اسلام آباد ایک پرامن‘ خوبصورت‘ سرسبزوحسین اور خوابوں کا شہر تھا میں خود اپنی ملازمت کیلئے اسی کی دہائی کے پہلے دو سال میں آگئی تھی‘ جہاں میں نے اسلام آباد کے کئی سیکٹرز کو خود اپنی آنکھوں سے بنتے ہوئے اور آبادہوتے ہوئے دیکھا ہے راولپنڈی کے جس راستے سے بھی اسلام آباد داخل ہوتے تو خوشبودار ٹھنڈی ہوا چہرے کو چھو کر گزرتی اور اک عجیب سی راحت افزاء خوشی سی محسوس ہوتی‘ لیکن80ہزار آبادی کے بننے والے اس خوبصورت دارالخلافہ کا اب ایسا حال ہے کہ اس کی آبادی شاید لاکھوں میں جاپہنچی ہے حسین و سرسبز گزرگاہیں اینٹ اور گارے کی پکی سڑکوں میں تبدیل ہو چکی ہیں‘ یہاں تک یہ وہ انسانوں اور دلوں کو اندر سے دستک دینے والے سوکھے پتوں سے بھرے ہوئے فٹ پاتھ کہ جن پر چل کر کوئی بھی صاحب دل شاید ہی دل پر قابو پا سکتا ہوگا وہ سب کسی نان آرٹسٹک حاکم وقت کے بے رحم حکم کی نذر ہوگئے ہیں 1999ء اور2000 کی دہائیوں کی باتیں ہیں کہ ہر گلی اور ہر شہر کے لوگ اسلام آباد کو حیرت سے دیکھا کرتے تھے‘ لیکن یہ سب خوبصورت حسین یادیں ہی ہیں جب اسلام آباد کیا ہمارے پورے ملک میں دہشت گردی کا نام و نشان تک نہ تھا افغان مہاجرین اضاخیل تک محدود تھے نائن الیون جیسا واقعہ دنیامیں وقوع پذیر نہ ہوا تھا شہر پرامن خوبصورت اور حسین ہوتے تھے اور خاص طور پر اسلام آباد جیسے شہر کو اسکی دل فریبی ہر ایک کوکھلی بانہوں کے ساتھ اپنی جانب کھینچتی تھی کوئی روک ٹوک نہیں‘ پیدل پھرتے رہو‘ گاڑیاں دوڑاتے رہو‘ ٹیکسیوں کا رواج ان دنوں کم تھا‘ رکشہ اور تانگہ اسلام آباد کے اندر داخل ہونے سے ممنوع تھا‘ موٹر سائیکل‘ سائیکلیں‘ تک لوگ لے کر اسلام آباد کے باغات‘ سیکٹرز‘ صدر پاکستان کا گھر‘ قومی اسمبلی‘ سیکرٹریٹ وزیراعظم ہاؤس دیکھنے کیلئے کھلے عام گھومتے تھے‘ کوئی پولیس نہیں‘ کوئی ناکہ نہیں‘ کوئی بندش نہیں‘ چونکہ میرا دفتر کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر تھا تو ہم ایجنسیوں کو اپنے دفتر کی کھڑکیوں سے دیکھ سکتے تھے امریکن ایمبیسی اسی ایونیو میں اسی سڑک پر سب سے پہلے ہی ایک موڑ مڑتے ہی آجاتی تھی‘ اور کئی راستے بھی اس ایمبسی کی طرف جاتے تھے‘ ایمبیسیوں سے ویزا حاصل کرنے والے کھلم کھلا ادھر سے ادھر گھوما پھرا کرتے تھے اور ان عمارتوں کے سامنے ایک بھیڑ پھاڑ ہر وقت نظرآتی تھی‘ میں نے بھی امریکن ویزا کیلئے درخواست دے رکھی تھی ایک دن انٹرویو کیلئے بلاوا آگیا میں بھی اپنے بچوں کیساتھ بہت خوش خوش چل پڑی‘ وزٹ ویزا نہیں ان دنوں بھی کچھ مشکل ہی تھا لیکن بڑی آسانی سے ایمبسی پہنچ گئے اور ایک انتظار گاہ میں بہت سے لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے‘ میرے بیٹے شرارتی تھے ادھر ادھر اپنی شرارتوں میں مصروف تھے مجھے اتنی رش اور کھڑکیوں پر بنے ہوئے کاؤنٹرز پر دوطرفہ مکالمے دیکھ دیکھ کراچھا لگ رہا تھا کیونکہ وہ کاؤنٹر اتنا قریب تھا کہ سب کچھ نہ صرف صاف دکھائی دے رہا تھا بلکہ سنائی بھی دے رہا تھا‘ ایک عورت کبھی نہیں بھولتی جو ہاتھ میں لمبی سی تسبیح پکڑے ہوئے مسلسل کوئی ورد کر رہی تھی شاید وہ ویزا آفیسر کے دل میں رحم ڈالنے کیلئے کچھ پڑھ رہی تھی‘ لوگوں کا اضطراب اور