حنا آرنٹ بیسویں صدی میں فلسفہ سیاست پر اثر انداز ہونے والی موثر ترین آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ 1906 میں پرشیا کی جنگجو ثقافت میں آنکھ کھولنے والی یہودی نژاد حنا آرنٹ کے لیے نازی اقتدار میں جینا مشکل ہو گیا تو وہ 1941 میں امریکا پہنچ گئی۔ امریکاپہنچ کر حنا آرنٹ نے اپنی اہم ترین کتاب Elements and origins of totalitarianism پر کام شروع کیا۔ 1951 میں شائع ہونے والی اس ضخیم کتاب کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ فسطائیت محض ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک اوسط فرد کی سیاسی جبر اور جنسی گھٹن کے نتیجے میں تشکیل پانے والی نامعقول شخصیت کا اجتماعی اظہار اپنے تنقیدی شعور سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ حنا آرنٹ نے فسطائیت کو دیگر مستبد سیاسی نمونوں سے اس لحاظ سے مختلف قرار دیا کہ فسطائیت میں صرف سیاسی مخالفین ہی کو نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فسطائی ریاست صرف معاشرے کو ظلم و تعدی کا نشانہ نہیں بناتی بلکہ فرد کی داخلی نمود کو کچل ڈالتی ہے۔ فرد نام نہاد حب الوطنی کے نام پر اپنے تنقیدی شعور کو رہن رکھ دیتا ہے۔ انفرادی بقا اور مادی ترقی وقت کی راگنی پہنچاننے پر منحصر ہو جاتی ہے۔ فرد اپنی ہی توہین میں نام نہاد عزت ڈھونڈتا ہے۔ حنا آرنٹ نے ہمہ گیریت میں جرمن اور اطالوی نمونے کے علاوہ اشتراکی بندوبست کو بھی شامل کیا۔
حنا آرنٹ سے پہلے ولہلم رائخ نے 1933 میں ’فسطائیت کی اجتماعی نفسیات‘ کے عنوان سے اس موضوع پر ابتدائی اور غالباً اہم ترین کتاب لکھی تھی۔ اگرچہ ولہلم رائخ میکارتھی عہد کے مخصوص تناظر میں سازش کا شکار ہوا تاہم فسطائیت کی ساخت پر اس کے نظریات کی اہمیت کم نہیں ہو سکی۔ رائخ کا نظریہ یہ تھا کہ فسطائیت کسی ایک فرد کے عزائم یا کج روی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ جنسی گھٹن اور فکری انجماد کے نتیجے میں معاشرہ پہلے سے فسطائی خصوصیات اختیار کر چکا ہوتا ہے اور فسطائی رہنما محض معاشرے میں موجود ذہنی رویوں کو ایک پیکر عطا کرتا ہے۔ خاندان سے معاشرے تک تحکمانہ رویوں کی اطاعت گزار اکثریت اپنے تنقیدی شعور تج دیتی ہے، جنسی اور سیاسی گھٹن میں فرد داخلی اظہار، معاشرتی تنوع، تخلیقی ارتفاع، جمہوری توانائی، دانش دشمنی، جسمانی ایذا رسانی اور ذاتی مفادات کا مطیع ہو جاتا ہے۔ اجتماع فرد پر غالب آ جاتا ہے اور اجتماعی زندگی میں استخراجی رجحانات، انسانی آلام سے بے گانگی کی راہ کھول دیتے ہیں۔ فسطائی معاشرہ ناگزیر طور پر بدعنوانی، منافقت اور جنسی کج روی کا شکار ہو جاتا ہے ۔کھوکھلے نعرے حقیقت پسندی کی راہ مسدود کر دیتے ہیں۔ اہل دانش طاقت کے مسلسل بدلتے بیانیوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔ مغربی اہل دانش کے ان خیالات سے قطع نظر ، خود ہمارے ملک میں یہ تماشا آج تک جاری ہے۔
مشرقی پنجاب میں فسادات مارچ 1947 کے پہلے ہفتے میں مسلم اکثریتی اضلاع میں شروع ہوئے۔ مشرقی پنجاب میں یہ ابتلا اواخر اگست میں پہنچی۔ شاہد احمد دہلوی کا رپورتاژ تاریخی بددیانتی کا نمونہ ہے۔ کیا مشرقی پنجاب میں کسی ایسے سیاسی یا انتظامی اقدام کا ذکر ملتا ہے جس کا مقصد غیر مسلم آبادی کی حفاظت ہو۔ کیا ہمارے اہل دانش نے اہل اقتدار اور مستقل انتظامیہ کی طرف سے غیر مسلم آبادی کو تہ تیغ کرنے میں سرگرم کردار کی نشاندہی کی۔ حیران کن طور پر 1850 سے 1942 تک پنجاب میں سب سے کم فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے۔ نومبر 1947 میں بھی فیلڈ مارشل آکن لیک کو اترپردیش ، بہار اور بنگال میں فسادات کا اندیشہ تھا لیکن یہ فسادات راولپنڈی سے شروع ہوئے۔ پولیس ریکارڈ بتاتا ہے کہ پنجاب میں فسادات کن علاقوں میں کب رونما ہوئے ۔
