چیخ اٹھنا، کسی کی مدد کرنے کا جذبہ ہو یا کسی کو دکھ دے کر خوش ہونے کی عادت، سب ڈی این اے میں لکھا ہے۔ اور سب روحیں ایک جیسی ہیں، اس بات کو سب سے زیادہ یا تو بدھوں نے سمجھا یا جین مت والوں نے۔ 
بہت بڑی اُلجھن ہے، سلجھن یہ ہے کہ جیسی جتنی خرابی ڈی این اے میں ہے ، اسے دبانے اور دور کرنے کیلئے زور لگانے کا اتنا ہی ثواب ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو الہام نے بتایا۔ یہی سلجھن ہے۔ 
حیاتیاتی خصوصیات ابھرنے یا دب جانے کا بڑا تعلق ’’ماحولیات‘‘ سے بھی ہے۔ کسی دکھیارے مظلوم کو بندوق دے دو، وہ اگلے ہی لمحے ظالم بن جائے گا۔ بہت سے ایماندار اس لئے بے ایمانی نہیں کرتے کہ انہیں موقع نہیں ملتا۔ استحصال کے بہت بڑے مخالف حکومت میں آکر سب سے بڑے استحصالی بن جاتے ہیں۔ حرمتِ فکر کے علمبردار طاقت کے ایوان میں آ کر بے رحم ڈکٹیٹر بنتے تاریخ نے بہت بار دیکھے۔ شریفوں کے پر نکل آتے ہیں تو شرافت چھوڑنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے۔ 
بڑے بڑے فرعون حوالہ زنداں ہوتے ہیں تو خدائی کا نشہ ہرن ہو جاتا ہے، بندگی کی تسبیح خود بخود ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ جسے ماحولیاتی جبر اچھا بنا دے، اچھا وہ نہیں ہے۔ اچھا وہ ہے جو خود پر جبر کر کے خود کو اچھا بنا لے۔ سورۃ العصر اور سورۃالتین میں یہی تو بتایا گیا ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت