بظاہر مختصر منزل اوری بارل کا مقام تھا ، جو ایک مشہور سیاحتی مقام بن چکا ھے جس کی سب سے بڑی خوبصورتی وہ منفرد اور سخت پہاڑ ہیں جو آزاد کشمیر میں آپ کو بلوچ سے بارل تک نظر آئیں گے ان کا اپنا ایک دلفریب حسن ھے ، جو چھے چھن اور بارل قلعہ اور پڑینی بازار تک مختلف پلیٹوں کی صورت میں موجود ہیں ، پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت وادیاں اور اوری پہاڑوں کے اوپر ایک میدانی علاقہ ایک ھزار سے زائد آبادی اور زرخیز زمین کو گھیرے ہوئے ہے ، اوری ھمارے بچپن کا کریز ھے جہاں اکثر جانا ھوتا تھا ، معروف بزرگ سردار ھاشم خان سے قرابت داری بلکہ رشتہ داری تھی جن کی آل اولاد اب تک ھمارے قبیلہ سے جڑی ھوئی ھے ، اوری میں سردار اشفاق خان صاحب کے گھر قیام کرنا تھا ، جہاں جاکر اس بات کا گہرا احساس ہوا کہ یہ خوبصورت سیاحتی مقام پانی سے محروم ھے ، پینے کا پانی ھو کہ مال مویشیوں کے لیے پانی دستیاب نہیں ہے ، انتہائی زرخیز زمین جہاں بے تحاشا گندم ، مکئی اور دیگر فصلیں ھوتی ہیں پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ھے ، حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ ھے کہ فی الفور اس گاؤں کو پانی فراہم کیا جائے ، سکول ، کالجز ، سڑک اور بازار تک موجود ہے مگر پانی کی بوند بوند کو لوگ ترس رہے ہیں ، جو زیادتی ھے اس کا ازالہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے،
ھم نے سفر تراڑکھل سے شروع کیا تھا راستے میں پپے ناڑ کا خوبصورت علاقہ جو ھم عرصہ نصف صدی سے دیکھ رہے ہیں انتہائی ٹھنڈی جگہیں ، بیاڑ کے جنگلات اور محنتی لوگ ساتھ ہی جونجال ہل کا وہ مقام جہاں سردار محمد ابراہیم خان کی صدارت میں پہلی آزاد اور انقلابی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور یہی آزاد کشمیر کا پہلا دارلحکومت ہے ، جہاں معروف ادیب قدرت اللہ شہاب اور اشفاق احمد نے بھی خدمات سر انجام دیں ، یہ مین شاہراہِ ھے جو انگریز دور میں بنائی گئی تھی تاہم 1966ء میں چند حصے پختہ ھوئے ، آگے گڑالہ بازار ، شہدائے کی یادگاروں سے عبارت داستانیں زیارت گاہ خاص و عام ہیں ، آگے چلے تو گوارہ ایک خوبصورت گاؤں ہے جہاں رکنے اور آنکھوں کو طراوت دینے کا دل کرتا ہے وہاں ھمارے ہونہار نوجوان آفیسر ڈی آئی جی سردار الیاس مرحوم کی یادگار بھی ھے ، فلور مل اور درختوں اور فصلوں سے لادا گاؤں ، تاریخ کے اوراق میں اس گاؤں کی بھی ایک سیاسی اور سماجی حیثیت ھے ، گوراہ پہنچ کر پلندری کا احساس قریب تر ھونے لگتا ہے، پلندری ضلع سدھنوتی کا مرکز ہے ، نوجوانی کا ایک دور یہاں گزرا تھا ، آج بھی اس کے موسم کے اعتدال سے خوشی ھوتی ھے ، پلندری پہنچے تو سیدھے بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان مرحوم کے مزار پر حاضری دی ، خان صاحب تاریخی شخصیت تھے جنہوں نے پونچھ میں سماجی اور سیاسی طور پر لوگوں کو بیدار کیا ، آج مرکزی جامع مسجد اور مدرسہ دار العلوم پلندری کے احاطے میں مرجع خلائق ہیں ، دعا کے بعد اوری بارل کا سفر جاری رہا ، پلندری سے اتر کے نیچے جائیں تو تحصیل ھیڈ کوارٹر ھسپتال کی خوبصورت عمارت جو طویل عرصہ تعطل کا شکار رہی اب "زیارت اور علاج" کے لیے موجود ہے باقی اندر سے واقف نہیں ھو سکے ، البتہ واپسی پہ خان محمد خان پوسٹ گریجویٹ کالج کو ماضی و حال سے جوڑنے کی کوشش کی ہے ، بارل کی اس سڑک پر گاؤں اسلام پورہ پھیلیاں بھی موجود ہے یہاں سے گزریں تو تاریخی شخصیت مولانا