بابائے خدمت : عبدالستار ایدھی 778

بابائے خدمت : عبدالستار ایدھی

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ 
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
(سرور بارہ بنکوی)
 بشر دوست شخصیت ، مذہب ، فرقے ، رنگ و نسل، اَدنیٰ و اَعلیٰ کے تفریق سے پاک ، سراپا محبت ، درویش صرف انسان ، بابائے خدمت ، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ، وہ شخصیت جس کا واحد مقصد انسانیت کی سچے دل سے خدمت کرنا تھا ، سادہ لباس ، سادہ مکان ، سادہ خوراک ، ایک سادہ بے لوث انسان ، میری پسندیدہ شخصیت ” عبدالستار ایدھی “ ۔  آپ 28 فروری 1928 میں بھارت کی ریاست گجرات کے ایک گاٶں  بانٹوا میں پیدا ہوئے ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عبدالستار ایدھی جب زیر تعلیم تھے ان کی عظیم ماں  اپنے عظیم بیٹے کو دو پیسے دیتی تھی ۔ ایک پیسا وہ خود خرچ کرتے تھے اور ایک پیسا کسی ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خرچ کرتےتھے ۔ تقسیم ہند کے بعد 4 ستمبر 1947ء کو آپ اہل خانہ کے ہم راہ پاکستان  آٸے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی ۔
   1951 میں اپنی جمع پونجی سے ایک ذاتی مکان خریدا اور ایک ڈاکٹر کی مدد سے فلاحی ڈسپنسری کا آغاز کیا ۔ آپ غریبوں اور محتاجوں کا مفت علاج کرتے ، رات کو گھر جانے کی بجائے ڈسپنسری کے سامنے ہی سو جاتے کہ اگر رات کو کسی مریض کو  ضرورت پڑے تو فوراً اس کی مدد کی جا سکے ۔ 1957 میں جب کراچی میں ” ہانگ کانگ فلو“ کی وبا بڑے پیمانے پر پھیلی تو آپ نے فوراً شہر میں خیمے بھی لگوائے اور مفت مدافعتی ادویہ بھی فراہم کیں ۔  مخیر حضرات نے دل کھول کر آپ سے تعاون کیا جس سے بعد میں ڈسپنسری کی ساتھ ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گٸی ۔  یہ ایدھی فاؤنڈیشن وقت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات سرانجام دیتی رہی ۔ مخیر حضرات کے تعاون سے 600 سے زائد ایمبولینس ملک بھر کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ہسپتال اور ایمبولینس کے ساتھ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک ،  زچگی سینٹر ، پاگل خانے ، معذوروں کے لیے گھر ، بلڈ بینک ، یتیم خانے ، لاوارث بچوں کو گود لینے کے لیے مراکز ، پناہ گاہیں، اسکول وغیرہ جیسے مراکز قائم کر رکھے تھے ۔ وہ والدین جو بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے وہ ایدھی فاؤنڈیشن کے مراکز  میں چھوڑ جاتے ہیں جہاں ان بچوں کو مفت تعلیم اور بنیادی سہولیات کے ساتھ پناہ دی جاتی ہے ۔ 
ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروسز بین الاقوامی سطح پر بھی جاری ہیں ۔ 1996 میں ان کی خود نوشت سوانح حیات بھی شائع ہو چکی ہے ۔ 1997 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی سروس ہے ۔ کبھی آپ اپنا کام کرتے تھکے نہیں ، رکے بغیر اپنا کام جاری رکھا ۔ آپ کو ملکی و بین الاقوامی مندرجہ ذیل اعزازات سے نوازا گیا :
” بین الاقوامی اعزازات
1986ء عوامی خدمات میں رامون مگسےسے اعزاز، 
1988ء لینن امن انعام،
1992ء پال ہیریس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاونڈیشن، 
دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس - گینیز بک ورلڈ ریکارڈز (2000ء)، 
ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات 2000ء،
بین الاقوامی بلزان اعزاز 2000ء برائے انسانیت، امن و بھائی چارہ، اطالیہ 
انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری (2006ء)،
یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز 2009ء،
احمدیہ مسلم امن اعزاز (2010ء)،
قومی اعزازات
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ (1962–1987)،
حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمت گزار برائے برصغیر کا اعزاز (1989)،
نشان امتیاز، حکومت پاکستان کا ایک اعلیٰ اعزاز (1989)،
حکومت پاکستان کے محمکہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز (1989)،
پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز (1992)،
پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ ،
پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے اعزازِ خدمت ،
پاکستانی انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانسی حقوق اعزاز ،
26 مارچ 2005ء عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز (Life Time Achievement Award) “۔
  عبدالستار ایدھی نے اس مختصر عرصے میں اس قدر انسانیت کی بے لوث خدمت کی کہ ہمیشہ آپ کا نام امر رہے گا اور تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا ۔ آپ کی شریک حیات بلقیس ایدھی بھی آپ کے شانہ بشانہ انسانیت کی خدمت میں آپ کے ساتھ رہی ۔ ایسی عظیم شخصیت  کی خدمات کو ایک مضمون میں یا کسی ایوارڈ میں قلم بند کرنا ناممکن ہے ۔ یہ زندہ دل شخصیت ہمارے  نصاب کا حصہ بھی ضرور ہونی چاہیے ۔ خوش آٸند بات ہے کہ آزاد جموں و کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ ، مظفرآباد کے زیر اہتمام قومی نصاب 2022 کے مطابق آٹھویں جماعت کی  اردو کے سبق نمبر نو میں اس عظیم شخصیت کا تعارف بھی شامل ہے ۔ یقینا یہ ایک ایسی شخصیت ہے جس نے معاشرے میں محبت کو حقیقی معنوں میں پروان چڑھایا اور بغیر کسی رنگ و نسل ، فرقے یا تعصب کے سچے دل سے انسانیت کی خدمت کی ہے ۔
   رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی ایدھی فاؤنڈیشن کا دسترخوان ہمیشہ سجا رہتا اور آپ خود اپنے ہاتھوں سے بے سہارا ، غریب اور بھوکے افراد کی پلیٹوں میں کھانا ڈالتے اور انہی کے ساتھ خود بھی بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ۔ یہ سادگی ، یہ طرز زندگی ، طرز لباس ، طرز خوراک یقینا آج کے دور میں ایسی عظیم شخصیت دیکھنے کو نہیں ملے گی ۔ ملک میں کوئی بھی بڑا سانحہ ہو یا کوٸی معمولی حادثہ ایدھی فاؤنڈیشن سب سے پہلے وہاں موجود ہوتی ہے ۔ عبدالستار ایدھی کی داستان حیات ان کی خدمات یقینا بڑی ولولہ انگیز ہیں ۔  ان کی شخصیت میں سادگی ، اور خدمت خلق کا جذبہ  کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ اگر ہماری نوجوان نسل بھی اور فلاحی ادارے بھی ایسی بے لوث اور صدق دل سے اس قوم کی اور انسانیت کی خدمت کریں تو یقیناً وہ وقت دور نہیں جب اس معاشرے میں ہر طرف محبت کی فضا پروان چڑھے گی ۔ مخلوق خدا کی خدمت کرنا ہی ہمارا مقصد ہے جو عبدالستار ایدھی کی زندگی کا خلاصہ ہے ۔
   8 جولائی 2016  کو 88 برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا اور کراچی میں مدفون ہیں ۔ آپ کے جنازے میں ملک کے صدر ، فوج کے سپہ سالار ، وزیروں  سے لے کر عام افراد تک بڑی تعداد میں لوگوں نے  شرکت کی ۔ جنازہ دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ کوئی درویش صفت شخصیت نہیں بل کہ کوئی ملک کا سربراہ ہو ۔ ایسی شخصیت کے متعلق باغ آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر سید شہباز گردیزی کیا خوب صورت انداز میں خراج پیش کرتے ہیں ملاحظہ کریں : 
میری سوچوں کی سر زمینوں پر
اس  کی یادوں  کی حکمرانی ہے
وہ تھا جھومر وطن کے ماتھے کا
کوئی  اس  کا  یہاں  پہ  ثانی ہے
یہ جو خوشبو ہے نام میں اس کے
اس   کے   کردار  کی  کہانی   ہے
اور سالک صدیقی صاحب نے بھی کیا خوب لکھا ہے :
کتنے قطروں کو سمندر کر گیا 
کام پورا کر کے اپنے گھر گیا
تاقیامت وہ رہے گا جاوداں
کوٸی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

بشکریہ اردو کالمز