22

پاکستانی سماج پر جنگ کے مذہبی اثرات

ہمارے معاشرے پر جنگ کے مذہبی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں جو متوقع تھے۔ اسی بنا پر ابتدا ہی میں توجہ دلائی تھی کہ اہلِ مذہب متنبہ رہیں۔ انہوں نے مگر اسی روش پر چلنے کو مناسب سمجھا‘ جس پر وہ برسوں سے چلے جا رہے ہیں۔ مذہبی تقسیم نمایاں ہونے لگی ہے مگر اس کی جہتیں ایک نہیں‘ دو ہیں۔
ایک تقسیم تو وہی مسلکی ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ایران کی حمایت میں شیعہ تنظیمیں متحد ہو رہی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ پاکستان کے اہلِ تشیع ایران کے حق میں عوامی دباؤ بڑھائیں تاکہ ریاست عربوں کے ساتھ تعلقات کے سبب کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جو ایرانی مفادات سے متصادم ہو۔ ان تنظیموں میں دو طرح کے طبقات شامل ہیں۔ ایک وہ جو سیاسی شعور رکھتے ہوئے ایران کے حامی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ولایتِ فقیہ کے تصور پر کھڑی ایک ریاست ہے۔ وہ مذہبِ تشیع کی اس سیاسی تعبیر کے مضمرات سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور پاکستان میں بھی اسی ماڈل کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعبیر کو 'سیاسی اسلام‘ کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو شیعہ عصبیت میں ساتھ دے رہا ہے۔ وہ ولایتِ فقیہ کے تصور سے شعوری واقفیت رکھتا ہے نہ مذہب کو ایک سیاسی قوت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ مسلک کی فطری محبت میں ایران کا حامی ہے۔
دوسری تقسیم 'سیاسی اسلام‘ اور روایتی اسلام کی ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے اہلِ تشیع کا پہلا طبقہ اور جماعت اسلامی 'سیاسی اسلام‘ کے نمائندہ ہیں جبکہ دیگر مذہبی جماعتیں اور مسالک روایتی اسلام کے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ہی نے 'سیاسی اسلام‘ کو فکری و علمی استدلال فراہم کیا۔ اس تعبیر نے سید روح اللہ خمینی اور مولانا مودودی میں ایک فکری قرب پیدا کیا۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ایران کی دینی قوتوں کی حمایت کی۔ اکتوبر 1963ء کے 'ترجمان القرآن‘ میں خلیل حامدی مرحوم کا مضمون 'ایران میں دین اور لا دینی کی کشمکش‘ شائع ہوا جس میں ان مظالم کا ذکر ہوا جو شہنشاہ کی طرف سے اسلام پسندوں پر ڈھائے جا رہے تھے۔ اس 'جرم‘ کے سبب 'ترجمان القرآن‘ پر چھ ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی۔ خمینی صاحب نے جس طرح ولایتِ فقیہ کا تصور مستحکم کیاوہ ان کے کتاب 'حکومتِ اسلامی‘ میں بیان ہوا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ انہوں نے مولانا کے علمی کام سے اثر قبول کیا۔ جب ایران میں انقلاب آیا تو انہوں نے مبارک باد کا پیغام دے کر ایک وفد مولانا مودودی کے پاس بھیجا۔ جماعت اسلامی نے جس طرح اس انقلاب کا خیر مقدم کیا‘ پاکستان کے اہلِ تشیع نے بھی نہیں کیا۔
پاکستان کے دیگر مذہبی گروہوں نے اس انقلاب کے لیے زیادہ گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ درست تر الفاظ میں اس کی مخالفت کی۔ انقلاب کے چند برس بعد ایک دینی جریدے میں پاک و ہند کے سنی علما کا ایک متفقہ فتویٰ شائع ہوا جو اہلِ تشیع کے خلاف تھا۔ اسی فتوے کی بنیاد پر مولانا منظور نعمانی کی کتاب شائع ہوئی اور پھر اسی مضمون پر مشتمل مولانا سیدابو الحسن علی ندوی کا رسالہ 'دو متضاد تصویریں‘ بھی سامنے آیا۔ ان کتابوں اور فتووں میں اہلِ تشیع کی طرف تحریفِ قرآن جیسے عقائد کی نسبت کی گئی تھی۔ اہلِ سنت بالخصوص دیوبندی طبقے میں یہ دونوں شخصیات گہرے علمی اثرات رکھتی ہیں۔ میں خود ان کتابوں کے زیرِ اثر رہا۔ معاصر شیعہ علما نے اپنی طرف ان عقائد کی نسبت کو سختی سے رد کیا اور واضح کیا کہ اس باب میں ان کا عقیدہ وہی ہے جو اہلِ سنت کا ہے۔
