گناہوں میں لتھڑے فرد ہی سے آخری خواہش پوچھیں وہ تمنا کرے گا کہ اللہ کے گھر کی زیارت اورمسجد بنویۖ میں حاضری ہو،حج یا کم سے کم عمرہ کی سعادت حاصل کر لے، اس امیدپر ہزاروں لوگ بدست دعا رہتے ہیں ،خوش قسمت وہ ہیں جن کی دعا قبول ہوتی ہے وہ رخت سفر باندھتے ہیں، فی زمانہ اس فریضہ کی ادائیگی میں معاشی مجبوریاں حائل ہیں، امسال تمام درخواست گزاروں کے نام شامل ہیں جو حج کی سعادت حاصل کریں گے، یہ ضروری یوں ہواکہ حج درخواستیں مقررہ کوٹہ سے کم تعداد میں وصول ہوئیں، بڑی وجہ حج کے اخراجات کا بڑھ جانا ہے،2020 میں صرف پانچ لاکھ خرچہ اس فریضہ کی ادائیگی پر اٹھتا تھا اب یہ رقم12لاکھ ہے،سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرانی میں اب یہ فریضہ سماج کی متوسط کلاس کی پہنچ سے بھی باہر ہوتا جارہا ہے، اس کے باوجود مسلم دنیا میں انڈونیشیاء کے بعد حجاج کرام کی قابل ذکر تعداد کا تعلق ارض وطن سے ہے۔
اس میں زیادہ تر وہ عازمین حج ہیں جو بسلسلہ روزگار سعودی عرب ہیں اور عمرہ اور حج کرنے کا انھیں موقع ملا اس کے علاوہ وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں سرکاری طور پر یہ موقع فراہم کیا گیا، مسلح افواج کے وہ حضرات بھی اس تعداد کا حصہ ہیں جو ڈیپوٹیشن پر فرائض منصبی ادا کرنے وہاں گئے، اس کے علاوہ معروف سماجی، سیاسی شخصیات بھی حج یا عمرہ ادا کرتی ہیں جن کے معتقدین انھیں عقیدت کے طور وہاں مدعو کر تے یا وہ شاہی خاندان کے مہمان ہوتے ہیں، کچھ پیر صاحبان بھی مریدین کی محبت میں در بنویۖ پر حاضری دیتے ہیں۔
وزارت مذہبی امور کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حج اخراجات کے بڑھنے کی وجہ سبسڈی کا خاتمہ اور کرنسی کی قدر میں کمی ہونا ہے، دوسری وجہ سفری اخراجات کا بڑھ جانا بھی ہے، ایسی صورت حال کا سامنا بنگلہ دیش کے شہریوں کو بھی ہے ،اطلاعات کے مطابق وہاں بھی حج کے لئے امسال وصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد بہت ہی کم ہے، وجہ مہنگا حج ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی یہی پریشانی لاحق ہے، وہا ں بھی سبسڈی کا خاتمہ کیا جا چکا ہے، لیکن مسلم کیمونٹی کا کہنا ہے کہ انڈیا سرکار مسلمانوں کو نہیں بلکہ ایئر انڈیا کو کرایہ کی مد میں رعایت دیا کرتی تھی۔کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ سعودی حکام نے بھی اس کو مذہبی فریضہ کی بجائے ٹورازم کا درجہ دے دیا ہے۔
انڈونیشیاء میں ابتدائی طور پر معمولی رقم لے کرعازمین کو رجسٹرڈ کر لیا جاتا ہے باری آنے حج پر روانہ کیا جاتا ہے۔مہنگے حج کی بابت اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حج کے لئے متبادل ذرائع اپنانا وقت کی ضرورت ہے،جیسے بذریعہ بحری جہاز یا ٹرین کی سفری سہولت ممکن بنائی جائے۔یہ رائے بھی زور پکڑ رہی ہے کہ حجاز مقدس میں قیام کا دورانیہ کم کر دیا جائے تاہم اس کا انحصار سعودی انتظامیہ پر ہے، ہمارے ہاں روایت موجودہے کہ مخصوص فلائیٹس سے سماج کی ایلیٹ کلاس پندرہ روز سے بھی کم مدت میں مناسک حج اور مسجد نبویۖ کی زیارت کرکے وطن وآپس لوٹ آتی ہے، سہولیات کے پیش نظر حجاج کرام کو مکاتب کی بنیاد تقسیم کیا جاتا ہے صاحب ثروت وہاں بھی فائدہ میں رہتا ہے۔
اسلامی تاریخ کی روایات اقدار اور جغرافیہ سے نابلد سابق وزیر اعظم نے بغیر سوچے سمجھے حج کی سبسڈی کا خاتمہ کر دیا اس پر روشن خیال طبقہ
نے بھی شادیانے بجائے اور دلیل دی جو استطاعت رکھتا ہے وہی حج کا قصد کرے قومی خزانہ پر بلا وجہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔
اس وقت پارلیمنٹ سمیت پورے سماج میں ان مراعات کو زیر بحث لا یا جارہا ہے جو عدلیہ، مقننہ، اور افسر شاہی کو غیر معمولی طور پر میسر ہیں ، جو قومی خزانہ سے دی جاتی ہیں۔
عہد حاضر کے مفتیان سے سوال ہے کہ ایسا مسلم معاشرہ جس کے وسائل پر اقلیت قابض ہو، یہاں کسی کو بھی معاشی، سماجی،عدالتی انصاف میسر نہ ہو، 20 فیصد اشرافیہ80 فیصد قومی وسائل پر مکمل دسترس رکھتی ہو، عوام الناس کو ترقی، ملازمت کے یکساں مواقع بھی دستیاب نہ ہوں، رشوت ستانی، قبضہ مافیاز ،لوٹ کھسوٹ سے دولت بنائی جاتی ہو، سود کے بغیر تجارت نہ ہوتی ہو،وسائل کی تقسیم انتہائی غیر منصفانہ ہو، وہاں'' صاحب استطاعت'' کون مسلمان ہو گا؟ کس کسوٹی پر یہ طے ہو گا کہ اس پر حج فرض ہے؟
جس اسلامی ریاست کا ہم تذکرہ کرتے ہیں، وہاں مکہ سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کو پہلے وسائل فراہم کئے ، کم بیش ایک لاکھ عازمین بنی مہربان ۖ کے ساتھ آخری حج کرنے مدینہ سے مکہ آئے تو وہ اپنا زادہ راہ خود لائے تھے، خلیفہ ثانی کی خلافت کئی بر اعظموں تک پھیلی تھی، وہاں پیدا ہونے والے بچہ کا وظیفہ بھی مقرر تھا، کوئی زکوة لینے والا نہ تھا وہاں تو'' صاحب استطاعت'' کی بات سمجھ آتی ہے، ہمارے معاشرے میں امیر اور غریب تر کی واضع حد فاصل ہے ، ارباب اختیار کی ناقص حکمت عملی سے ملک کی کرنسی اپنی قدرو قیمت کھو دے، جس کا گہرا اثر حج اخراجا ت پر پڑے، تو کس کو اس کا ذمہ دار کہا جائے، ان حالات میں'' صاحب استطاعت'' کی نئی تشریح لازم نہیں ہو جاتی، کیا علماء کرام نے معاشی نا انصافی پر صدائے احتجاج کبھی بلند کی ،اس ریاست کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سنجیدہ کاوش کیوں نہ کی، ان حالات میں ہمیں فتوی درکار ہے جو ''صاحب استطاعت'' کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں تعین کرے؟
کل ہی بات ہے کہ سکھ برادری کو ہر ممکن سہولت دینے کے لئے کرتاپور گوردوارہ تعمیر کیا گیامذہبی رسومات کے لئے سرکار آخری حد تک متحرک رہی ہے یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے، صرف انٹری پاس، ڈرائیونگ لائسنس پر گورونانک کی550 سالگرہ پر کرتار پور میں داخلہ دینے پر سابق سرکار بے تاب تھی، لیکن حج کے فریضہ کی ادائیگی پر سبسڈی خزانہ پر بوجھ دکھائی دینے لگی ۔
جس رب نے حج کی ادائیگی کے لئے زادہ راہ کی شرط متعین کی ہے اسی نے معاشرہ میں معاشی انصاف کے لئے ریاست مدینہ کا ماڈل بھی نبیۖ کی وساطت سے متعارف کروایا ، اگر ریاست ایسی ہو ، جہاں زکوة لینے والا بھی کوئی نہ ہو رعایا کی غالب اکثریت'' صاحب ثروت اور استطاعت ہو، وہاں بے شک حج کے فریضہ کے لئے سبسڈی نہ دی جائے جہاں 40 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے زندگی بسر کر یں، انکی بنیادی ضروریات ہی پوری نہ ہوں، وہاں'' صاحب استطاعت ''کے مقام تک پہنچنے کے لئے عمر خضر درکارہے۔
علماء کرام ڈریں جب کوئی مسلم اللہ کے حضور پیش ہو کر یہ شکوہ کرے کہ آپ کے گھر کی زیارت کئے بنا دنیا سے رخصت اس لئے ہوا کہ ریاست کے سارے وسائل چند خاندانوں کی دسترس میںہیں، عمر بھر کمائی کے باوجود اتنی پونجی جمع نہ ہو سکی کہ حج کے اخراجات برداشت کرتا تو سوچیں مفتی صاحبان کہاں کھڑے ہوں گے ؟معاشی ناانصافی کا تقاضا نہیں کہ حج جیسے مذہبی فریضہ کے لئے شہریوں کے اخراجات اس وقت تک ریاست برداشت کرے جب تک قومی وسائل کی تقسیم غیر مساوی رہتی ہے، اس پر مفتیان کرام کا
فتویٰ درکار ہے۔جب بڑے سرکاری ملازمین کو مالی مراعات کی مد میں رعایت مل سکتی ہے تو حجاج کرام کو اس سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے، کیا ان کا ریاستی وسائل پر کوئی حق نہیں؟