359

اے موت تجھے موت نہ آئے

صوبہ بلوچستان آبادی کے  لحاظ سے پاکستان کا  سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا کل رقبہ چونتیس34) (ہزار ایک سو نوے90) (کلو میٹر ہے جو کہ پاکستان کے کل رقبے کا 44 فی ہے،مگر آؓبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے2017کو ہونے والے مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی ایک کروڈ چوبیس (24)لاکھ ہے،جبکہ یہاں کے رقبے کی طرح  وسائل بھی زیادہ ہیں، یہاں سیندک اور ریکوڈک کے ذخائر موجود ہیں  780کلو میٹر طویل ساحلی پٹی جو کہ ایک بین الاقوامی گزر گاہ ہے، لیکن بدقسمتی اس سے یہاں کے عوام ا مکمل طور پر محروم ہے، اس کا ایک فیصد حصہ بھی بلوچستان  کے عوام کیلئے خرچ نہیں کیا جارہاہے،یہی وجہ ہے کہ یہاں کی عوام اس دور میں بھی پتھر کے دور میں زندگی کے دور میں زندگی گزرنے پر مجبور ہے، جہاں پر حکومت کی غیر سنجیدگی اور نااہلی کے باعث صوبے کا پورا نظام صر ف اللہ پاک کے آسرے پر چل رہا ہے۔حکومت نے اس مسئلے سے مکمل چشم پوشی اختیار کیا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ کئی دہائی سے کوئٹہ ٹو کراچی سنگل روڈ  قومی شاہراں جو کہ کوئٹہ کو سندھ  اور اندروانی بلوچستان سے ملاتا ہے،عام زبان میں بلوچستان کے لوگ اس کو خونی شاہراہ کہتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ دن میں  جب تک یہ شاہراہ4سے 5 زندگیاں نہ نگل لے وہ دن گزرتا ہی نہیں ہے،بلو چستان میں تنگ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں چمن ٹو کراچی، کوئٹہ ٹو تفتان،کوئٹہ ٹو گوادر شاہراہوں پر  اب تک حادثات میں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں نگل چکی ہیں،

لیکن  اس  کے باوجود شاہراوں کو تاحال ڈبل نہیں کیا گیا ہے، گزشتہ بجٹ میں  چمن ٹو کراچی شاہراہ کو ڈبل کرنے کیلیے منظوری بھی دی گئی جبکہ بجٹ میں اس کیلئے خطیر رقم بھی مخطص کیا گیا ہے، یہاں اس شاہراں ہر اموات کی تعداد دہشتگردی میں جاں بحق ہونے والوں سے کافی زیادہ ہے، سالانہ  یہ خونی شاہراہ 8سے 10ہزار افراد کی زندگیاں نگل جاتا ہے جبکہ اس سے کا فی زیادہ لوگوں کو زندگی بھر کیلئے معزور بناکر دوسروں کا محتاج  بنادیتا ہے، لوگ اس شاہراہپر سفر کرنے سے پہلے سر پر کفن باندھ دیتے ہیں،اس کے بعد سفر کا آغاز کرتے ہیں،بلوچستان کے لوگ کئی عرصے سے اس شاہرا ہکو ڈبل کرنے کیلئے مختلف طریقے سے احتجاج اور امطالبہ کرتے ہے، نوجوانون کا ایک گروپ نے  اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کیلئے کراچی پریس کلب سے لیکر  کوئٹہ پریس کلب تک پیدل لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، جو کہ آدھا طویل سفر طے کرنے کے بعد خضدار میں کوروناوائرس کے باعث ختم کردی گئی، جبکہ اس طرح سوشل میڈیا پر بھی روزانہ کے بنیاد پر سماجی کارکن اور نوجوان  اپنا احتجاج ریکاڑٖڈ کراتے ہیں،

لیکن  افسوس کہ احکومت کی کانوں میں میں  جوں تک نہیں رینگتا، جس کے باعث ہم سے ہمارے قیمتی سرمائے چن رہے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ اپریل میں کوروناوائرس کے پیش نظرصوبے میں لاک ڈاون اور مسافر کوچ بند ہونے کی باوجود بلوچستان میں 123 ٹریفک حادثات ہوئے ہیں جن میں 101 افراد جاں بحق جبکہ315 زخمی ہیں،سب سے زیادہ ٹریفک حادثات کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر خضدار کے حدود میں پیش آئے جہاں 42حادثات میں 43افراد جاں بحق جبکہ 115زخمی ہوئیں، دوسرے نمبر پر پھر یہی شاہراہ ہے جہاں لسبیلہ کے مقام پر 14حادثات میں 19افراد اپنے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ تیسرے چھوتے اور پانچویں نمبر پر بھی یہی خونی شاہراہ رہا جہاں پر مستونگ کی مقام پر 18حادثات میں 8افراد جاں بحق جبکہ 51زخمی  ہوئیں  ضلع قلات میں 10 ٹریفک حادثات میں 9افراد جاں بحق جبکہ 21 زخمی ہوئیں اسی طرح  چمن میں 9حادثات میں 9افراد جاں بحق جبکہ 19زخمی ہوئیں اس طرح  سی پیک کے دل بننے والے  شہر گوادر کو کراچی اور کوئٹہ سے ملانے والے مکران کوسٹل ہائی وے  سمیت  اندورنی بلوچستان کے شاہراہوں پر ماہ اپریل میں روڈ حادثات کے 21 واقعات پیش آئے جن  میں 17افراد زندگی کے بازی ہار گئے جبکہ 71زخمی ہوگئے جن میں اکثر زندگی بھر کیلئے معزور بن گئے، ان حادثات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بیشتر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے،جبکہ حکومت کی جانب سے ہمیشہ ان اموات اور روڈ حادثات کو ڈرائیوز کی لاپرواہی قرار د یتے ہیں،ان کے مطابق مسافر بسوں کی تیز رفتاری کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں، اور قیمتی جانیں ضائع ہوتے ہیں

بشکریہ اردو کالمز