مہمان کالم - میٹا کی اجارہ داری: سوشل میڈیا کی دنیا کا نیا فرعون؟ میٹا کی اجارہ داری: سوشل میڈیا کی دنیا کا نیا فرعون؟

تحریر:سَیّدہ سُنمبُلہ بُخارِی

آج کے دور میں جہاں ہر دوسرا انسان فیس بک، واٹس ایپ یا انسٹاگرام پر موجود ہے، وہاں ایک سوال مسلسل اُبھرتا جا رہا ہے: کیا میٹا (Meta) نامی یہ ٹیکنالوجی کمپنی اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ اسے کوئی روک نہیں سکتا؟ امریکہ کی ایک عدالت اس وقت یہ فیصلہ کرنے جا رہی ہے کہ کیا میٹا واقعی ایک “اجارہ دار” یعنی Monopoly ہے؟ اگر ہاں، تو ممکن ہے کہ فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کو الگ الگ کمپنیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

 

مگر سوال صرف قانونی کاروائی کا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اتنی بڑی طاقت کسی ایک کمپنی کے پاس ہو بھی تو کیوں؟ کیا یہ صرف کاروبار کا معاملہ ہے یا اس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی، آزادیِ اظہار اور جمہوریت تک جا پہنچے ہیں؟

 

سوشل میڈیا یا مکمل کنٹرول؟

 

میٹا دنیا بھر میں تقریباً چار ارب سے زائد صارفین کے ڈیجیٹل رابطوں کا مرکز ہے۔ اس کے پلیٹ فارمز پر صرف دوستوں سے گپ شپ ہی نہیں ہوتی، بلکہ سیاست، صحافت، کاروبار، اور معاشرتی تحریکوں کا دارومدار بھی انہی پلیٹ فارمز پر آ گیا ہے۔ اگر کوئی خبر پھیلانی ہو، مظاہرے کی کال دینی ہو، یا کسی جھوٹی خبر کو وائرل کرنا ہو — سب کچھ میٹا کے نظام کے تحت ہوتا ہے۔

 

یہ طاقت صرف اشتہارات کمانے یا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی نہیں، بلکہ رائے عامہ بنانے اور بدلنے کی بھی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں واٹس ایپ بہت سے لوگوں کے لیے واحد کمیونیکیشن ذریعہ ہے، وہاں میٹا کی طاقت سرکاری اداروں سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

 

ہمیں فکر کیوں کرنی چاہیے؟

 

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ترقی یافتہ ممالک کا مسئلہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک کمپنی دنیا کی آدھی آبادی کی گفتگو، تصاویر، خیالات اور ذاتی معلومات پر قابض ہو جائے، تو وہ صرف ٹیکنالوجی کی نہیں، سماج کی بھی مالک بن جاتی ہے۔

 

جب کسی کو پسند ناپسند کا اختیار صرف الگوردمز اور اشتہاری مفادات کی بنیاد پر دیا جائے، تو وہ نہ صرف آزادیٔ اظہار کو متاثر کرتا ہے بلکہ چھوٹے پلیٹ فارمز کی ترقی کو بھی روک دیتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ میٹا نے یا تو اپنے حریف خرید لیے، یا ان کی خاص باتوں کو چُرا کر اپنے پلیٹ فارم میں شامل کر لیا — جیسے اسنیپ چیٹ کی کہانی اور ٹک ٹاک کے رِیلز۔

 

قانونی گرفت یا اخلاقی ذمہ داری؟

 

دنیا بھر میں اس وقت بحث ہو رہی ہے کہ ایسی بڑی کمپنیوں کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔ یورپ میں “ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ” جیسے قوانین بن چکے ہیں، اور اب امریکہ بھی عدالت کے ذریعے میٹا پر ہاتھ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔

 

لیکن پاکستان جیسے ملک میں ابھی تک ایسا کوئی مضبوط قانونی فریم ورک موجود نہیں جو ان پلیٹ فارمز کی جوابدہی کو یقینی بنا سکے۔ ہمیں نہ صرف ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی ضرورت ہے، بلکہ ایک ایسا آزاد ریگولیٹری نظام بھی درکار ہے جو ان ڈیجیٹل طاقتوں کو عوامی مفاد کے تابع رکھے۔

 

آگے کیا ہوگا؟

 

اگر عدالت نے میٹا کو اجارہ داری قرار دے کر اس کی تقسیم کا حکم دیا، تو یہ فیصلہ دنیا بھر میں ایک نظیر بنے گا۔ مگر عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو، ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی۔ سوشل میڈیا کو ایک تفریحی یا ذاتی رابطے کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھنے کا وقت گزر چکا۔ یہ اب طاقت کا کھیل ہے — اور اس کھیل میں عوام کی آواز دب جائے، تو نقصان سب کا ہے۔

 

وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں: کیا ایک ہی کمپنی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ فیصلہ کرے ہم کیا دیکھیں، کیا سنیں، اور کیسے جئیں؟

بشکریہ روزنامہ آج