سید مزمل شاہ ایک خوبصورت اور نوجوان صحافی ہیں، خوبصورت زیادہ ہیں اور صحافی کم ہیں کیونکہ وہ صحافت سے زیادہ فلسفے اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ فریڈرک نِطشے اُن کاپسندیدہ فلسفی ہے، نطشے سے اُن کی وابستگی کا عالم یہ ہے کہ بعض اوقات مجھے یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں نطشے کی فرینچائز صرف اُنکے پاس ہے، صرف کمی ہے تو نطشے جیسی مونچھوں کی، خدا اُسکی بھی توفیق دے گا۔ آج مجھے مزمل کا خیال نطشے کی ایک کتاب کی وجہ سے آیا، The Birth of Tragedy Out of the Spirit of Music ۔ غالباً یہ نطشے کی پہلی کتاب تھی، یہ کتاب ذہن کے دریچے کھول دیتی ہے اور اِس سوال کا جواب دیتی ہے کہ انسان اس بے ہنگم، مشکل اور لایعنی دنیا میں خوش کیسے رہ سکتا ہے، یا کم از کم اِس کی صعوبتوں کو کیسے جھیل سکتا ہے؟
ہم صبح اٹھتے ہیں، اِس امید کے ساتھ کہ دن اچھا گزرے گا، ایک اچھا دن وہی ہو سکتا ہے جو ہماری مرضی کے مطابق گزرے، اور اگر پوری زندگی ہی کنٹرول میں ہو تو کیا کہنے۔ مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ انسانوں نے یہ فرض کر رکھا ہے کہ زندگی کا کوئی سر پیر ہے، اِس میں ایک ترتیب، ہم آہنگی اور نظم ہے، یہاں اچھائی کا بدلہ اچھائی اور برائی کا بدلہ برائی ہے، محنت کا پھل ملتا ہے اور صبر کا اجر، زندگی کو اگر عقل مندی سے گزارا جائے تو اسے ’کنٹرول‘ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور جتنا کنٹرول ہو اتنا ہی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ عقلیت پسند اسی قسم کے خیالات رکھتے ہیں، ہر بات کو عقل کے ترازو میں تولتے ہیں، زندگی کی گتھیوں کو منطق سے سلجھاتے ہیں، جو قطعاً غیر معقول بات نہیں، مگر نطشے اِس قسم کے خیالات کو درہم برہم کرنے میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔ اُس نے کہا کہ چونکہ ہم زندگی کو اپنے قابو میں کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے ہمیں کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نطشے نے یہ بات دو یونانی دیوتاؤں کے مزاج کی مثال دے کر سمجھائی جن کا ذکر قدیم یونان کے تمثیلوں میں ملتا ہے، اپالو (Apollo) اور ڈیونیسس (Dionysus)۔ اپالو وہ کردار ہے جو ٹائی کی ناٹ بالکل سیدھی باندھتا ہے، اُسکی زندگی اصولوں، ضوابط، توازن اور پرفیکشن سے چلتی ہے، وہ زندگی کو ’میک بُک‘ سمجھتا ہے جس میں کوئی وائرس نہیں گھُس سکتا اور جہاں ہر چیز ترتیب، سلیقے اور نفاست سے رکھی ہے۔ نِطشے کے نزدیک اپالو اُس انسانی جبلت کا نمائندہ ہے جو ہر چیز میں آہنگ اور خوبصورتی تلاش کرتی ہے۔ دوسرا کردار ڈیونیسس کا ہے، اسےمست قلندر سمجھ لیں، یہ وہ بندہ ہے جو نہ کسی کام کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور نہ اصولوں کی پروا، اِس کا تعلق جذبات سے ہے، رقص، موسیقی، مستی اور سب کچھ بھلا کر ایک ہو جانے سے ہے۔ ڈیونیسس اُس کڑوے سچ کا نمائندہ ہے کہ یہ دنیا دراصل کوئی منظم جگہ نہیں ہے بلکہ ایک بے ہنگم اور بے ڈھنگا مکان ہے جہاں انسان کی انفرادی حیثیت کچھ بھی نہیں۔ ِنطشے کا کہنا ہے کہ زندگی کو صرف اپالو کے فلٹرز لگا کر نہیں گزارا جا سکتا، کیونکہ سچائی آخر کار سامنے آ ہی جاتی ہے، اور نہ ہی ڈیونیسس کی طرح بے نیاز رہ کر جیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان اس بے ہنگم پن کو برداشت نہیں کر سکتا اور پاگل ہو سکتا ہے۔ تو پھر قدیم یونانیوں نے کیا کیا؟ انہوں نے اپالو اور ڈیونیسس دونوں کو ایک ہی اسٹیج پر اکٹھا کر دیا اور اسی ملاپ سے المیہ ڈرامے کا جنم ہوا۔ اور پھر آئے آنجناب سقراط!
