زندگی میں بارہا اثنا نے "ٹھرکی" کا لفظ استعمال ہوتے سنا تھا-اس لفظ کے باقاعدہ معنی کبھی سمجھ نہ آئے - ٹھرک کی کوئی باقاعدہ تعریف ممکن نہیں-یہ بس محسوس کی جا سکتی ہے,مشاہدہ کی جاسکتی ہے,اگر اس کو پھر بھی کوئی اس لفظ کو جاننا چاہتا ہے تو لغت ملاحظہ کر لیں-
معاشرہ مختلف افراد سے مل کر بنتا ہے اور ٹھرک جیسا عنصر بھی اس اس میں کچھ افراد کو اس کا سامنا ہوتا ہے روزمرہ میں لیکن اس حوالے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ محض خواتین ہی ہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی بعد اوقات ایسے مسائل کا معاشرے میں رہتے ہوئے سامنا ہوتا ہے-لیکن اس ٹھرک جیسے رویے کا سامنا زیادہ تر خواتین کو سامنا ہے-علاوہ ازیں کہ خواتین بہت زیادہ تعداد میں ہر شعبے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں- میں رہنے والوں سے ہی وابستہ ہے-
ہمارے معاشرے میں موجودہ دور میں جہاں دوسرے مسائل ہیں وہاں یہ بھی بھی ایک اہم مسئلہ ہے -یہ فقط ایک فرد کا مئسلہ نہیں بلکہ معاشرے میں رہنے والے ہر فرد کا ہے بالخصوص ورکنگ خواتین جنہیں معمول کے مطابق ٹھرک جیسے رویے کا سامنا رہتا بلکہ کچھ خواتین اس کو نظو انداز کرتے ہوئے اپنی ملازمت سر انجام دے رہی ہیں-
ایک اہم نقطہ کہ یہ صرف اَن پڑھ طبقے میں نہیں بلکہ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ میں بھی یہ عنصر نمایاں ہے-بس امتیاز یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور اًن پڑھ طبقے کا انداز الگ ہے ٹھرک کا لیکن بات ایک ہی ہے-
ہمارے معاشرے کی اور اس میں بسنے والے ایسے مردوں کی جو ایسی حرکات کرتے ہیں.ہمارے معاشرے میں بھی ہمیں ایسے بہت سے کردار اپنے اردگرد بھی نظر آئیں گے جو اسی کام میں مبتلا نظر آئیں گے..مزید برآں تحریر کے عنوان لفظ "ٹھرک" سے ہی بہت کچھ ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ لفظ ہے تو چار لفظوں پر مشتمل لیکن ان چار لفظوں سے ہم بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں خصوصا وہ لوگ جو سوسائٹی میں ایسے کردار روز اپنے اردگرد دیکھتے اور ان کا سامنا کرتے ہیں..ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے جس کا آج کی ورکنگ خواتین کو روزمرہ معمول میں ان کا سامنا کرنا ہوتا ہے مگر ایسے لوگوں کی اصلاح بہت ضروری ہے-
منٹو صاحب کے بقول:
"عشق ایک بھڑ بھڑ جلتا ہوا لکڑی کا خشک ٹکڑہ ہے جب کہ ٹھرک ایک ایسی گیلی لکڑی ہے جو اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہےلیکن کبھی پوری طرح شعلہ نہیں پکڑتی"-
تاہم مجھے منٹو سے اتفاق نہیں ہے- یہ دوسری والی کیفیت ناکام عاشق کی یا یک طرفہ عاشق کی ہے جس کا کوئی مخصوص محبوب ہو- جبکہ ٹھرک کسی ایک مقصود و مطلوب تک محدود نہیں ہوتی-
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ مختلف جگہ پر مختلف انداز میں ہمیں ملتے ہیں اور جن سے ہمارا سامنا زندگی میں رہتا ہے-
ٹھرکیوں کی ایک قسم دفاتر میں پائی جاتی ہے، انہیں آپ دفتری ٹھرکی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی مختلف ذیلی اقسام سے تعلق رکھتے ہیں جیسے کوئی صرف خاتون کولیگز کے لباس کی تعریف کر کے دل پشوری کرلے گا، کوئی روزانہ زبردستی اپنی سیٹ سے آپ کی سیٹ تک کا سفر کر کے آپ کو سلام کرنے ضرور حاضر ہوگا، کوئی اپنی ماتحت خاتون کو کمرے میں بلا کر چائے پلا کر ہی ٹھرک پوری کرلے گا، تو کوئی اپنی افسر کے کمرے میں۔ اس قسم کے ٹھرکیوں سے عقل مند و تجربہ کار خواتین کافی کام نکلوا لیتی ہیں دفتر کے بھی اور ذاتی بھی۔
