اسلام آباد میں ایران امریکہ امن مذاکرات کا عمل شروع ہوگیا۔ زیادہ تر امید یہی ہے کہ جنگ ختم ہونیکا راستہ نکل آئے گا۔ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم اور اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کے درمیان وہ کشمکش یاد آگئی جو افغانستان سے روس کے انخلاء کے وقت ہونے والے معاہدے کے موقع پر پیدا ہوئی تھی۔ صدرضیاء اور ان کی ٹیم کو شبہ تھا کہ جونیجو امریکہ اوراس کے فائدے میں فائدہ کریں گے ، وہ سخت رویہ چاہتے تھے ۔
صدر ٹرمپ کو جو 10 نکات ترمیم کے بعد ایران نے بھیجے ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس نے رپورٹ دی کہ اس میں ایران افزودگی یورینیم کو عالمی ایجنسی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے لیکن پھر پاسداران انقلاب کی نگرانی میں کام کرنے والی ایرانی ایجنسی کے سربراہ کا بیان آیا کہ یورینیم کی افزودگی کے حق سے دستبردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اطلاعات ہیں کہ صدر پزشکیان کی حکومت صلح کے لئے لچک دکھانے پر آمادہ ہے لیکن پاسداران سخت روی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایرانی شہروں میں پاسداران انقلاب نے امن مذاکرات کیخلاف مظاہرے بھی کئے اور ملکی مفادات پر سودے بازی کے خلاف حکومت کو انتباہ بھی جاری کیا۔ ایران میں اصل کنٹرول پاسداران کے پاس ہے اور وہ مذاکرات کی مختار پزشکیان حکومت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے ۔
مرشد پہلے ہی ‘‘تتاپا’’ ‘تحریک تحفظ آئین پاکستان) سے نالاں ہے کہ اس نے مرشد کی رہائی کے راستے روک دیئے ہیں، اب ‘‘تتاپا’’ کے صدر کے تازہ بیان نے جلتی پر تیل چھڑک ڈالا ہے ۔ تتاپا کے چیئرمین محمود اچکزئی نے عالمی تنازعات میں پاکستان کے تاریخی کردار کی جی بھر کے تعریف کی ہے اورکہا ہے کہ کوئی پاگل ہی ہوگا جو اس کامیابی پر خوش نہ ہو، حکومت کے ساتھ ہیں، مرشد کی اپنی جماعت اس سارے بیان کو بھی غلط قرار دے رہی ہے اور سب سے بڑا اعتراض یہ کیا ہے کہ ہمیں پاگل کیوں کہہ ڈالا؟ یُوٹُو تتاپا…!
وزیر دفاع خواجہ آصف نے آرمی چیف فیلڈ مارشل کے لئے بجا ارشاد فرمایا کہ ان کی قیادت میں پاکستان نے پانچ گنا بڑے دشمن کو دھول چٹا دی۔ انہوں نے شاندار الفاظ میں فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کیا۔
خواجہ صاحب سے گزارش ہے کہ ایسے ہی شاندار الفاظ میں خود اپنی حکومت کو بھی خراج تحسین پیش کردیں جس نے 24 کروڑ عوام کو دھول چٹا دی۔ قارئین اعتراض کر سکتے ہیں کہ ابھی کہاں چٹا دی، چٹانے کا عمل جو چار سال پہلے شروع ہوا ابھی تک جاری ہے اور ‘‘دھول چٹا دی کا’’ سرٹیفکیٹ یہ عمل مکمل ہونے پر ہی جاری کیا جا سکتا ہے ۔
ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے 93 فیصد عوام امریکہ ایران جنگ کو روکنے کے لئے پاکستانی حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں صرف 7 فیصد مخالف ہیں یعنی کہ کیا مطلب؟ مرشداتی جماعت کے حامی کم ہوتے ہوتے صرف 7 فیصد رہ گئے ؟
