2

اپنے محسنوں کویادرکھیں

لوگ اپنے محسنوں کوسروں پراٹھاتے اوربٹھاتے ہیں مگر ہم وہ ظالم لوگ ہیں جواپنے محسنوں کوسروں پراٹھاناوبٹھاناتودوران کی تعریف کرنابھی مناسب نہیں سمجھتے۔جولوگ اس ملک اورہمارے لئے اپنی جان تک داؤپرلگاکرکوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہیں ان کانام لیتے ہوئے بھی پھرہمیں موت پڑتی ہے۔ایک نہیں ہزاربارہم نے یہ بات دیکھی اورمحسوس کی ہے کہ احسان کے معاملے میں ہم ہمیشہ احسان فراموش نکلے ہیں۔ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم احسان کابدلہ احسان سے نہیں دیتے۔ذوالفقارعلی بھٹوسے لیکرڈاکٹرعبدالقدیرخان تک اورجنرل ضیاء الحق سے لیکرمیاں نوازشریف تک جتنے بھی قومی محسنوں نے ہم پراحسانات کئے خودسوچیں ہم نے اپنے ان محسنوں کے ساتھ کیاکیا۔؟ مودی کالٹکتاچہرہ ہویامشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک سبزہلالی پرچم کی گونج اوراڑان ہو۔جہاں بھی پاکستان کاسرفخرسے بلنددکھائی دیتاہے توواللہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورمیاں نوازشریف جیسے قوم کے عظیم محسن یادآنے لگتے ہیں۔عیدسے اگلادن اٹھائیس مئی تھاجسے وطن عزیزمیں یوم تکبیرکے طورپرمنایاگیا۔ہماری نئی نسل کوشائداس دن کے بارے میں علم نہ ہولیکن پاکستانی تاریخ کایہ وہ عظیم اورتاریخی دن ہے جس دن سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کاسرفخرہمیشہ کے لئے بلندہوا۔ 1998ء میں چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے کامیاب ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا یا۔ یہ دن صرف ایک سائنسی کامیابی کا نام نہیں بلکہ قومی عزم، قربانی، محنت اور غیرت ملی کی عظیم داستان ہے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بے شمار محب وطن سائنس دانوں، انجینئروں، فوجی قیادت اور سیاسی رہنماؤں نے اہم اورکلیدی کردار ادا کیا۔خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے انتہائی مشکل حالات، عالمی دباؤ اور محدود وسائل کے باوجود دن رات محنت کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ ان عظیم شخصیات نے اپنی ذاتی آسائشوں کو قربان کرکے قوم کو ایسا تحفہ دیا جس کی بدولت آج پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہے۔اٹھائیس سال پہلے اٹھائیس تاریخ کو چاغی کے پہاڑوں میں اللہ اکبر کی صداؤں کے ساتھ پاکستان جب ایک ایٹمی قوت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھراتو یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کے عزم، سائنس دانوں کی محنت، مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور سیاسی قیادت کے جرات مندانہ فیصلوں کا نتیجہ تھی۔آج تولوگ سیاسی اختلاف اورذاتی بغض وعنادمیں میاں نوازشریف کوبہت کچھ کہہ دیتے ہیں لیکن ان سب کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ میاں نوازشریف کا28 مئی والاایک فیصلہ،ایک کام اورایک اقدام مخالفین کے تمام کاموں اورکارناموں پربھاری بہت بھاری ہے۔میاں نواز شریف جواس وقت وزیراعظم تھے نے شدید عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں کی دھمکیوں اور بین الاقوامی مخالفت کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایٹمی دھماکوں کی منظوری دی۔عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں کی مسلسل دھمکیوں کے سائے میں ایٹمی دھماکوں کی منظوری دینایہ کوئی معمولی بات نہیں،ایسے فیصلوں کے لئے بڑے دل اورگردے کی ضرورت ہوتی ہے،ایسے فیصلے وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے دل میں ملک وقوم کی محبت ہوتی ہے۔ میاں نوازشریف کایہ وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لئے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔میاں نوازشریف کی سیاسی غلطیوں اور گناہوں کویادرکھنے والے ذرہ اس ایک فیصلے اوراہم قومی احسان کوبھی تویادرکھیں۔عمران خان کاجیتاہوا1992کاکرکٹ ورلڈکپ اگرہمیں یادہے تو  1998کایہ عظیم احسان ہمیں کیوں یادنہیں۔؟بدقسمتی سے ہم بحیثیت قوم اپنے محسنوں کی خدمات کو بہت جلد فراموش کر دیتے ہیں۔ جن لوگوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا وہ اکثر سیاسی اختلافات اور ذاتی پسند و ناپسند کی نذر ہو جاتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہیں اور نئی نسل کو ان کے کارناموں سے روشناس کراتی ہیں۔ہم کہتے ہیں کرکٹ کے میدان میں ملک کوعالمی کپ کاتحفہ دینے پردل سے عمران خان کوبھی خراج تحسین پیش کرنی چاہئیے اورملک کوایٹمی قوت کااعزازدینے پرمیاں نوازشریف کایہ عظیم احسان بھی ماننااورنہ بھولناچاہئیے۔ قومی ہیروز کی قدر کرنا زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے مگرہمارے ہاں ایسانہیں جن شخصیات نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔اس ملک میں ان کے احسانات اور خدمات کو وہ مقام نہ مل سکا جس کے وہ حق دار تھے۔ہم نے ایک روش اختیارکی ہوئی ہے کہ جوبھی عظیم کارنامے ہوتے ہیں یاعظیم شخصیات ہوتی ہیں انہیں اکثر سیاسی اختلافات اور وقتی مفادات کی نذرکرکے ہم ان عظیم خدمات اورکارناموں کوپس پشت ڈال دیتے ہیں۔یومِ تکبیر جیسے قومی اور تاریخی ایام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں اپنے محسنوں اور ہیروز کو عزت دے کر ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام افراد کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی۔ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف اپنے قومی ہیروز کو یاد رکھیں گے بلکہ ان کی محنت، دیانت اور حب الوطنی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں گے۔ یہی یومِ تکبیر کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ان عظیم محسنوں کے لئے بہترین خراجِ عقیدت ہے۔ ہمیں ہردم اورہروقت ان تمام سائنس دانوں، عسکری شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جن کی کاوشوں سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا۔ اپنے محسنوں کی قدر کرنا ہی ایک باوقار اور باشعور قوم کی پہچان ہے۔احسان فراموشی کی چادراب ہمیں دورپھینکنی چاہئیے کیونکہ یہ قدرت کاقانون ہے کہ ناشکرے لوگوں کے لئے اللہ کی پکڑاورعذاب بہت سخت ہے۔رب ہی توفرماتاہے کہ تم میراشکراداکروگے تومیں تمہیں اورزیادہ دوں گا۔اس لئے شکراورشکریہ اداکرنے والے بنیں احسان فراموش نا۔

 

بشکریہ اردو کالمز