رشتہ دار ٹھرکی ہر ایک کے بھائی بنے ہوتے ہیں۔ ہر تقریب میں کسی نہ کسی خاتون کو موٹر سائیکل پر بٹھائے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کام سے لے جارہے ہوتے ہیں یا لا رہے ہوتے ہیں۔ ہر بار خاتون الگ الگ ہوں گی۔ اور اگر کوئی شادی کی تقریب ہو تو کسی کا دوپٹہ رنگوانے جا رہے ہیں تو کسی کے گجرے لا رہے ہیں۔ اس قسم کے ٹھرکیوں کو ان کی ”بہنیں“ بہت مس یوز کرتی ہیں اور یہ خوشی خوشی کام آ جاتے ہیں۔
وسے سب سے خطرناک ٹھرکی وہ ہوتے ہیں جو چھوٹتے ہی آپ کو کہتے ہیں کہ آپ تو میری بہن جیسی ہو۔ ان سے ہوشیار رہیں۔ ان کا سیدھا سیدھا مطلب ہوتا ہے ایسے نہ سہی ویسے سہی، رابطے میں تو رہو، بات تو کرو ہم سے۔ یاد رہے یہ آپ کو کبھی باجی یا آپا نہیں کہتے پر گفتگو کے درمیان یہ ضرور کہتے ہیں کہ آپ تو میری بہن جیسی ہو۔
سوشل میڈیا نے کئی قسم کے نئے ٹھرکی متعارف کروائے ہیں۔ ویسے تو سوشل میڈیا پر ٹھرکی حضرات کا تناسب کچھ زیادہ ہی ہے۔ ٹھرکی حضرات کا حال یہ ہے کہ آپ کہیں کسی کی پوسٹ پر کوئی کمنٹ یا لائک کردیں یہ وہاں سے آپ کے پیچھے لگیں گے اور بغیر کسی جان پہچان یا تعارف کے آپ کو فرینڈ ریکویسٹ ایک عدد ان باکس میسج کے ساتھ بھیج دیں گے کہ میں آپ کو ایڈ کرنا چاہتا ہوں یا میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ آپ کے کندھے پرہی بندوق رکھ دیں گے کہ کیا آپ مجھ سے دوستی کروگی۔ آپ ریکویسٹیں ڈیلیٹ کرتے کرتے تنگ آ جاو، ان کی تعداد کم نہیں ہوتی۔
ایک قسم وہ ہیں جو لڑکیوں کے نام سے پروفائل بنا کر لڑکیوں سے دوستی لگاتے ہیں اور پھر بھید کھل جانے پر فیک پروفائل ڈیلیٹ کر کے بھاگ جاتے ہیں۔ اور کسی نئی لڑکی کی آئی ڈی نئے نام سے بنا کر کسی اور لڑکی کو بے وقوف بنانے چل دیتے ہیں۔
ایک سب سے مشہور قسم ”آپی بھائی“ والے ٹھرکیوں کی ہے، یہ عموماً فیس بک کے مختلف گروپس میں پائے جاتے ہیں۔ ایکچوئیلی یہ دو طرفہ ٹھرک ہوتی ہے۔ ”آپی“ کے کوئی پوسٹ کرنے کی دیر ہوتی ہے، ”بھائی“ حضرات دھڑا دھڑ لائیکس اور کمنٹ کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آپی بھی خوشی خوشی ”اپنی پوسٹ“ کی پذیرائی پر پھولے نہیں سماتیں اور درجہ بدرجہ ایک ایک کمنٹ کرنے والے بھائی کا شکریہ بنا کسی تھکاوٹ کے ادا کرتی چلی جاتی ہیں۔ یاد رہے آپی بھی بھائی کی پوسٹ پر سب سے پہلے لائک اور کمنٹ کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔
ٹھرک کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے رابطے میں رہنا۔
ٹھرک کے پس منظر میں بنیادی نکتہ وہی ہے جو تھامس مالتھس نے اپنے مشہور عالم مقالے ”آبادی کے اصولوں پر ایک مضمون“ میں پیش کیا تھا کہ اصناف کے درمیان کشش مستقل ہے، اور قدرتی طور پر موجود ہے۔ اس کو آپ جنسی کشش کا نام دے لیں، اسے آپ مخالف صنفوں کی کشش کا قانون کا نام دے لیں۔ کچھ بھی کہہ لیں یہ ہے اور رہے گا۔
ایک صنف بلکہ دوسری صنف پہلی صنف کا حصہ تھی، اسی کے وجود سے اس کی تخلیق ہوئی ہے، پھر دونوں جب ایک ہی ہیں تو کیوں نہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں۔ لیکن یہ مذہب ہے، معاشرہ ہے، کلچر ہے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ اس کشش کو معتدل کرنے کے قابل قبول طریقے کیا ہیں۔ یہ قابل قبول طریقے ہر جگہ مختلف ہیں۔ ہر معاشرے کے اپنے معیارات ہیں۔