میں پاکستان ٹیلی ویژن کی خدمات اور جو لوگ راستے میں ملے ان پہ ایک کتاب لکھ رہا ہوں ، دو دن قبل ہی فہرست بنائی تھی کہ کس کس سے انٹرویوز کروں گا ، "پی ٹی وی ، ریاست کا ترجمان"اتفاق سے اس فہرست میں جناب اکبر ملک صاحب کا نام سر فہرست تھا ، وہ حج کی سعادت حاصل کرکے لوٹے تھے کہ راستے میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے ، سفر میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یہ منظر بھی شرف قبولیت کا ھے ، حج سے واپسی پر استقبال کے لئے لوگ پھول اور ہار لے کر ائیر پورٹ پہنچتے ہیں ، کیا ہی عظیم منظر ھے کہ اکبر ملک صاحب کے لیے "فرشتوں نے پھول اور ہار اٹھائے ھوں گے" اور کہیں گے اج یار کا یار سے ملن دا ویلا اے " مبارک ھوتے ھیں ایسے لوگ جن کا استقبال فرشتے کرتے ھوں گے ، مشکل صرف ان لوگوں کے لیے ھوتی ھے جو فساد فی الارض ھوتے ہیں ، باقی موت ایک پل ھے جہاں سے گزر کر ایک دوست ، دوسرے دوست سے ملتا ہے ،
صبح صبح ہی ایسی ملاقاتوں کی تین چار خبریں ملیں ، ھمارے ایک عوامی دوست کاشان مسعود صاحب بیماری سے لڑتے لڑتے اللہ کو پیارے ہو گئے اور جمعہ جاکر ادھر ہی پڑھیںِ گے ، اکبر ملک صاحب بھی حج کے بعد کی معصومیت سمیٹ کر اللہ کے حضور پیش ھو گئے ، سعادت بھی ھے ، ساتھ زندہ رہنے والوں کے لیے اس دنیا سے بچھڑ جانے والے کا دکھ اور غم بھی ھے ، "جو رستے میں ملے" میری کتاب کا اولین سبق اکبر ملک صاحب کے حصے میں آگیا ، یہ 2006ء کی بات ہے جب اکبر ملک صاحب پرزنٹیشن انچارج کے طور پر ھمارے پاس آئے ، اؤر ان سے ملاقاتوں اور پرومو پروڈکشن کا ایک سلسلہ شروع ہوا انتہائی نفیس ، خوش لباس ، خوش گفتار اور سمارٹ بلکہ کم عمر ڈائریکٹر تک پہنچنے والے شخص تھے ، مجھے جن ڈائریکٹرز پی ٹی وی کرنٹ افیئرز ، اور پروگرام ڈوژن کام کرنے کا موقع ملا ان میں احسان قادر ھاشمی صاحب ، انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک تھے ان سے بہت کچھ سیکھا ، پھر منیزہ ہاشمی صاحبہ سے ملاقاتیں رہیں ، جناب آغا مسعود شورش سے اٹھنا بیٹھنا اور کام کے لیے بات چیت چلتی رہی ، طویل عرصہ گزارا ، اس کے بعد خواجہ نجم الحسن صاحب ،سرفراز علی سید ،صاحب ، سیموئل اشفاق صاحب ، اشتیاق حسین صاحب ، نیر ندیم صاحب ، عثمان گل صاحب ، یہ کنٹرولرز تھے ، انتہائی دوست سابق گورنر سرحد افتخار شاہ صاحب کے بھائی نئیر حسین صاحب مرحوم ، محترمہ رفعت نذیر صاحبہ وہ بھی کوچ کر گئیں ، اسی طرح عبدالرشید نیازی صاحب ، جناب طلعت حسین صاحب ، ڈائیریکٹر نیوز سے بہت سیکھا ، البتہ اکبر ملک صاحب نے جب بطور پرزنٹیشن انچارج ذمہ داری سنبھالی تو پہلے دن سے دوستانہ تعلقات رہے ، بہت خیال رکھتے جہاں