ِنطشے نے کتاب میں سقراط کو کسی ہیرو کے طور پر نہیں بلکہ ایک ولن کے طور پر پیش کیا ہے۔ سقراط وہ انکل تھے جو ہر بات میں منطق ڈھونڈتے تھے۔ سقراط نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان اپنی عقل، دلیل اور سائنس کے ذریعے دنیا کے ہر مسئلے کو حل کر سکتا ہے اور ہر دکھ کا علاج کر سکتا ہے، جبکہ ِنطشے کے خیال میں یہ انسان کی سب سے بڑی خوش فہمی تھی۔جب سقراط کی اس انتہائی منطقی سوچ نے یونانی معاشرے میں جڑیں پکڑیں تو ان کی المیہ تمثیل دم توڑ گئی۔ لوگوں نے جذبات، موسیقی اور زندگی کے گہرے سچ سے منہ موڑ لیا اور صرف عقل اور دلیل کے پیچھے بھاگنے لگے۔ دی برتھ آف ٹریجڈی کہتی ہے کہ زندگی کو ایک ڈرامہ سمجھیں، یہ کبھی کبھی بہت ظالم اور بے معنی لگتی ہے لیکن اس بے معنویت سے لڑنے کا طریقہ یہ نہیں کہ آپ ہر وقت منطق اور دلیل کے پیچھے بھاگتے رہیں بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ اپنی زندگی کو ایک شاندار آرٹ کے نمونے کی طرح گزاریں۔ قواعد (اپالو) کا احترام کریں لیکن کبھی کبھار اس مست قلندر (ڈیونیسس) کو بھی جاگنے کا موقع دیں جو آپ کے اندر سویا ہوا ہے کیونکہ بالآخر زندگی کا ڈرامہ ’منطقی‘ نہیں بلکہ دل کو چھو لینے والا ہونا چاہیے۔
انسان کا المیہ یہ سوچ ہے کہ میں اپنی مرضی کے مطابق زندگی کیوں نہیں گزار پاتا، دکھ اور تکلیف سے نجات کیوں نہیں پا سکتا، میں نے کسی کا کیا برا کیا ہے جو میرے ساتھ ایسا ہو؟ نطشے کہتا ہے کہ انسان اِس لیے ناخوش نہیں رہتے کہ انہیں بے ہنگم اور بے ترتیب زندگی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ اِس لیے تکلیف میں رہتے ہیں کہ وہ اس ہنگامہ خیزی کو قبول نہیں کرتے اور الٹا اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سعی لاحاصل ہے۔ رہی سہی کسر اے آئی نے پوری کردی ہے، ہر مسئلے کا حل کیپسول کی صورت میں بنا کر پیش کرنا، جیسے زندگی نہ ہوئی ایکسل شیٹ ہو گئی۔ حالانکہ ’قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں... موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں‘۔ غالب اور نطشے، دونوں نے ایک ہی نکتہ مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔
دراصل انسانوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اِس کائنات میں کوئی خاص مقام رکھتے ہیں، اگر وہ یہ غلط فہمی دل سے نکال دیں تو یہ گتھی سلجھ سکتی ہے۔ انسان بھی دیگر نباتات اور حیوانات کی طرح ایک مخلوق ہے، اُس کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو دیگر مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے، اسے زمین پر ایک اندھے، بے رحم اور استحصالی نظام کا سامناہے جس میں بیماری، بڑھاپا اور موت اٹل حقیقتیں ہیں۔ ہم سب محض ذرا سے وقفے کیلئے زندہ ہیں، اِس وقفے میں چاہے اپالو بن جائیں اور دل کرے تو ڈیونیسس۔ بہتر تجویز اقبال کی تھی، کہ عقل کو دل کا پاسبان رکھو مگر کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دو۔
