67

مرشد اور ’’لامقام‘‘ کی منزل

چین نے کہا ہے کہ دنیا پر جنگل کا قانون نافذ نہیں رہنا چاہیے۔ چین کا اشارہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی طرف تھا۔ لیکن جنگل کا قانون امریکہ نے پہلی بار نافذ نہیں کیا۔ حالیہ عرصے میں اس سے پہلے ایک بار افغانستان اور دو بار عراق پر یہ جنگل کا قانون جنگل کا بادشاہ نافذ کر چکا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں جو کچھ کیا، وہ جنگل کے قانون کی سب سے خوفناک مثال تھی لیکن اسرائیل نے یہ سب کچھ امریکہ ہی کی آشیرباد سے کیا۔ لوگ صدر ٹرمپ پر اسرائیل نوازی کا الزام لگاتے ہیں لیکن بائیڈن سابق امریکی صدر، ٹرمپ سے بڑھ کر اسرائیل نواز تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگر غزہ میں 80 ہزار نہتے ، بے بس شہری مار ڈالے گئے تو ان میں سے 77 ہزار بائیڈن کے دور میں مارے گئے۔ 
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں ہمیشہ جنگل کا قانون نافذ رہا ہے۔ آدمی کے احترام کا قانون تاریخ میں، انبیائے کرام کو چھوڑ کر صرف خلافت راشدہ کے پہلے دو ادوار میں دنیا نے دیکھا۔ (باقی دو ادوار میں سازشیوں نے فساد برپا کر دیا تھا۔) اس مختصر زمانے کے سوا دنیا میں آدمی کے احترام کا قانون صرف کتابوں میں ملتا ہے۔ 
ایک برطانوی وزیر نے کہا ہے امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے غلطی کی۔
امریکہ کے برطانیہ سے تعلقات ٹرمپ کے آنے کے بعد اچھے نہیں رہے، برطانوی وزیر نے یہ بیان اسی لئے دیا۔ تعلقات اچھے ہوتے تو ایسا بیان کبھی نہ آتا۔ جنگ عظیم میں امریکہ نے دو ایٹم بم جاپان کے دو شہروں پر برسائے تھے، لاکھوں آدمی ہلاک اور زندہ درگور ہو گئے تھے، برطانیہ نے اس حملے کو غلطی نہیں کہا تھا۔ عراق پر حملے میں تو برطانیہ امریکہ کا پارٹنر تھا۔ افغانستان پر حملے میں بھی ساتھ تھا۔ غزہ میں اسرائیل نے امریکی سرپرستی میں گھر گھر لاشیں گرائیں، سارا علاقہ کھنڈرات میں بدل دیا۔ برطانیہ نے اسے غلطی نہیں کہا۔ 
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یورپی ممالک کا ’’ضمیر‘‘ جاگ اٹھا ہے۔ برطانیہ کا ضمیر ضمیر سے ہمیشہ محروم رہا ہے۔ ضمیر نہیں، یہ ناراضگی کا شاخسانہ ہے۔ البتہ کیتھولک ممالک ٹرمپ کی پروٹسٹنٹ سوچ کی وجہ سے دراڑ کے اس پار جا کھڑے ہوئے ہیں، وہ معاملہ دوستانہ ناراضگی سے آگے کی چیز ہے، ضمیر کا سوال البتہ وہاں بھی نہیں ہے۔ 