غلام حیدر پھیلیاں والے کی خدمات بھی یاد آتی ہیں سنا ہے آن کے طالب علم چار وانگ پھیلے ہیں ، ھمارے بیالوجی کے استاد اقبال صاحب مرحوم کے بھی یہاں کے رہنے والے تھے ، جب بھی یہاں سے گزرا ھوں ان کی یاد آتی ہے ، لوگ حسب روایت محنتی اور کھیتی باڑی سے دلچسپی رکھتے ہیں ، آدھ گھنٹے میں ھم مختصر منزل اوری پہنچے جہاں سردار رشید صاحب اور سردار اشتیاق نے استقبال کیا ، چائے کے وقفے کے بعد بارل گاؤں کا سراسری جائزہ لینے نکل گئے ، سب سے پہلے بارل کی مرکزی جامع مسجد شہداء دیکھی جس کی تعمیر کا آغاز 1971ء میں کرنل محبوب علی خان نے کیا تھا آج یہ ایک بڑی مسجد اور جدید خطوط پر استوار ہے تعلیم ، تربیت اور سماجی شعور میں اہم کردار ادا کرتی ہے، مسجد کے سامنے انٹر کالج بارل موجود ہے جبکہ دوسری طرف سامنے بارل کا تاریخی قلعہ ھے جو عدم توجہی کی وجہ سے بوسیدہ ہو رہا ہے ، اس قلعہ کا سنگ بنیاد 1610ء میں رکھا گیا جو ریاست سدھنوتی کے نواب سردار سعید خان سدوزئی نے رکھا تھا جو اس ریاست کے حکمران تھے ، برصغیر کے مختلف راجوڑوں اور ریاستوں کی طرح پونچھ کے مرکزی جگہوں پر سدوزئی قبائل کی حکومت تھی ، جو اپنی نوعیت کا ایک بڑا جنگجو قبیلہ کہلاتا تھا ، بارل قلعہ کی تعمیر ادھہ انہ یومیہ اجرت پر عمل میں آئی سہر نالہ سے اس کے پتھر لائے گئے ، دیواریں اڑتالیس انچ چوڑی اور چار مقامات پر توپوں کے لیے جگہ رکھی گئی ہے ، سکھوں اور سدوزئی قبیلہ کے درمیان تین جنگیں یہاں لڑی گئیں ، تیسری سکھ اور سدوزئی قبیلہ جنگ میں یہ قلعہ سکھوں کے پاس چلا گیا اور یہاں ظلم و ستم کی ایک تاریخ رقم کی گئی ، سدوزئی قبائل کے کمانڈروں کی زندہ کھالیں کھینچی گئیں ، آخر معروف جرنیل سردار مہدی خان نے یہ قلعہ سکھوں سے واپس لیا اور آخری قلعہ دار وہی ریے ، افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ قلعہ امتداد زمانہ کا شکار ھے ، حکومت اور یونیسکو سے اس تاریخی یادگار کی حفاظت کی استدعا ہے ،
بارل یونین کونسل میں اوری ، بلاں ، بھورلہ ،کھمباہ پیڑیاں معرکہ موریاں ، ائنل نمب، سپالٹی ، سیری ، چنکائڑہ ، کائڑہ ، چھمبر اور پڑینی شارجہ محلہ کے گاؤں پر مشتمل ھے ، آبادی پوری یونین کونسل کی تقریبا پچیس ھزار ھے ، علاقے کے زیادہ تر لوگ زمیداری اور پاک فوج سے وابستہ ہیں ، 1949ء میں حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت بھی کی تاہم حکومت پاکستان سے صلح کے باوجود اس علاقے کے لوگوں نے مزاحمت جاری رکھی آخر کار سردار عبد القیوم خان ، کی کوششوں سے غازی شیر دل خان جو قبیلے کے سردار تھے کہ درمیان 1956ء میں معاہدہ بارل ھوا ، بنیادی طور پر یہ لوگ بھارت سے جنگ بندی کے مخالف تھے ، جن کی مرکزی قیادت سردار ابراہیم خان کر ریے تھے ، بارل کی مشہور شخصیات میں کپتان شیر دل خان ، کرنل محبوب علی خان ، کیپٹن عظیم خان ، کپتان افسر خان ، میجر اسلم خان ، اور سردار الطاف خان نمایاں ہیں ، بارل کے ساتھ یونین کونسل چھے چھن ،پھنتھل، سہنسہ ، جھنڈا بگلہ اور پلندری مرکز ہے ، جہاں آپ کو بار بار جانے کو دل کرے گا ، علاقے میں ھماری مختصر منزل اوری تھی جہاں سردار اشفاق خان صاحب کے گھر پرتکلف ظہرانہ اور میرے ساتھ سردار انیس خان ، اور پروفیسر عبدالغفار خان تھے ،ظہرانے میں شریک ہوئے اور مختصر قیام کے بعد تلاش آٹا میں شام کو گھر خالی دامن واپسی ، خالی دامن سے مراد آٹا دستیاب نہیں تھا ، شاید انہی دنوں مسئلہ تھا مگر گاہے بگاہے ھوتا رہتا ہے ،
366