14

ہمارا نظام

ہمارے ملک میں انصاف کی رفتار اتنی سست ہے کہ کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی اگلی دنیا میں اپیل دائر کرنے کا سوچتے ہیں۔ یہاں عدالتوں کے باہر انصاف نہیں، تاریخیں اُگتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر جج کے کمرے کے باہر ایک کسان کھڑا ہو اور اعلان کر رہا ہو:’’آج نئی تاریخوں کی فصل تیار ہے، جتنی چاہیے لے جائیں‘‘

ہمارے نظام کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ ہمیشہ حرکت میں دکھائی دیتا ہے، مگر پہنچتا کہیں نہیں۔ بالکل اُس پنکھے کی طرح جو بجلی جانے کے بعد بھی دو منٹ گھومتا رہتا ہے تاکہ عوام کو جھوٹی امید ملتی رہے۔اب یہ جو پنکی والا معاملہ چلا، اس نے سب کی اصلیت کھول کر رکھ دی۔ ایسا لگا جیسے پورا ملک اچانک جاسوسی ناول پڑھنے بیٹھ گیا ہو۔ اینکر ایسے چیخ رہے تھے جیسے اگلے پانچ منٹ میں ملک نہیں، پوری کہکشاں تباہ ہونے والی ہو۔ ایک چینل والا بول رہا تھا:’’ناظرین! ہمارے پاس وہ انکشاف ہے جو شاید خود ملزم کو بھی نہیں معلوم!‘‘

پاکستان میں خبر پیدا نہیں ہوتی، خبر کی پرورش کی جاتی ہے۔ پہلے اس کے اندر تھوڑا سا خوف ڈالا جاتا ہے، پھر مسالہ، پھر موسیقی، پھر بریکنگ نیوز کی لال پٹی، اور آخر میں ایک تجزیہ کار بٹھا دیا جاتا ہے جو ہر سوال کا جواب ایسے دیتا ہے جیسے بچپن میں وہ سی آئی اےکے ساتھ کنچے کھیلتا رہا ہو۔

ہمارا نظام بھی بڑا فنکار ہے۔ جب عوام چیخ رہے ہوں:آٹا مہنگا ہوگیا۔نظام کہتا ہے:صبر کریں، تحقیقات جاری ہیں۔عوام کہیں:بجلی کا بل گردے سے مہنگا آگیا۔نظام جواب دیتا ہے:کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

مگر جونہی کوئی سنسنی خیز اسکینڈل آجائے، پورا نظام ایسے دوڑتا ہے جیسے کسی سرکاری دفتر میں غلطی سے تنخواہ وقت پر آ گئی ہو۔پولیس کا حال تو اور بھی تاریخی ہے۔ ہمارے ہاں پولیس ملزم کم، کہانی زیادہ ڈھونڈتی ہے۔ اگر ایک آدمی گلی میں چھینک مار دے تو رپورٹ بنے گی:ملزم نے ملکی سالمیت کے خلاف خطرناک انداز میںمنہ سے ہوا خارج کی۔

تفتیشی افسر پوچھے گا:بتاؤ! تمہارے پیچھے کون ہے؟بندہ کہے گا:جناب، میرے پیچھے تو صرف قرضے ہیں۔افسر بولے گا:دیکھا! یہی تو ماسٹر مائنڈ کی نشانی ہے!

ہمارے ملک میں اگر کوئی بندہ ایماندار نکل آئے تو لوگ اُسے ایسے دیکھتے ہیں جیسے چڑیا گھر میں سفید شیر دیکھ لیا ہو۔’اوئے! یہ واقعی رشوت نہیں لیتا؟‘نہیں یار، شاید نیا آیا ہے، ابھی سسٹم سمجھا نہیں!

یہاں انصاف اندھا نہیں، بے ہوش پڑا ہے۔ اور اُس کے اردگرد سرکاری فائلیں ایسے گھومتی ہیں جیسے گدھ زخمی جانور کے اوپر چکر لگاتے ہیں۔ فائل جب ایک میز سے دوسری میز تک جاتی ہے تو لگتا ہے جیسے حج پر پیدل نکلی ہو۔ بعض فائلیں اتنی پرانی ہو جاتی ہیں کہ اُن پر دھول نہیں، آثارِ قدیمہ والے تحقیق شروع کر دیتے ہیں۔اور ہمارے سرکاری دفاتر!وہاں بندہ مسئلہ لے کر جاتا ہے اور واپس فلسفی بن کر نکلتا ہے۔ کلرک ایسے دیکھتا ہے جیسے آپ اُس سے پاسپورٹ نہیں، اپنی قسمت دوبارہ لکھوانے آئے ہوں۔’’صاحب ابھی لنچ پر ہیں۔‘‘کب آئیں گے؟’’یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔‘‘

پاکستان میں دو ہی چیزیں وقت پر پہنچتی ہیں:ایک موت،دوسرا بجلی کا بل۔باقی ہر چیز پروسیس میں ہوتی ہے۔یہ پروسیس بھی عجیب مخلوق ہے۔ نہ کبھی ختم ہوتی ہے، نہ کسی نے دیکھی ہے، مگر ہر دفتر میں پائی جاتی ہے۔

ہمارے سیاستدان بھی کمال ہیں۔ عوام اگر ڈوب رہے ہوں تو یہ لوگ پریس کانفرنس کر کے کہیں گے:’’سب کنٹرول میں ہے۔‘‘حالانکہ خود ان کے چہرے ایسے لگ رہے ہوتے ہیں جیسے ابھی پچھلے دروازے سے بھاگنے والے ہوں۔اور میڈیا،اللہ اللہ!یہاں خبر کم، تھیٹر زیادہ چلتا ہے۔

ایک اینکر چیختا ہے:ناظرین! آج رات ہم وہ راز کھولیں گے جس کے بعد آپ سو نہیں سکیں گے۔حالانکہ عوام پہلے ہی بجلی کے بل اور مہنگائی کی وجہ سے نہیں سو رہے ہوتے۔

پھر آتا ہے قریبی ساتھی۔یہ پاکستان کی سب سے خطرناک مخلوق ہے۔جس بندے کو کل تک محلہ نہیں جانتا تھا، گرفتاری کے بعد اس کے پچاس قریبی ساتھی نکل آتے ہیں۔ایک کہتا ہے:میں تو بچپن سے جانتا تھا یہ خطرناک ہے۔حالانکہ بچپن میں میں اسی سے پنسل مانگتا تھا۔

اور ہمارا نظام؟وہ ایسا جادوگر ہے جو ہر ناکامی کو کامیابی بنا کر بیچ دیتا ہے۔سڑک ٹوٹ جائے؟’’ترقی کا سفر جاری ہے۔‘‘ہسپتال میں دوا نہ ہو؟’’عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘‘لوگ بھوک سے مر جائیں؟’’اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں۔‘‘

یہ ملک شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عوام ٹیکس بھی دیتے ہیں، ذلیل بھی ہوتے ہیں، اور پھر اُنہیں بتایا جاتا ہے:’’آپ نے صبر نہیں کیا۔‘‘

اور آخر میں شاید سب سے بڑا لطیفہ یہی ہے کہ ہر شخص کہتا ہے:یہ ملک نہیں چل سکتا۔مگر اگلے ہی لمحے سب اسی نظام کے ساتھ تصویر بھی بنوا رہے ہوتے ہیں۔

اللہ ہمارے ملک کو اُس دن سے بچائے جب عوام واقعی جاگ گئے۔کیونکہ جس دن عوام نے سچ مچ ہوش سنبھال لیا، اُس دن سب سے پہلے سسٹم لاپتہ ہوگا۔اور اگلے دن خبر چلے گی:’’نظام آخری بار ایک فائل کے پیچھے بھاگتے دیکھا گیا تھا۔‘‘

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز