زندگی کیا ہے؟ میرے نزدیک توزندگی ایک پرندے کی مانند ہے وہ پرندہ جس کے پر کاٹ دےجائیں اور اس کو بولا جائے کہ اڑو- تو پھریہاں سے اس کو کیا سمجھاجائے ؟انسان اپنی زندگی میں ہزاروں خواشہات کرتا ہے
اوران کو پورا ہونے کی امید بھی رکھتا ہے مگر کیا وہ خواہشات پوری ہوتی ہیں؟جواب ملتا ہے یہی سوال تو،، زندگی،،ہے –اس میں ہی تو یہ لفظ کا خلاصہ چھپا ہوا ہے - کہ کیا یہ خواشہات پوری ہوتی ہیں – ایک پرندہ ہے جو اڑنے کی آس میں ہے مگر جب وہ دکھے کر اس کے پرہی کاٹ دیے گئے تواس کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں – وہ اس امید کے سہارے جی رہا ہونا ہے مگر یہ خبر ملتیےہی مایوس ہو جاتا ہے آس،پاس میں بدل جاتی ہے مگر دل میں خواہش نہیں مرتی- امید ختم ہوجاتی ہے مگر وہ لفظ کاش خواہش بن کر دل میں بستا رہتا ہے-اور پھر وہ پرندہ صرف اسی خواہش کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے – مگر پھر اس کے راستے میں ایسی رکاوٹ آتی ہے جسں کو ہار کیے بغیر شاہد وہ کچھ نہیں کر سکتا اپنی زندگی میں- اور اس نام قسمت ہے- یہ ایسی رکاوت ہے جس نے اچھے اچھوں کے راستے بند کر دیے اور یہ ایک ایسا موقع بھی ہے جسں نے نا امید لوگوں کے لئیے ہر چیز کے درواذے کھول دیے – اور اس پر قابض وہ ، رب ذالجلال کی زات ہے ہم بہت کچھ سوچتے ہیں
اور ان کے پورے ہونے کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس امید پر کہ یہ سوی ہوئی چیز رنگ لائےگی زندگی گزارنے لگتے ہیں ایسا ہونا چاہِے؟یہ سوال بہت سے لوگوں کو کشمکش میں ڈال دیتا ہے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کیا واقع ایسا ہی ہے کہ اگرزندگی میں خواہش نہ ہوں تو بھی چلا کا سکتا ہے؟ کیا زندگی سے امیدیں نہ رکھی جائیں تو بھی جیا جا سکتا ہے۔ اور یہ سوال کشمکش کی حد کو پار کر دیتا ہے اسکا جواب یہی ہوتا ہےکہ ہاں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔اس کے بغیر تو زندگی ممکن ہی نہیں۔ممکن ہی نہیں کہ ایسا ہو سکے زندگی او خوہشات کا تعلق ایسا ہی ہے جیسے ایک پرندے اور اسکے پروں کا اس پر کے بغیر وہ کچھ نہیں مگر وہ پھر بھی خواہش لگائے بیٹھتا ہے کچھ لوگ زندگی میں آتے ہیں آپ کی خواہشات کے پر کاٹنے۔وہ چاہتے ہیں کہ زندگی کی اصلیت ہمارے سامنے پہلے ہی واضح ہو جائے تو ایسے لوگ پرے تصور کیے جاتے ہیں۔ میری نظر میں میں تو انکو اچھا سمجھتی ہوں۔اور دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انسان اپنی زندگی کی حقیقت کو پہچاننے میں یا تو بہت وقت لگاتا ہے یا پھر بالکل نہیں لگانا۔
ایک شخص جو کہ پوری زندگی جی کر 50،100 سال کا ہو کر بسترمرگ پر پڑا ہو اور اسی سے پوچھا جائے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور وہ جواب نہ دے سکے تو اس نے زندگی گزاری ہے زندگی کو جیا نہیں۔ اس نے ان باریکیوں پر غور ہی نہیں کیا جو ہر لمحہ ہر وقت اس کے آس پاس تھی اس کو چھو کر جاتی تھی۔ مگر دنیا کی ان مصروفیات نے ان کی مہک کو اور انکے احساس کو اس کے پاس آنے ہی نہیں دیا۔ اصل میں جہاں تک میرا خیال ہے دنیا کی مصروفیات سے نکل کر اگر انسان زندگی جینا چاہتا ہے تو خود میں جھانکے تاکہ وہ زندگی کا ہر آتا جاتا لمحہ ایک ایسے انداز سے جی سکے کوئی اسکو سوچ بھی نہیں سکے۔
ضروری نہیں ایسی مہان زندگی صرف وہ لوگ جیتے ہیں جن کے نام ہم کتاب میں پڑھ کر بڑے ہوئے ہیں۔ ایسی زندگی وہ لوگ بھی جیتے ہیں جو گمنام رہتے ہیں اور اگر ایک شخص ایسا ہو جو کہ جوان ہو زیادہ عمر نہ ہو مگر جب اس سے پوچھ لیا جائے کہ زندگی حقیقت کیا ہے تو وہ آپکو ایسے جواب دے کہ آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں اس کے لفظوں کی ترتیب اور خوشبو آپکے پاس سے ہو کر گزرے اور آپ محسوس کریں تو سمجھ جایئں وہ زندگی میں آنے والی ہر باریکی کو بخور دیکھ رہا ہے اسکو سمجھ رہا ہے اسکو پہچان رہا ہے اور وہ مختصراَ زندگی جی رہا ہے اور اس چھوٹی سی عمر میں جو اس کو تجربہ حاصل ہوا ہے وہ اس آدمی کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ زندگی کی پہچان صرف اس شخص کو ہوتی ہے اور وہ ہی ہر لمحہ خوش رہتا ہے جو زمان و مکاں سے گزر کر وقتِ موجود میں اپنی بھر پور صلاحیتوں کا اظہار کرے حزن اور ملال دو کیفیات میں گزرے ہوئے لمحے کے کسی ناپسندیدہ واقع پر انسان کو ملال (غم) ہوتا ہے حالانکہ جو ماضی سو گیا اس کا کیا غم اور آنے والے وقت کو سوچ سوچ کر اس کام کے مثبت اور منفی نتائج پر غور کر کے حزن (خوف) محسوس کرتا ہے حالانکہ اگر وہ آنے والے کل کا سوچ رہا ہے تو شاید آنے والا سانس بھی نہ آئے ثابت وہا کہ آپ جس لمحہ موجود میں جو کام کر رہے ہوتے ہیں اس کو پوری ایمانداری،خلوص،محبت اور سنجیدگی کیساتھ اس کے پورے لوازمات کے ساتھ کریں تو سائے خوش رہنے کہ اور کوئی زندگی کی حقیقت آپ کے سامنے نہیں آ پائے گی۔ ایسے ہی شخص کو صاحبِ حال اور ابو لوقت کہا جاتا ہے۔