اگست 46 ءمیں کلکتہ اور پھر نواکھلی میں فسادات بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں رونما ہوئے۔ مشتاق احمد وجدی کی ’ہنگاموں میں زندگی ‘یا سکندر مرزا کی یادداشتوں سے گواہی مل سکتی ہے۔ بے شک مغربی پنجاب میں سیاسی قیادت اور مسلم اکثریتی انتظامیہ نے فسادات کو ہوا دی۔ شوکت حیات اور بیگم شاہ نواز تو مدتوں ان فسادات کا کریڈٹ لیتے رہے۔ جنوری 1948 میں کراچی کے فسادات کے حقیقی کردار اب کوئی راز نہیں ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراًبعد 22 اگست 1947 کو انڈیا ایکٹ کی شق 35کے تحت ڈاکٹر خان صاحب کی اکثریتی حکومت برطرف کر دی گئی۔ صوبہ سرحد کا استصواب رائے صوبہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت کے سوال پر منعقد ہوا تھا اس کا صوبے کی منتخب حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مرکز سے صوبائی معاملات میں مداخلت کی پہلی واردات پر ہماری صحافت خاموش رہی۔ ہمارے اہل دانش نے کبھی نہیں پوچھا کہ کشمیر ، جونا گڑھ اور حیدر آباد پر بیک وقت کیسے دعویٰ کیا جا سکتا تھا۔ مسلم لیگی قیادت نے مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو مسلسل اندھیرے میں رکھا کہ پاکستان کی سرحد دریائے ستلج تک ہو گی۔ اس ضمن میں پنجاب کے ایک سابق کانگرسی رہنما چوہدری محمد حسن کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ سلوک پر جوگند ر ناتھ منڈل کا استعفیٰ اہم دستاویز ہے۔ پاکستان میں قومی زبان کے سوال پر ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائداعظم کے خطاب نے دونوں حصوں میں بداعتمادی کی بنیاد رکھ دی۔
خواجہ ناظم الدین کے استعفے کا مطالبہ ’سانگلہ ہل کے مہاجر‘ حمید نظامی نے کیا تھا۔ مغربی پاکستان کے سترہ اخبارات نے سول اینڈ ملٹری گزٹ پر پابندی کی مشترکہ اداریہ لکھ کر حمایت کی ۔ مغربی پاکستانی بیوروکریسی کے کارندوں کا رویہ مانک میاں نے لکھ رکھا ہے۔ایوب خان 1951 سے مارشل لا کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ہماری دانش اسکندر مرزا اور ایوب خان کا گٹھ جوڑ سمجھنے میں ناکام رہی۔ میاں افتخار الدین کے اخبارات پر قبضے پر ہماری صحافت خاموش رہی۔ اشفاق احمد کے ایوب خان کی خوشامد میں اداریے تاریخ کا حصہ ہیں۔
1971 میں مغربی پاکستان کی صحافت مجرمانہ طور پر خاموش رہی۔ پاکستان ٹوٹنے پر ان بلند آہنگ صحافیوں کے پاس 57الفاظ کی ایک بے رنگ خبر کے سوا کچھ نہیں تھا۔ 14دسمبر کو ریڈیو پاکستان پر عبدالرشید ترابی کی تقریر نشر کر کے قوم کو سانحے کے لیے تیار کیا گیا۔ 1977 کی تحریک میں ہماری صحافت سازش کا حصہ تھی۔ افغان جہاد کی حمایت میں بکاﺅ صحافت کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ہمارے اساتذہ نے ہر حکومت کی تائید میں قصیدے لکھے۔ کسی نے سیاسی دستکاری کا راز بے نقاب نہیں کیا۔ موجودہ پاکستان کا سیاسی افلاس اسی جہاد کا نتیجہ ہے۔ 90 ءکی دہائی ایک شرمناک سازش سے عبارت تھی۔ پرویز مشرف کو روشن خیال اور ان کے پیش روﺅں کو بطل حریت ثابت کرنا صحافت میں پیشہ ورانہ ترقیوں کی کلید ٹھہرا ۔ میمو گیٹ اور ڈان لیکس کے ترانے گانے والی فروختنی دانش نے اپنے قلم رہن رکھ دیے ، لفظ بیچ دیے ۔ انہوں نے ہر صاحب جلوس کے جلو میں قوم کی مجرمانہ ذہن سازی کی۔ زمین لیز پہ رکھ دی، کسان بیچ دیا۔
