14

مصنوعی ذہانت کو مصنوعی انسان درکار

مصنوعی ذہانت مصنوعی انسانوں کی تلاش میں لگتی ہے کیونکہ پانچ حواس رکھنے والا انسان مصنوعی ذہانت کے قابو میں نہیں آرہا ۔جاپان سے کینیڈا تک دنیا واشنگٹن کی پیدا کردہ افرا تفری میں پھنسی ہوئی ہے ۔افریقہ، ایشیا، یورپ، امریکہ ،شمالی امریکہ ،جنوبی آسٹریلیا سب اعصابی تناؤ میں مبتلا ہیں ۔دنیا جن سسٹموں میں دن رات بسر کر رہی تھی۔ وہ قیادت کے خلا نے بکھیر کر رکھ دیے ہیں۔ نئے سسٹم ابھی وجود میں نہیں لائے جا رہے ہیں ۔سپر طاقت سے عالمی ٹریفک کنٹرول نہیں ہو رہا ہے ۔کیونکہ ٹریفک ہر سمت سے آرہا ہے اور ہر سمت جا رہا ہے۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ وہ سب بھی اس عالمی ٹریفک جام سے پریشان ؤہیں ۔ان کے خواب بکھر رہے ہیں وہ جن ملکوں میں جانا چاہ رہے ہیں وہاں بھی کساد بازاری شروع ہو چکی ہے۔ افراط زر ہے۔ ان کے سوالات سنیے پھر دیکھیے کہ آپ ان کو کیا مشورہ دے سکتے ہیں ۔مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا اتوار کا یہ مشورہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں اردو پڑھنے والوں میں پسند کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو عام طور پر بچوں کیلئے مخصوص کیا جاتا ہے۔کراچی پریس کلب میں گزشتہ اتوار ملک محبوب الرسول قادری کی ایک منفرد تصنیف ’مولانا شاہ احمد نورانی کی جدوجہد اور قومی اخبارات‘ کی رونمائی تھی۔ ملک صاحب نے کئی برس کے رت جگوں سے یہ دستاویز مرتب کی ہے۔ تاریخ پاکستان کے طالب علموں ،پاکستان کی جدوجہد اور سیاسی سفر پرتحقیق کرنیوالوں کیلئے یہ توشہ خاص ہے۔ عالم دین سید حسین شاہ گردیزی مہمان خصوصی تھے انہوں نے بھی جنگ میں اتوار کو شائع ہونے والے اس کالم کے حوالے سے ذکر کیا کہ آج کا دن اپنی نئی نسل کیلئے ہوتا ہے محمود شام صاحب تو یہی لکھتے ہیں لیکن آج ہم نے انہیں یہاں بلا لیا ہے۔ یہ ان کی مولانا نورانی سے عقیدت مندی ہے کہ وہ اپنے اتوار کے خاص معمولات ترک کر کے یہاں شریک مجلس ہیں۔ اسلام آبادمیں اکادمی ادبیات پاکستان میں سالانہ کمال فن ایوارڈ کی شخصیت منتخب کرنے کیلئے پاکستان بھر کے اردو، پنجابی، سرائیکی، سندھی ،براہوی، بلوچی، پشتو، ہند کو کے قابل قدر اسکالرز موجود تھے۔ اس موضوع پر کسی وقت تفصیل سے بات کریں گے کہ اردو زبان سے زیادہ قدیم ان پاکستانی زبانوں کے شعراء افسانہ نگاروں کے کمال فن کا اعتراف شایان شان کیوں نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی کہ ہر سال ایک ایوارڈ قومی زبان اردو کیلئے مختص کیا جائے اور دوسرا کسی بھی پاکستانی زبان کیلئے زندگی وقف کرنے والے قلم کار کیلئے اور دونوں کیلئے دس دس لاکھ کی رقم مختص کی جائے۔ یہاں بھی اس جیوری کی صدر کشور ناہید صاحبہ نے اتوار کے ہمارے کالم میں اپنی اولادوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اپیل کا حوالہ دیا ہےبہت خوشی ہوئی پھربہت سے حاضر، ریٹائرڈ بیوروکریٹ بھی ملتے ہیں تو وہ اس تجویز کا ذکر ضرور کرتے ہیں مجھے تو دوہری خوشی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ پرنٹ اب بھی پڑھا جا رہا ہے اور دوسرے ایک مشترکہ خاندان کی طلب سب کو ہے اور اتوار خاندان کےاجتماع کا دن بن رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نماز عصر کے بعد محلے داری کا مشورہ بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے ۔اللّٰہ کرے کہ اسے قبولیت بھی مل جائے تو ہم ریاستی سطح پر بھی اتوار کو اجتماع اہل خانہ کا دن بنا سکیں۔