سندھ کے شہر خیرپور میں ایک لڑکی کو شادی کرنے کے جرم میں اس کے ماموں نے جرگہ بلا کر، پولیس والوں کی موجودگی میں قتل کر دیا۔ مقتولہ کہتی رہی میں بے گناہ ہوں۔ قاتل پولیس کی آنکھوں کے سامنے فرار ہو گیا۔ مفروری ختم ہو گی تو واپس آئے گا اور مقتولہ کی زمین کا وارث بن جائے گا۔ 
سندھ میں ایسی وارداتیں ہر روز ہوتی ہیں۔ سندھ کی حکمران جماعت المعروف آل سندھ وڈیرہ ایسوسی ایشن کا کوئی نہ کوئی رہنما، ہر بار نہیں تو اکثر بار ایسی وارداتوں کے پیچھے نکلتا ہے۔ سندھ پر نافذ جنگل کا قانون ہر بار ان قاتلوں کو صاف بچا لیتا ہے۔
لیکن اس بار کچھ اضافی بھی ہوا جسے انگریزی میں ’’مور اوور‘‘ کہتے ہیں۔ سندھ کے ایک وزیر کھل کر قاتلوں کی حمایت میں سامنے آ گئے اور ایک ’’جرا„ مندانہ‘‘ بیان دے ڈالا اور بتایا کہ قاتلوں نے سرے سے کوئی جرم ہی نہیں کیا۔ ان وزیر صاحب  کے پاس داخلہ امور کا محکمہ ہے۔ قتل کی وڈیو عام ہوئی تو موصوف نے بیان جاری کیا کہ ایسے واقعات سندھ کی صوفی روایات کے منافی ہیں۔ 
وزیر صاحب نے بین السطور نہیں، کھل کر دل کی بات کہی۔ یہ بتا دیا کہ کوئی سنگین جرم نہیں ہوا ، محض صوفی روایات کی خلاف  ورزی کی گئی۔ مثال کے طور پر قوالی ہو رہی ہو اور سب لوگ دھمال ڈال رہے ہوں لیکن ایک شخص اپنی جگہ بیٹھا رہے اور دھمال نہ ڈالے تو یہی کہا جائے گا کہ وہ صوفی روایات کی خلا ف ورزی کر رہا ہے۔ کیا پولیس اسے گرفتار کر لے گی؟۔ ظاہر ہے کہ نہیں اس نے محض ایک روایت پر عمل نہیں کیا ہے، قانونی طور پر کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔ 
وزیر موصوف کے اس ’’والہانہ‘‘ بیان کے بعد سندھ پولیس نے اگر ملزم گرفتار کر لئے ہیں تو انہیں فوراً چھوڑ دینا چاہیے۔ کیونکہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، بس قوالی کی محفل میں دھمال نہ ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 
آل سندھ وڈیرہ ایسوسی ایشن کے چیئرمین بلاول بھٹو کا اس بارے میں کوئی بیان ابھی سامنے نہیں آیا۔ 
خلیجی جنگ کیا برپا ہوئی، مرشد کو سب نے بھلا دیا۔ کسی کو ان کی خبر لینے، مطلب ان کی خبر دریافت کرنے کا خیال ہی نہیں آیا حالانکہ وہ اس دوران رحونیات کے سب سے اونچے مقام پر فائز ہو چکے ہیں ، ایسے مقام پر کہ جس کے بعد کوئی مقام ہی نہیں ہے، یعنی کہ ’’لامقام‘‘ کی مسند پر فائز ہو گئے۔ 
غور فرمائیے، کل مرشداتی پارٹی کے ذرائع بلکہ رہنمائوں نے تصدیق کر دی کہ 6 اپریل کا جلسہ جسے منعقد کرنے کی ہدایت مرشد نے کی تھی ، مرشد کے علم میں لائے بغیر ملتوی کیا گیا۔ ملتوی کرنے کا فیصلہ سیاسی کمیٹی نے کیا اور تائید کرنے والوں میں سہیل آفریدی بھی شامل تھے جن کا اعلان تھا کہ اس بار جلسہ کریں گے تو ’’منزل‘‘ پر پہنچے بغیر جگہ سے نہیں اٹھیں گے۔ بعدازاں اس فیصلے کی ایک زبانی نقل مرشد کو بھی، جیل جا کر دے دی گئی۔ 
کوئی بھی مرشد جب ’’لامقام‘‘ کی منزل تک پہنچتا ہے تو اسے علائق دنیا سے کوئی علاقہ نہیں رہ جاتا۔ کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں ہو رہا ہے، اسے اس سے کچھ غرض نہیں رہتی چنانچہ مرشداتی جماعت اب فیصلے خود کرتی ہے، مرشد کی ’’لامقامیت ‘‘ کی طرف نہیں دیکھتی، بس اخلاقی تقاضا یا رسم دنیا کے تحت اطلاع کی کاپی ضرور مرشد کو ارسال کر دی جاتی ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت