شاہدہ خورشید صاحبہ ایک معلمہ سے عوامی قیادت تک 2152

شاہدہ خورشید صاحبہ ایک معلمہ سے عوامی قیادت تک

 

گلگت بلتستان کی سیاست ایک طویل عرصے سے ایسے چہروں کے گرد گھومتی رہی ہے جنہوں نے اقتدار کو خدمت کے بجائے مفاد کا ذریعہ بنایا یہاں سیاسی وفاداریاں موسموں کی طرح بدلتی رہیں نظریات سودوں میں بکتے رہے اور عوام کو نعروں کے سوا کم ہی کچھ نصیب ہوا ایسے ماحول میں اگر ایک تعلیم یافتہ باوقار اور تجربہ کار خاتون سیاست کے میدان میں قدم رکھتی ہے تو یہ محض ایک انتخابی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور فکری تبدیلی کی علامت بن جاتا ہے محترمہ شاہدہ خورشید کا سیاسی سفر بھی اسی تبدیلی کی ایک اہم کڑی محسوس ہوتا ہے شاہدہ خورشید صاحبہ کسی روایتی سیاسی خاندان کی شوریدہ مزاج سیاستدان نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شعبۂ تعلیم کے لیے وقف کیا ایک معلمہ کی حیثیت سے انہوں نے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ نسلوں کی تربیت کی کردار سازی کی اور معاشرے میں شعور کی روشنی بانٹی استاد کا رشتہ صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتا وہ معاشرے کے مستقبل کو تراشتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک استاد جب سیاست میں آتا ہے تو اس کے پاس محض اقتدار کا خواب نہیں بلکہ قوم کی تعمیر کا وژن بھی ہوتا ہے۔

آج جب شاہدہ خورشید صاحبہ پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے عوامی میدان میں اتری ہیں تو یہ قدم گلگت بلتستان کی خواتین کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے یہ پیغام کہ خواتین صرف گھریلو ذمہ داریوں یا تدریس تک محدود نہیں بلکہ قیادت فیصلہ سازی اور عوامی نمائندگی میں بھی بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں ایک تعلیم یافتہ خاتون کا سیاست میں آنا دراصل اس سوچ کے خلاف اعلان ہے جو خواتین کو صرف خاموش تماشائی دیکھنا چاہتی ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ محترم خالد خورشید کی عدم موجودگی میں ان کی والدہ کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے خالد خورشید کو گلگت بلتستان میں ایک مضبوط اور نظریاتی سیاسی آواز سمجھا جاتا ہے ان کے چاہنے والے انہیں ایک امید کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ مخالفین بھی ان کی سیاسی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں ایسے میں شاہدہ خورشید کا میدان میں آنا صرف ایک امیدوار کی نامزدگی نہیں بلکہ ایک سیاسی اعتماد کی علامت بھی ہے یہ اعتماد اس تربیت کردار اور نظریاتی وابستگی پر قائم ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں اپنائی

سیاست میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ طاقت دولت یا خاندانی اثرورسوخ کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں مگر ایک استاد کی سیاست مختلف ہوتی ہے استاد مسائل کو نعروں سے نہیں بلکہ فہم اور تدبر سے دیکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ معاشروں کی تعمیر جلسوں کی آوازوں سے نہیں بلکہ تعلیم اخلاق اور شعور سے ہوتی ہے اگر شاہدہ خورشید اپنی تدریسی بصیرت اور سماجی تجربے کو سیاسی میدان میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یقیناً وہ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں

گلگت بلتستان جیسے خطے میں جہاں خواتین کی سیاسی شرکت اب بھی محدود سمجھی جاتی ہے شاہدہ خورشید کا یہ قدم ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہےہوسکتا ہے بہت سی نوجوان لڑکیاں آج انہیں دیکھ کر یہ یقین حاصل کریں کہ سیاست صرف مردوں کی جاگیر نہیں بلکہ ایک باوقار اور تعلیم یافتہ عورت بھی عوامی قیادت کر سکتی ہے معاشرے کی اصل خوبصورتی اسی وقت سامنے آتی ہے جب خواتین کو برابر مواقع میسر آئیں اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جائے۔

بلاشبہ سیاست کا میدان آسان نہیں یہاں کردار آزمائش سے گزرتے ہیں صبر کا امتحان ہوتا ہے اور ہر قدم پر تنقید کے تیر چلتے ہیں مگر ایک معلمہ کی حیثیت سے شاہدہ خورشید نے زندگی بھر صبر، برداشت اور تربیت کے سفر کو جیا ہے۔ یہی اوصاف ان کے سیاسی سفر میں بھی ان کی طاقت بن سکتے ہیں وقت فیصلہ کرے گا کہ شاہدہ خورشید صاحبہ عوامی سیاست میں کتنی کامیاب ہوتی ہیں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ انہوں نے ایک مثبت روایت کی بنیاد ضرور رکھ دی ہے ایک ایسی روایت جہاں سیاست کو خدمت، تعلیم اور شعور سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس بھاری ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اگر ان کے ارادوں میں خلوص اور خدمت کا جذبہ شامل ہے تو عوام کے دلوں میں ان کے لیے جگہ بھی پیدا ہو کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ کردار علم اور اخلاص سے آگے بڑھتی ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز