دماغ کا کردار ہماری زندگی میں بہت ضروری ہے۔ مگر ایک انسان کو دماغ کے فائدے اور نقصان کا ٹھیک سے پتا نہیں، اگر ہمیں دماغ کا صحیح سے استعمال آگیا تو ہم ایک بہترین زندگی گزارسکتے ہیں۔ ہم میں سے 90 فیصد لوگوں کا دماغ غلط سمت میں چل رہا ہے۔ ہم دماغ کو استعمال نہیں کر رہے بلکہ دماغ ہمیں استعمال کر رہا ہے۔ جو حرکت ہمارے دماغ کو برباد کر رہی ہے،وہ ماضی یا مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے۔
ہم میں سے 90 فیصد لوگ اس مسلئے کا شکار ہی نہیں بلکہ وہ اس کو مسئلہ کہتے ہی نہیں۔ ہمارے جذبات اور احساسات کا تعلق بھی اسی سے ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ شور کی وجہ سے غصے میں آ جاتے ہیں دراصل وہ غصہ اسی وجہ سے آتا ہے کیونکہ ہمارے دماغ نے وہ چیز سیکھی ہوتی ہے،کہ اس چیز پر ری ایکشن کرنا ہے۔ ایک مثال سے سمجھاتا ہوں ہم جس شخص کو پسند کرتے ہیں اگر ہم اسے دیکھ لے تو ہم خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ہم اسکے برعکس اس شخص کو دیکھ لے جس سے ہم نفرت کرتے ہیں تو ہمارا موڈ آف ہو جاتا ہے۔اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ یہ سب ہم نے دماغ کو سمجھا رکھا ہے۔
آپ نے پاگل انسان کو اکثر دیکھا ہوگا کہ وہ ہر وقت باتیں کرتا رہتا ہے خود سے اکیلے میں بھی اور لوگوں کے ساتھ بھی،اور وہ شخص جو ہر وقت سوچتا ہے دماغ میں باتیں کرتا ہے دراصل وہی پاگل ہے بس فرق اتنا ہے کہ وہ صرف دماغ میں باتیں کرتا ہے اور زبان پہ نہیں لاتا۔ دماغ ہمارے جسم کا ایک آلہ ہے۔ اس کا کام ہمیں چلانا نہیں بلکہ ہمارا کام دماغ کو چلانا ہے۔دماغ کنٹرول کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے،کہ اگر آپ ماضی اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کے مسائل میں حائل ہیں تو ایک چیز پر عمل کریں وہ ہے حال میں جینا۔ اگر آپکو مختلف سوچیں آرہی ہیں تو ان سوچوں کو اپنے اوپر حاوی نہ کرے، بلکہ ان کے اوپر کھڑے ہوجائیں، کیونکہ سوچ اور انسانی جسم ایک چیز نہیں ہیں۔
جو سوچ آپ کے ذہن میں آئے اسی وقت دیکھنا شروع کر دو۔ اس طرح سے کچھ عرصے بعد آپ اس غلامی سے آزاد ہو جائیں گے۔ ہم اکثر لوگوں کو یہ کہتے دیکھتے ہیں کہ فلاں بندہ بہت سوچتا ہے بہت ذہین ہے، ذہانت کا تعلق سوچنے سے نہیں بلکہ شعور سے ہے۔ اور سوچنا شعور کا چھوٹا سا سٹیپ ہے۔ اگر آپ کچھ سوچ رہے ہیں اسے پریکٹیکل کرنے کی کوشش کریں، یا اسے لکھیں۔کیونکہ اصل زندگی لمحہ موجود ہے۔ماضی اور مستقبل شیطان کا ایک بہکاوہ ہے۔جو آپ کو زندگی میں ترقی کرنے سے روک سکتا ہے۔