کون آئے گا پاکستان کو اس گہری دلدل سے نکالنے؟ 206

کون آئے گا پاکستان کو اس گہری دلدل سے نکالنے؟


آج کی تحریر انتہائی مایوسی کے عالم میں لکھ رہا ہوں۔سمجھ نہیں آرہی کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔دنیا جہاں میں پائی جانی والی ریاستیں اپنے یوم آزادی دھوم دھام سے مناتی ہیں۔ کئی مہینے پہلے ہی سے یوم آزادی کے سلسلہ میں تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں اور یوم آزادی کے بعد کئی دن تک جشن کا سماں رہتا ہے۔ دوسری طرف بات کی جائے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تو اللہ کی پناہ۔ انگریز سے آزادی حاصل کئے 76 سال پورے ہوچکے ہیں۔ مگر آج اردگرد نظر دوڑائیں تو ہماری نوجوان نسل اسی انگریز کے پاس سمندر پار لاکھوں روپیہ خرچ کرکے جاتی دیکھائی دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ ڈنکی لگاتے اور جان کی پرواہ کئے بغیر بھی انگریز ی سرکار کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں۔ ماہ آزادی کے مہینے میں ہم پاکستانی باہمی مذہبی لڑائیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ سانحہ جڑانوالہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ چلیں یہ تو بین المذاہب لڑائی تھی مگر ہم مسلمانوں نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ پنگے بازی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔کہیں کفر کے فتوے، کہیں گستاخی کے الزام۔مذہب کے نام پر خون خرابہ کب تک چلے گا؟  واربرٹن، ضلع ننکانہ صاحب، سیالکوٹ میں سری لنکن مینیجرکی ہلاکت اور حال ہی میں سانحہ جڑانوالہ، ضلع فیصل آباد جیسے واقعات کی بدولت مذہب کے نام پر ایسا گٹھن زدہ ماحول بنا دیا گیا ہے کہ کسی مذہبی موضوع پر بات کرتے ہوئے دوسرے شخص سے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں گستاخی کا فتوی ہی نہ لگا دے۔ ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید علامہ اقبال نے ہمارے لئے ہی یہ شعر لکھے تھے ۔
منفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
 ماہ آزادی میں عوام الناس کو یوم آزادی منانے سے زیادہ بجلی کے بل جمع کروانے کی فکر لاحق رہی۔ پون صدی سے زائد عرصہ گزر گیا مگر ابھی تک طبقاتی پسماندگی کا شکار ہیں۔ امیر امیر تر ہوتا رہا اور غریب غربت کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے قبر کی دیواروں تک پہنچ گیا۔ مگر کیا کیا جائے پاکستان میں شائد مرنا بھی آسان نہ رہا۔ تجہیزو تکفین پر آنے والے اخراجات برداشت کرنا بھی عام انسان کے بس کی بات نہ رہی۔ ریاست پاکستان میں پائے جانے والا سیاسی و معاشی عدم استحکام، لوٹ مار، چوری ڈکیتی کی سرعام وارداتیں،ہوشربا مہنگائی، پاکستانی کرنسی کی بے قدری،پٹرولیم مصنوعات کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں، عوام الناس کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔دوسری طرف چاہے صدراتی آفس ہو یا پھر سپریم کورٹ آف پاکستان ، سیاسی جماعتیں ہوں یا پھر الیکشن کمیشن ہر جگہ سے آئین پاکستان کی من مانی اور مرضی کی تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔ جنوری 2023سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام کو حق رائے دہی سے دُور رکھا جا رہے گزشتہ آٹھ ماہ سے دونوں صوبوں کے ریاستی اُمور نگران سیٹ اپ کے ذریعہ سرانجام دیئے جارہے ہیں۔قومی اسمبلی و چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے عام انتخابات کب ہونگے یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔حکومت سے جاتے جاتے پی ڈی ایم حکمران جماعتوں نے سال 2023کی مردم شماری کی منظوری دے کر عام انتخابات میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کردی۔ اب پی ڈی ایم جماعتیں مگر مچھ کے آنسو بہاتی دیکھائی دیتی ہیں۔کیونکہ آئین پاکستان کے تحت انتخابات منظور شدہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے تحت ہی ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب حلقہ بندیوں کے لئے چار ماہ الیکشن کمیشن کو چاہیے پھر عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔یہ ملک کیسے چلے گا کسی کو کچھ معلوم نہ ہے۔ آزادی کے مہینے میں بجلی کے بلوں کے خلاف سوشل میڈیا کیساتھ ساتھ سڑکوں پر سول سوسائٹی اور وکلاء کی جانب سے احتجاج کئے جارہے ہیں۔ کوئی لندن تو کوئی جیل میں۔سیاسی لیڈرشپ نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔یہ کیسی آزادی اور کیسا یوم آزادی ہے کہ بظاہر ریاست پاکستان کو آئی ایم ایف کا غلام بنادیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ حکمران پاکستانی عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے سے پہلے آئی ایم ایف سے اجازت لیتے دیکھائی دیتے ہیں۔کیا ہمارے پرکھوں نےاس لئے لاکھوں مسلمانوں کی جان ومال کی قربانیاں دے کر مملکت حاصل کی تھی۔یہ با ت سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کا کیا بنے گا۔کون آئے گا پاکستان کو مسائل و مشکلات کی اس گہری دلدل سے نکالنے؟ بس اللہ کریم سے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اے اللہ، اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کو امن و سلامتی ، معاشی و سیاسی استحکام کا گہوارہ بنا دے۔ آمین ثم آمین

بشکریہ اردو کالمز