بھی ملتے خوشی اور مسکراہٹیں ہی بکھیرتے تھے ، انہوں نے بطور پروڈیوسر ڈرامہ اور ڈاکیومنٹریز پر کام کیا ، اقبال منزل بہ منزل ، 9 نومبر ھو یا 21 اپریل وہ مجھے اور میں ان کو یاد ضرور کرتا تھا ، میری اقبال شناسی یا اقبال پسندی اور ان کی ڈاکیومنٹری ایک تعلق بن گیا ، ھمارے آئی ٹی کے ڈائریکٹر فخر حمید مرحوم اور اکبر ملک صاحب جواں سالہ ڈائیریکٹر تھے ،اکبر ملک صاحب کے اندر سیاسی رمک بھی موجود تھی میاں محمد نواز شریف کے اور مسلم لیگ ن کے لیے قریبی جذبات اور ساتھ رکھتے تھے ، مجھے یہ ایک مرتبہ انہوں نے بتایا کہ میں ریٹائر منٹ کے بعد سیاست میں آؤں گا ، خدا جانے آن کے ارادے برقرار تھے کہ ختم ہو گئے تھے ، لیکن سیاست میں بھی ھوتے تو نام کماتے ، انتظامی خوبیاں ان میں بے پناہ موجود تھیں ، جب سے ڈائیریکٹر بنے تھے فون پر اکثر بات ھوئی مگر طویل ملاقات نہ تو سکی ، وہ مصروف تھے تو ھم بھی ایسے الجھے کہ "رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی" اپنا مشاہدہ اور تجزیہ باریک ھے جس کو قلمبند کر رہا ہے آج تک پی ٹی وی جیسے بڑے ادارے میں جو ملے ان کی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو ھوگی ، اکبر ملک صاحب کتاب کے پہلے اورق میں پھولوں سے سج گئے ، ان کے جانے کا دکھ ہے مگر زندگی کا یہ سفر سعادت سے شروع ھوا اور عظیم سعادت پر اختتام پذیر ھوگیا ، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ، اب وہ ھمیں نہیں دکھیں گے مگر دلوں میں ، صلاحیت میں اور دوستوں میں زندہ رہیں گے ، اکبر ملک صاحب حج مبارک ہو ، یہ سفر مبارک ہو ، ھم نے اپنے ہار اٹھا کر فرشتوں کو سونپ دئیے ہیں میرے ہار میں سرخ پھول زیادہ ہیں مجھے سرخ پھولوں سے بڑی محبت ھے ، جنت کے دروازے پر میرے نام کا ہار جو ڈالے گا یاد دلا دے گا کہ خورشید کو آپ کا وعدہ آج تک یاد ہے کہ خدمت عوام کی ساتھ کریں گے ، خورشید صاحب آپ کی صلاحیتوں کا معترف ھوں ، آپ کو راشد جہانگیر کو اور کچھ نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو افسوس ھوتا ھے کہ قدر دانی اور ترقی آپ کا حق تھا میں نے کہا ملک صاحب کوئی بات نہیں جہاں ھوں گے کچھ نمایاں ضرور کریں گے ، حقیقی دوست اور اس کے پھولوں کے ہار آپ کو مبارک ھوں ، چلے گئے ہیں آپ ، جن راستوں سے کوئی واپس نہیں آتا ، نئے میکین ، نئے مکاں اور مقامات انسانی سفر کا حصہ ہیں ابھی آپ مذید سفر میں ہیں مگر آزمائش کے نہیں ، باغوں اور باغیچوں کا سفر جاری ھے ، کانٹوں کے جنگل سے آپ اپنی تیز رفتاری کے ساتھ نکل گئے ، دامن الجھا نہیں بلکہ سمیٹ کر دامن و چاک گریباں گزر گئے ہیں ، الوداع باقی تذکرے کتاب میں ، پی ٹی وی ، جو رستے میں ملے ،
156