ابیٹ آباد  594

ابیٹ آباد 

مسز شاہ نواز سیال 
یہ ایک معمول کا دن تھا اچانک تین بجے کے قریب ایبٹ آباد سے میرے شوہر کو انٹرویو کے لیے فون کال آئی انہوں نے مجھے کہا کے آپ بھی ساتھ چلیں سیرو تفریح ہو جائے گی چنانچہ میں نے سامان کی پیکنگ کی اور آنلائن فیصل مورزکی ٹکٹ بک کرائی جو ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے رات بارہ بجے کی ہوئی رات دس بجے ہم ٹرمینل پرپہنچ گئے اور ٹھیک بارہ بجے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے-
چونکہ گاڑی ہمیں ڈائریکٹ ایبٹ آباد کی نہیں ملی تھی تو پہلے ہمیں پنڈی جانا تھا وہاں سے ایبٹ آباد کی طرف روانہ ہونا تھا,ہم صبح چھ بجے پنڈی ٹرمینل پر پہنچے اور وہاں سے لوکل گاڑی کے ذریعے ایبٹ آباد روانہ ہوگئے ایبٹ آبادجانے والی لوکل گاڑی میں,ابیٹ آباد شہر کے اندر چلنے والے ذرائع آمد و رفت میں کنڈکڑ کا کوئی تصور نہیں ہے گاڑی چلانے والے خود ہی جگہ جگہ روک کے سواری بٹھاتے ہیں اور کرایہ لیتے ہیں ہماراسفر چونکہ لوکل گاڑی کے ذریعے تھا اسلئے راستے میں ٹیکسلا ،واہ کینٹ، سے ہوتے ہوئے  ہری پور سے گزرے ہری پور کا راستہ انتہائی خوبصورت اور سرسبز تھا سڑکیں لمبے اور گھنے درختوں سے گھری ہوئی تھی تھکاوٹ کے باوجود ہم سفر سے لطف اندوز ہوتے رہے جسیے ہی ہری پور کا سفر کا اختتام پذیر ہوا تو گاڑی حویلیاں شہر میں داخل ہوئی تو قدرت کےنظارے زیادہ دلکش ہوتے گئے روڈ کے اردگردچھوٹے چھوٹےسرسبز کھیت, پہاڑ  اور درخت آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہے تھے پھر ہم نےحویلیاں کو خیر باد کہا اور ایبٹ آباد  کے نواحی علاقوں سے گزرتے ہوئے ایبٹ آباد شہر اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے, ایبٹ آباد میں پہلے دو مرتبہ آ چکی ہوں لیکن اس شہر کی خوبصورتی اور سادگی آپ کو اپنے سحر میں قید کر لیتی ہے میں نے اس شہر کا نام شہر رومینس رکھا ہے ,کیونکہ یہاں کی لا متناہی خوبصورتی آپ کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے یہاں رات کا منظر نہایت دلفریب ہوتا ہے کیونکہ آپ کو پہاڑوں پے بنے  گھروں سے نکلنے والی روشنی پے تاروں کا گمان ہوتا ہے جس کا سلسلہ زمین سے شروع ہو کے آسمان تک جاتا ہے ہم اڈے پر اترے اور وہاں سے لوکل گاڑی کے ذریعے ہوٹل پہنچے-
ایبٹ آباد کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہاں موٹر سائیکل اور رکشاز نہیں ہیں جس کی وجہ انسان بے ہنگم شور سے بچ جاتا ہےوہاں کے لوگ کس قسم کے بحث و مباحثہ سے اجتناب کرتے ہیں اور وہاں کی عورتیں پردے کا خاص خیال رکھتی ہیں وہاں عورتوں کی زیادہ تر تعداد آپ کو برقے یا چادروں میں نظر آتی ہیں-
رہائش کے لیے ہم نےسربن ہوٹل کا انتخاب کیا سربن ہوٹل کافی اچھااور صاف ستھرا ہے اور سٹاف بھی تیمزدار ہے ہم نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور سو گئے تین بجے کے قریب ہم بیدار ہوئے فریش ہو کے ہم نے سوچا شہر میں بازار کا جائزہ لیا جائے چونکہ بھوک بھی لگ رہی تھی کھانا بھی کھا لیں گے, بازار ہوٹل کے سامنے ہی تھا ہم واک کرتے ہوئے جا رہے تھے تو ہمیں ایک ڈھابہ نظر آیا وہاں سے ہم نے کھانا کھایا ایبٹ آباد کے مشہور چپلی کباب، روٹی اور بریانی منگوائی کھانا بہت لذیز تھا-
کھانا کھانے کے بعد ہم بازار گھومنے لگے موسم بہت ہی اچھا تھا ہلکی ٹھنڈک بھی تھی بازار کے روڈ کشادہ ہیں اور سبزی فروش نیچے چادریں بچھا کے سبزیاں فروخت کر رہے تھے, اسی دوران ہمارا ارادہ شملہ ہلز جانے کا بن گیا ہم  لوکل گاڑی کے ذریعے شملہ ہلز پہنچ گئے راستہ تقریباً آدھے گھنٹے کا اور چڑھائی والا تھا شملہ پہاڑیاں بہت ہی خوبصورت ہیں , وہاں جدید ڈیزائن کے جنگلے بینچ اور کرسیوں کا انتظام کیا گیا ہے مقامی لوگ کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے چونکہ ویک اینڈ تھا اسلئے بھی زیادہ رش تھا ہم تقریباً دو گھنٹے گھومتے پھرتے رہے پکچرز وغیرہ لیں اور واپس ہوٹل آگئے اگلے دن مزدروں کے عالمی دن کی تعطیل تھی آ ٹھ بجے کے قریب ہم اٹھے ناشتہ کیا صبح سے آسمان گنھے کالے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور تیز  بارش شروع ہورہی تھی یہ بارش کا سلسلہ گیارہ بجے تک جاری رہا اس کے بعد موسم   صاف ہو گیا ہم  تیار ہوئے  کیونکہ ہمارا ارادہ آج الیاسی مسجد اور لیڈی گارڈن پارک جانے کا تھا ہم نے کیری کروائی اور تقریباً بیس منٹ میں ہی الیاسی مسجد پہنچ گئے یہ مسجد اپنی قدیم طرزِ تعمیر  اور قدرتی چشمے کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے جو مسجد کے داخلی دروازے سے تھوڑا آگے دائیں جانب موجود ہے لیکن اب یہ چشمہ خشک ہو چکا ہے ہم نے مسجد میں نوافل ادا کیے اور پھر لیڈی گارڈن روانہ ہو گئے, پہنچ کے ہم نے ٹکٹ لی اور اندر چلے گئے پارک دو حصوں میں تقسیم تھا ایک طرف فیملی کے ساتھ جا سکتے ہیں اور دوسری طرف صرف عورتیں جا سکتی ہیں پارک نہایت خوبصورت اور جدید طرز کا بنا ہوا ہے وہاں بیٹھنے کے لیے بینچ بنے ہوئے ہیں اور بچوں کے لیے جھولے بھی ہیں پارک میں ایک طرف فوارہ بھی ہے جو ایک خوبصورت تعمیر ہے ہم نے پارک میں تصاویر بنائیں اور گول گپے کھائے میں نے لیڈی سائیڈ کے پارک کی طرف گئ جو کے لمبے درختوں سے ڈھکا ہوا ہے وہاں لڑکیاں کھیل رہی تھیں اور کچھ عورتیں آپس میں گپ شپ کر رہیں تھیں ہمیں بھوک لگ رہی تھی تو ہم نے راستے میں ہوٹل سے کھانا کھایا ،چائے پی اور واپس ہوٹل آ گئے اگلے دن  ناشتہ کرنے کے بعد میاں جی آٹھ بجے کے قریب انٹرویو دینے چلے گئے کیونکہ آج ہماری واپسی تھی تو میں نے سامان پیک کیا اور سو گئ جب وہ گیارہ بجے واپس آئے تو ہم ڈائیو ٹرمنل پہ آگئے وہاں سے ہم نے پنڈی کی ٹکٹ لی بس ایک بجے روانہ ہوئی بس ہزارہ موٹر وے کے ذریعے پنڈی جارہی تھی ہزارہ موٹروے  کا شمار جودنیا کے خوبصورت ترین موٹر وے میں کیا جاتا ہے اردگرد پہاڑ اور سبزہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں چار بجے ہم پنڈی ٹرمینل پہنچ گئے اور وہاں سے ملتان کی ٹکٹ کروائی  جو کے چھ بجے کی ملی ہم نے قریبی ڈھابے سے کھانا کھایا اور انتظار گاہ میں بیٹھ گئے چھ بجے بس روانہ ہوئی سفر بہت آرام دہ گزرا تقریباً ایک تیس ہم ملتان ٹرمینل پہنچ گئے پھر دو بجے گھر پہنچ گئے  چار دن پر مشتمل یہ خوبصورت سفر اس  طرح اختتام پذیر ہوا-

بشکریہ اردو کالمز