9 اپریل کا جلسہ خود مرشداتی جماعت نے نو دو گیارہ کر دیا اور یہ کیا ماجرا ہوگیا۔ حیرت اس لئے ہے کہ ماضی میں جب بھی کوئی غیر ملکی شخصیت پاکستان آتی تھی، مرشداتی جماعت جھٹ سے جلسے اور دھرنے کا اعلان کردیتی تھی مگر اس بار تو پارٹی کی کچھ ایسی کایا کلپ ہوئی کہ جلسے سے ایک روز پہلے کہہ دیا کہ مہمانوں کے احترام میں اور قومی مفاد میں جلسہ ملتوی کرتے ہیں۔ یا للعجب سے بڑھ کر واللعجب ہی ہوگیا۔
خبریں تو اور بھی ہیں اور مزے کی ہیں ۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا خود مرشد نے یہ فیصلہ کرنے کو کہا لیکن باہر آنے والی اندر کی خبر سے پتہ چلا کہ مرشد سے ملاقات بعد میں ہوئی، فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ مرشد سے ملنے پارٹی کے وکیل صفدر صاحب بعد میں جیل پہنچے تھے ۔
اندر سے باہر آنے والی ایک اور خبر سے پتہ چلا کہ مرشد پارٹی قیادت سے بہت نالاں ہیں اور حکم دیا ہے کہ ساری قیادت بدل دی جائے کہ غیر وفادار اور ناہنجار ثابت ہوئی ہے ۔ اس کی جگہ وفادار اور ہنجار قیادت لائی جائے ۔ اس حکم کی تعمیل کون کرے گا۔ علیمہ خان یا سلمان اکرم راجہ، کسی کو پتہ نہیں لیکن سوال ہے کہ مرشد بار بار کبھی ایک عہدیدار کو بدلتے ہیں توکبھی دوسرے کو اور کبھی سبھی کو، آخر وہ ایک ہی بار وفادار اور کام کے عہدیدار کیوں نہیں لگا دیتے اور پھر دوسرا سوال یہ ہے کہ سارے کے سارے ارکان اسمبلی بھی تو نالائق اور غیر وفادار نکلے ہیں۔ چند ایک کے سوا، جب بھی جلسے دھرنے یا مظاہرے کی کال دی، سب بھاگ کر گرفتاری دینے تھانے پہنچ جاتے ہیں تاکہ موقع واردات پر جانے سے بچ سکیں۔ علیمہ خاں کہتی ہیں توکبھی اس بہانے ، کبھی اُس بہانے ٹال دیتے ہیں۔ ان سب کو بھی بدل ڈالیں گے کیا۔ پارٹی کے اندر کی کہانی توکچھ اور ہی لگتی ہے ۔ خود پارٹی کے غل غپاڑہ بریگیڈ کے غل غپاڑے سے لگتا ہے کہ پارٹی نے ‘‘مرشد’’ کو ڈمپ کردیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ مرشد وہاں خوش ہم یہاں خوش، کوئی قریبی کسی پارٹی لیڈر سے مرشد کا حال احوال پوچھے تو وہ جھلا کر کہہ دیتے ہیں ‘‘مٹی پاؤ’’
9 اپریل کا قصہ 10 تاریخ کو یاد آیا، 11 کو چھپے گا، مطلب یہ قصہ بھی بھولی بسری یاد بن کر رہ گیا کسی اور خبر نے یاد دلایا تو ہمیں یاد آیا والی بات ہوگئی۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی مرشداتی پارٹی ڈری ہوئی تھی کہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ مرشد نے کہا ڈرو مت میرے پاس ایسا ٹرمپ کارڈ ہے کہ دشمن منہ دیکھتے رہ جائیں گے ۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، لکھ لو، ایسا داؤ چلاؤں گا کہ سب سر پٹکتے رہ جائیں گے ۔ پھر ایک کے بعد ایک کے حساب سے پارٹی لیڈرمیڈیا کے سامنے آتے اور خوشخبری سناتے کہ تحریک عدم اعتماد کا قصہ ختم۔ مرشد کل ایسا سرپرائز دیں گے بس دھوپی پٹکا ہی لگا دیں گے ۔ سارا ملک تجسس کی ڈوری سے لٹک گیا۔ آخر اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ سپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا۔ ووٹنگ رکوا دی۔ مرشداتی جماعت کا جشن شروع ہوگیا۔ پارٹی کے ایک سمجھدار حامی نے ایک میڈیا آفس میں سرپیٹ لیا کہا مرشد نے یہ کیا جھک ماری۔ آئین ہی کو روند دیا۔ وزیراعظم ہاؤس سے بے دخل ہوکر جیل میں داخل ہوگئے اور ابھی تک وہیں ہیں۔ اپنے ہاتھوں خود کو ہی نو دو گیارہ کر دیا۔
68