مہمان کالم - اقوام متحدہ آرٹیکل 99 اور کشمیر اقوام متحدہ آرٹیکل 99 اور کشمیر

شملہ معاہدے کے خاتمے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے(آئی ڈبلیو ٹی)کی دفعات کی خلاف ورزی اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے غیر مصدقہ دعوؤں پر پاکستان کو نشانہ بنانے کے لئے فوجی کاروائی کی دھمکیوں سے بھارت کی ہٹ دھرمی بے نقاب ہو گئی ہے، جس کا پس منظر پاکستان کی جانب سے ہر قسم کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت اور دہشت گردی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کا پس منظر ہے۔ اسی طرح پاکستان کا یہ اعلان بھی تشویش ناک ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں کے بہاؤ کو روکنے یا پاکستان کی طرف موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی کاروائی ہوگی۔ یہ پیش رفت دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں فوری طور پر احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اقوام متحدہ کے
 چارٹر کا آرٹیکل 99 سیکرٹری جنرل کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ بننے والے معاملات کو سلامتی کونسل کی توجہ میں لائے۔آنے والے بحران کے لمحات میں احتیاطی سفارت کاری ایک کے بعد ایک سیکرٹری جنرل کا معمول رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسلسل مقبوضہ کشمیر پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن بھارت کے اعتراضات کی وجہ سے براہ راست بات چیت سے گریز کرتے ہیں۔فریقین کی رضامندی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت میں جزوی رکاوٹوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر نے تاریخی طور پر شرائط کو پورا کیا ہے۔ درحقیقت شملہ معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے حسی نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توجہ کم کی ہے۔ کئی دہائیوں کے کثیر الجہتی تعطل کے بعد، چین نے 2019ء میں ہندوستان کی طرف سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بات چیت کا مطالبہ کیا لیکن کوئی ٹھوس قرارداد سامنے نہیں آئی۔اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے دیرینہ اور غیر مستحکم تنازعہ کشمیر ہے جو انتہائی خطرناک اور نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ پہلگام حملہ، جس کی سیکرٹری جنرل نے بجا طور پر مذمت کی تھی، کو اس سکیورٹی، سیاسی اور انسانی ماحول سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا جس میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے تسلیم شدہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایسا خطہ ہے جہاں اعلی فوجی تسلط، محدود شہری جگہ اور انسانی حقوق کی مسلسل منظم خلاف ورزیاں جاری ہیں۔کشمیربنیادی مسئلہ ہے اور بنیادی مسئلے (وجہ) کا نام لئے بغیر کشیدگی میں اضافے کی بات کرنا اس بحران کو پوشیدہ کرنا ہے جسے حل کرنے کے لئے اضافی طور پر احتیاطی سفارت کاری کا حکم دیا گیا ہے۔ بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تحفظ دینے والے آرٹیکل 370 اور
 35 اے کو منسوخ کرکے قبضے کے تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔کشمیر کا تنازعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازعہ کا مرکز ہے۔ بھارت کے اس یک طرفہ دعوے کے باؤجود کہ اس نے آئی ڈبلیو ٹی کو روک دیا ہے، یہ معاہدہ اب بھی نافذ العمل ہے اور قانونی طور پر پابند ہے۔ معاہدے کا آرٹیکل XII  نظر ثانی یا خاتمے کی اجازت دیتا ہے لیکن ایسا صرف اسی صورت ہو سکتا ہے جبکہ دونوں فریقوں کا باہمی اتفاق ہو۔ گزشتہ چند ماہ کی بات کی جائے تو اسلام آباد کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی برادری خاص طور پر چین، سعودی عرب، برطانیہ اور امریکہ نے بڑھتے ہوئے علاقائی عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے اشارے کے درمیان کشمیر پر کثیر الجہتی سفارت کاری کی حمایت میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ان حالات میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا چاہئے کیونکہ حالات سازگار ہیں اور اس طرح پاک بھارت آبی تنازعات کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔(بشکریہ دی نیوز۔ تحریر ڈاکٹر جرال۔ ترجمہ ابوالحسن اِمام)

بشکریہ روزنامہ آج