اسلام آبادسے کراچی واپسی ہوئی تو پٹرول پمپوں پر قطار اندر قطار گاڑیاں ،موٹر سائیکلیں دیکھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد پٹرول کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں اس لیے سستا پٹرول ڈلوانے کیلئے یہ ہجوم موجود ہے۔قطار بندی بہت اچھی روایت ہے لیکن اب یہ دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی روش بن گئی ہے۔ عالمی سطح کی ثالثی کروانے والوں کو اپنی رعایا کو بھی اس عالمی پذیرائی میں شامل کرنا چاہیے۔ تاکہ انہیں احساس ہو کہ اس عالمگیر شناخت سے ہماری مشکلات بھی کم ہو رہی ہیں۔

تاریخ کے جس موڑ پر پاکستان کو یہ عالمی اعزاز حاصل ہو رہا ہے اخبارات، چینلوں ،سوشل میڈیا پر پاکستان اور اسلام آباد کا نام ہر نیوز بلیٹن میں جگمگاتا ہے۔ یقیناً ہر پاکستانی کیلئے یہ مسرت کا موقع ہے۔ لیکن اس کا ملحقہ فائدہ بھی ہر پاکستانی تک پہنچنا چاہیے نہ کہ صرف ملحقہ زیاں ہی واہگہ سے گوادر تک نصیب ہو۔ وزیراعظم شہباز شریف انتہائی خوش قسمت ہیں کہ تاریخ کے اس عظیم ترین چوراہے پر وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں ۔ہر کسی کو یہ رتبہ بلند نہیں ملتا ہے ان کی گفتگو اور چال ڈھال سے بھی اس عالمی رتبے کا اظہار ہونا چاہیے۔

ایک باخبر لیڈر تک تو ملک کے عام لوگوں کی مایوسی، اعصابی کشیدگی اور برہمی ،پہنچنی چاہیے، گزشتہ 40 سال کے المیوں نے قوم کو بہت بد دل کردیا ہے ۔ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ یہاں کوئی بہتری نہیں آ سکتی۔ اسلامی ملکوں میں اتحاد اور ہم آہنگی نہیں ہو سکتی ۔پاکستان کے حکمران اپنے قومی وسائل پر انحصار کی حکمت عملی نہیں اپنا سکتے۔ وہ قرضوں پر قرضے لیتے رہیں گے ملک میں مینوفیکچرنگ نہیں ہو رہی ہے۔ ضرورت کی ہر چیز درآمد ہو رہی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی سفاکی اور شقی القلبی نے 21ویں صدی کی ساری نعمتیں چھین لی ہیں۔ اس وقت کوئی نظریہ کوئی فلسفہ کارگر نہیں ہے۔ سرمایہ داری کا علمبردار امریکہ اس وقت اپنی عالمی قیادت کا اختیار کھو چکا ہے ۔خلیجی ریاستوں میں اس وقت سخت بے چینی ہے۔ دنیا منتظر ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں کیا کیا سیاسی، معاشی، انتظامی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کیا کوئی نیا سسٹم ابھرتا ہے یا نہیں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ بحر کی تہ سے کیا اچھلتا ہے۔ آبنائے ہرمز کب تک ناکہ بندیوں کی زد میں رہتی ہے۔

کیا کوئی نیا عالمی نظام از خود وجود میںآ رہا ہے۔ کیا حکمرانی کے الگورتھم بدلنے والے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی اب عجز کا شکار لگتا ہے۔ فیس بک انسٹاگرام ایکس ای میل تھکے تھکے لگ رہے ہیں ۔مصنوعی ذہانت نے تحقیق کے سوتے خشک کر دیے ہیں۔ اس لیے اب کچھ نیا تخلیق نہیں ہو رہا ہے۔ کوئی نیا ازم وجود میں نہیں آ رہا ۔صحافی مصنف اور محققین بھی مصنوعی ذہانت کے کنووں سے اپنی بالٹیاں بھر رہے ہیں۔ طالب علم بھی بڑی تعداد میں اپنے خالی پیالے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو مصنوعی حکمران درکار ہیں اور اسی طرح مصنوعی حکمت عملی، مصنوعی پالیسیاں بھی اس کی پسند ہیں۔ مصنوعی ذہانت جیتے جاگتے انسانوں کو راس نہیں آرہی ہے۔ تشویش ہوتی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے راج کیلئے مصنوعی انسان لائے جائیں گے۔ کیا اب میٹرنٹی ہومز کے بجائے کلوننگ کی لیبارٹریاں جگہ جگہ کھلیں گی۔ کیا وقت آگیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کیلئے انسان بھی کلوننگ والے ہی چلیں گے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز