396

بچوں کے ناموں کے ساتھ بدلتے ہیش ٹیگز

اخباروں کی زینت بننے والے زیادتی کی شہ سرخیاں، ٹاک شوز میں زیرِ بحث لایا جانے والا زیادتی کا نیا واقعہ، کالم نگاروں کو لکھنے کا لئیے ملنے والا زیادتی کا نیا موضوع، ٹویٹڑ پہ چلنے والا نیا ٹرینڈ، سوشل میڈیا پہ چلنے والی کمپینز بھی مل کے ایسا معاشرہ تشکیل نہیں دے سکیں جس میں ہمارے بچے محفوظ ہوں۔ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہمارے منتخب وزراء اور وزیراعظم اور ان کے مشیر بھی مل کے ایک ایسا قانون نہیں بنا پائے جس سے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کا انجام عبرت ناک بنایا جا سکے۔


آئے دن ہونے والے واقعات میں اگر کچھ بدلتا ہے تو وہ صرف ایک ہیش ٹیگ ہے۔ ایک ٹرینڈ چلتا ہے۔ لعنت ملامت ہوتی ہے۔ بچے کی روندی ہوئی لاش کفن میں لپیٹ کر سپردِ خاک کی جاتی ہے اور ہم ایک نئے واقعے کے انتظار میں لگ جاتے ہیں۔


قانون تو صرف پیسے والوں کی رکھیل بن کر رہ گیا ہے۔ جس کے پاس ہے وہ اپنی مرضی کے فیصلے کرواتا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ امراء کے لئیے چھٹی والے دن بھی عدالتیں لگ جاتی ہیں اور کسی مختاراں مائی کے لئیے سترہ سال تک بھی عدالت ثبوت اکٹھے کر رہی ہوتی ہے۔


کہیں بارہ سال کی بچہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے پہ اپنی نومولود بچی کو اٹھائے رحم طلب نظروں سے انصاف کی بھیک مانگ رہی ہوتی ہے مگر زیادتی کرنے والے گواہ نا ہونے کی بنیاد پر مونچوں کو تاؤ دیتے ہوئے مردانگی کی علامت بن کر رہا ہو جاتے ہیں۔


پچھلے دنوں اسمبلی میں زیادتی کے مجرموں کی سزا کا بِل بھی پیش کیا گیا مگر کچھ نام نہاد وزراء کی جانب سے اور کچھ صحافیوں کی جانب سے بِل کی کافی مخالفت کی گئی کہ سرِعام پھانسی کی سزا غیر انسانی ہے۔


یعنی انکے نزدیک معصوم کلیوں کو مسلنا تو انسانی رویہ ہے مگر اسکی سزا غیر انسانی ہے۔
سخت سزا پر عملدرآمد ہونا اس لئیے بھی ضروری ہے کیونکہ ایسے درندوں کا خاتمہ ہی اس معاشرے کو بچوں کے رہنے کے قابلِ بنا سکتا ہے۔
اب بات صرف ہیش ٹیگ کا تقاضہ نہیں کرتی اب واقعی ہی ایسے معاملات کی روک تھام کے لئیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔


ایک بات ضرور سوچئیے گا اگر آپ اب کچھ نہیں بولتے تو بچے تو آپ کے گھر میں بھی ہوں گے کیا آپ چاہیں گے ایسے درندوں کا آپ کے بچوں سے سامنا ہو۔ یقیناً نہیں ۔ یہ تصور ہی آپ کا خون کھولا دے گا۔ ان وزیروں کو کسی قانون سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ انکے بچے تو گارڈز کی نگرانی میں وی آئی پی گاڑیوں میں اور سی سی ٹی وی کیمرے والے گھروں میں رہتے ہیں۔ فرق عوام کو پڑتا ہے اس لئیے اپنی آواز بلند کریں اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔ 

بشکریہ اردو کالمز