پاکستان میں ایرانی سفرا نے اہلِ سنت کے علما سے ربط و ضبط بڑھایا اور اپنے طرزِعمل سے یہ پیغام دیا کہ وہ اور اہلِ سنت ایک ہیں۔ ان دنوں راولپنڈی میں مولانا سید چراغ الدین شاہ صاحب کی مسجد میں ایک جلسے کا انعقاد ہوا۔ فنِ خطابت کے ساتھ میری دلچسپی بچپن سے ہے۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم مرحوم میرے پسندیدہ خطبا میں سے تھے۔ میں ان کی تقریر سننے گیا تھا۔ جلسے میں اچانک سٹیج پر ہلچل ہوئی۔ معلوم ہوا ایرانی سفیر آئے ہیں۔ مجمع نے اضطراب کا اظہار کیا جیسے اسے یہ آمد پسند نہیں آئی۔ چراغ الدین شاہ صاحب نے سٹیج سے وضاحت کی کہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا‘ وہ اپنی خواہش سے تشریف لائے ہیں۔ سفیر صاحب نے مختصر تقریر کی اور اتحاد کے اپنے پیغام کو دہرایا۔ اس طرح کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے علما کو ایران مدعو کیا جاتا رہا اور مذہبی سفارت کاری سے فاصلے کم کرنے کی سعی کی گئی۔ اس سے بریلوی علما رام ہوئے۔ دیوبندی بھی فی الجملہ اعتدال کی طرف آئے۔ تاہم یہ طبقات اس 'سیاسی اسلام‘ کے حامی نہ بن سکے‘ خمینی صاحب یا جماعت اسلامی جس کے موید تھے۔ یہ تقسیم بہر حال موجود رہی۔ اس کی ایک وجہ عرب دنیا بھی تھی‘ روایتی علما جس سے قرب محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ سب عرب انقلاب ایران کے مخالف تھے۔
تقسیم کی یہ دونوں جہتیں آج پھر سے نمایاں ہو رہی ہیں۔ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے اور عرب ممالک پر ایران کی طرف سے مزید حملے ہوتے ہیں تو یہ تقسیم کھل کر سامنے آجائے گی۔ شیعہ تنظیمیں‘ جماعت اسلامی اور سوشل میڈیا کے چند دانشور ایک طرف اور دیگر مذہبی گروہ ایک طرف۔ بعض بریلوی تنظیمیں ممکن ہے ایران کی حمایت میں کھڑی رہیں مگر اس کے اسباب میں سیاسی شعور شامل نہیں ہے۔ مجھے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اس جنگ کے بعد پاکستانی سماج وہیں کھڑا ہے جہاں انقلابِ ایران کے بعد کھڑا تھا۔ فرقہ وارانہ اختلاف کے ساتھ سیاسی اسلام اور روایتی اسلام کا فرق بھی اس میں کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان سماجی طور پر اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا حصہ بنتے دکھائی دیتا ہے جیسے یہ 1979ء کے بعد بنا تھا۔
میں نے اسی لیے ابتدا ہی میں شیعہ راہنماؤں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ خامنہ ای صاحب کی شہادت کو مسلکی رنگ نہ دیں اور ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے وقت اپنی پاکستانی شناخت کو پیشِ نظر رکھیں۔ یہاں کی مسلکی حساسیت کو نظر انداز نہ کریں۔ انہوں نے مگر 1979ء کی طرح اسے ایک موقع جانا کہ وہ اس جنگ سے سیاسی مفاد کشید کریں۔ اس وقت اس کا ایک ردِ عمل آیا تھا۔ آج کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی ردِ عمل نہ ہو؟ رہی جماعت اسلامی تو اس کی درویش قیادت سودو زیاں سے بے نیاز ہے۔ اس لیے میں اسے مشورہ دینے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ مولانا فضل الرحمن مجھے اعتدال پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ معاملہ امریکہ ا ور ایران کا ہے تو وہ ایران کے ساتھ ہیں۔ بات عربوں تک جاتی ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہوں گے۔
سو باتوں کی ایک ہی بات ہے کہ سیاسی معاملات میں ہمیں پاکستان کے مفادات کو اولیت دینی ہے۔ ایران اور عربوں سے ہمارا تعلق خیر خواہی کا ہے۔ اب تک ریاست نے بصیرت کے ساتھ معاملات کو ایک ایسے موڑ تک پہنچا دیا ہے جہاں امن کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ جیسا متلون مزاج آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایران کے شدت پسند بھی توازن کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں پاکستان کو کوئی فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر لازم ہو گا کہ عوام ہر تقسیم سے بالاتر ہو کر ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں۔ خدشہ ہے کہ اس جنگ میں گروہی مفادات تلاش کرنے والے قومی وحدت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ریاست اور عوام کو متنبہ رہنا ہو گا۔

بشکریہ نواےَ وقت