بے چینی دیکھ کر میں بہت حیران ہوئی‘ مجھے اس وقت تک اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ امریکہ کی سیر کرنے جانا چاہتی تھی بلکہ میرے کچھ دوست احباب یہ بات سن کر حیران ہوئے کہ کیا تم صرف سیروتفریح کیلئے امریکہ جانا جاناچاہتی ہو‘ بہت دیر ہوگئی‘ ہمارا نمبر نہیں آرہا تھا‘ وہاں پڑے ہوئے سارے اخبار‘ رسائل میں کھنگال چکی تھی‘ مجھے یاد آتا ہے وہاں کچھ کھانے کے اسٹال بھی تھے جیسے کوئی باہر سے آکر کھانے کی چیزیں بیچتا ہے تو میرے بچوں نے اپنے لئے کھانے کی چیزیں بھی خریدیں‘ میں دل ہی دل میں سوچتی رہی‘ اگر ویزا نہ ملا تو پھر میں ایران جاؤں گی ایران دیکھنے کا مجھے ہمیشہ سے بڑا شوق ہے جو ابھی تک تو پورا نہیں ہوا خیر ویزا کاؤنٹر پر بہت مزے مزے کی کہانیاں بیان کی جارہی تھیں اور ہمارا نمبر آگیا‘ دوچارسوالوں کے بعد ہم سب کو پانچ پانچ سال کا ملٹی ویزا لگادیاگیا‘ اب مجھے احساس ہوتا ہے شاید وہاں ایسے کیمرے لگے ہوئے تھے جو ہر ایک کی فیس ریڈنگ کر رہے تھے ہمارے چہرے دیکھ کر انہیں ضرور احساس ہوگیا ہوگا کہ انہیں امریکہ جانے کی زیادہ پرواہ نہیں ہے سو ہمیں ویزا دے دیاگیا‘ ظاہر ہے ہم سب خوش ہوگئے مجھے بہت اچھی طرح یہ بات تو یاد ہے کہ جب ہم اس سڑک پر واقع انتظار گاہ سے باہر نکلے تو فقیروں‘ درویشوں کا ایک جم غفیر ایمبسی کے سامنے جمع تھا جو چہروں سے پڑھ لیتا تھا کہ اس شخص کا ویزا لگا ہے اور اس شخص کا ویزا نہیں لگا‘ انہوں نے تو ہمیں گھیر لیا اور ہم سے ٹھیک ٹھاک نذرانہ لے کر ہی ہماری جان چھوڑی‘ اس واقعے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ میں امریکہ جانے کی کہانی بیان کرنے لگی ہوں‘ یہ کہانی شاید میں اپنے اگلے کسی کالم میں ضرور سناؤں گی مقصد یہ ہے کہ اسلام آباد ایسا ہی پرامن تھا‘ اور پھر اس کے صرف ایک سال بعد ہی نائن الیون کا واقع ہوا پاکستان میں قتل و غارت‘ بم دھماکے‘ خون ریزی ایسی شروع ہوگئی کہ پاکستان کے سارے شہر سکیورٹی گارڈز کے نرغے میں آگئے‘اسلام آباد کے جس علاقے کا میں نے ذکر کیا وہ ریڈ زون میں تبدیل ہوگیا اور پھر ایسا وقت بھی میں نے دیکھاکہ اس حسین شہر میں ہر ایک کا داخلہ ممنوع ہوگیا‘ پہرے لگ گئے‘ دروازوں کے باہر دروازے‘ ان دروازوں کے باہر راہداریاں‘ ان سے پہلے جامہ تلاشی‘ مشینی طریقے سے کھوج لگانے والے آلات‘ شناختی کارڈ‘ غرض سب‘ آسانیاں‘ خوبصورتیاں کہیں کھو گئیں‘ ہر شخص پر شک کی پرچھائیں نظر آنے لگی جس شہر میں عیدمیلادالنبیؐ اور14اگست کی روشنیوں کی سجاوٹ دیکھنے کیلئے دور دور سے عام طبقہ فکر کے لوگ کئی دن پہلے سے آنا شروع ہو جاتے تھے اب وہ سب سہولتیں ناپید ہوگئیں گاڑیوں کی طویل قطاریں سکیورٹی کے تنگ راستوں سے گزرتے گزرتے کئی کئی گھنٹے لے لیتیں مجھے اپنے دفتر تک پہنچتے پہنچتے کتنے ہی شناختی مرحلوں سے گزرنا پڑتا تھا اور یقیناً وہاں موجود دفاتر کے ہر ملازم کو میری طرح ہی شناختی پریڈ کا سامنا تھا‘ یقیناً ہمارے حسین ملک کو کسی کی نظر بد لگ گئی تھی اور صدر ایوب خان کے بنائے ہوئے اس خوابناک شہر کو ایسی زنجیریں پہنا دی گئیں آج تک حالات بہت معمولی حد سے زیادہ اچھے نہیں ہوئے۔
حسین اور خوبصورت یادیں