داخلی بحران میں دفاع کا چیلنج 229

داخلی بحران میں دفاع کا چیلنج

قارئین کرام و ذمے داران پاکستان!

گزرے 72گھنٹے میں ملکی حالات حاضرہ میں یکدم غیر معمولی تغیربرپا ہوا ہے۔ ہمارے اپنے خالصتاً داخلی دانستہ یا نادانستہ لیکن محدود شخصی بیمار رویوں سے موجود مکمل گنجلک سیاسی و اقتصادی بحران کاگراف بڑھتے ہی جانے کی گھمبیر داخلی صورتحال میں ’’کمال کا پاکستان اپنے تمام ترجمالی پہلوئوں سمیت دلدل میں دھنسنے کی پرخطر چیلنجنگ صورتحال سے دوچار ہے‘‘۔یقین جانیے موجود گھمبیر ملکی داخلی اور اب خارجی چیلنجنگ صورت حال پر محتاط ذمے دارانہ اور VALUED کالم کے موضوع کا انتخاب اور اس پر قلم اٹھانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ملکی حالات حاضرہ پر سب لکھنے والے اس صورتحال سے دو چار ہیں۔ مانا کہ لمحہ موجود میں داخلی سیاسی کج بحثی اور تنقیدی سیاسی تحریروں کی زیادہ گنجائش نہیں خصوصاً گزشتہ 70 گھنٹے میں ہم ایک بڑے دفاعی اور سفارتی چیلنج سے یکدم دو چار ہوئے۔پاکستان اور ایران تاریخی 76سالہ دوطرفہ اہم ترین تعلقات، حال کی چیلنجنگ علاقائی صورت حال اور کتنے ہی اعتبار سے اپنی نوعیت کے دو مثالی ہمسائے ہیں۔ ہم اور ایران دونوں اس کی حساسیت اور اہمیت سے بخوبی باخبر ہیں اور جو بھی کچھ ہو وہ ہر دور میں رہیں گے کہ جغرافیہ، تاریخ، ثقافت بدلی نہیں جاسکتی۔ دونوں ملکوں کی داخلی صورتحال کے حوالوں سے وائے بدنصیبی ہمارے تعلقات میں اتار چڑھائو بھی ہمارے باہمی ناگزیر تعلقات کا ایک ریگولر فیچر بن گیا ہے۔جسے ختم کرنا دونوں ملکوں کا بڑا مشترکہ سفارتی چیلنج ہے۔ ایران نے گزشتہ 70 گھنٹوں میں جو کچھ بہت غلط اور غیر ذمے داری سے پاکستان کیساتھ کیا اور اسلام آباد کی طرف سے جتنا جلد رسپانس آیا اسے فقط جواب آں غزل ہی نہ سمجھا جائے۔ اس سے ایک بہت تشویشناک صورتحال بن کر دونوں ہمسایوں کی حساس داخلی صورتحال میں بھی مزید پیجیدگی آئیگی جو ہر دو کے پہلے سے موجود خارجی و داخلی حالات حاضرہ میں ایک اور بڑا چیلنج بن جائیگا۔ اس پس منظر میں اس امر کا خدشہ بہت واضح ہے کہ پاکستان اور ایران کے 70 گھنٹے قبل کی داخلی اور خارجہ امور کی جاری پرآشوب حالت پر تہران کے پاکستان کی جانب انتہائی غیر ذمے دارانہ اقدام اور اس پر اسلام آباد کے اتنے ہی جلد اور بڑے رسپانس سے پیدا ہونیوالی تشویشناک بنتی صورتحال غالب نہ ہو جائے۔ یہ دونوں ہمسایہ اور برادرانہ ملکوں کے داخلی اور خارجی مفادات کو یقیناً بری طرح متاثر کرے گی۔ یوں تعلقات کی یہ مجموعی کیفیت کی طوالت پورے خطے کیلئے بڑے خسارے کا سبب بنے گی۔ دونوں ممالک کی سول سوسائٹیز ہر گز نہیں چاہیں گی کہ پیدا ہوئے دفاعی نوعیت اور سلامتی کے حامل امور میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف اور شکایات پر تسلسل ہو۔ گمان غالب ہے کہ ہر دو فیصلہ ساز دونوں اطراف کے عوامی رجحان پر فیصلے کریں گے۔ ایرانی حکام برین اسٹارمنگ میں جائیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کتنا گھمبیر اور غلط تھا۔ ان کی یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے سرحدی علاقوں میں ایسے شرپسند گروہ پیدا کئے گئے ہیں جو پاکستان اور ایران کے تعلقات کو کشیدگی اور کسی بڑے تنازعے میں مسلسل الجھائے رکھنے اور اسے ایک دوسرے کیلئے سلامتی کا خطرہ تک بن جانے کے گراف تک لے آئیں۔بڑی ناقابل تردید ریکارڈ مثال مدت سے چاہ بہار بیسڈ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پاکستان کیخلاف دہشت گردی کے آپریشن کی کمان دار والی موجودگی اور پاک سرزمین تک خطرناک پہنچ بنی۔ اسکے ایران میں دہشت گردی کے اڈے پر ایران جیسا آپریشن کرنا کوئی پاکستان کے لئے مشکل تھا؟ لیکن اس اڈے کو ناصرف اکھاڑنے اور دہشت گردی کے کماندار کو قابو کرنے کیلئے پاکستان نے ایران کوسفارتی زحمت بھی نہ دی اور باکمال انفارمیشن بیسڈ آپریشن سے برادر ایران کیخلاف سرجیکل اسٹرائیک کا بھی کوئی جارحانہ آپریشن کئے بغیراپنا ٹارگٹ حاصل کیا۔ کیا اس کے بعد بھی پاک ایران تعلقات میں بہتری نہیں آئی؟ بہت سی شکایات جاری رہتے ہوئے بھی آئی تو ایران اس حوالے سے زیادہ سوچے لیکن پاکستان بھی۔جاری موضوع پر جو ہوا سو ہوا۔ فوری اور ناگزیر ضرورتیں دونوں ممالک کی دو اور مشترکہ ہیں ۔ 1۔ کسی بھی نوعیت کے ملٹری آپریشن اور سرگرمیوں پر مکمل کنٹرول۔2۔ دونوں برادر ملکوں کے مشترکہ دوست ملکوں کے سفارتی تعاون سے منقطع ہوئی سیاسی سرگرمیوں کی بحالی جو اتنی تیزی سے اور اتنی زیادہ ہو کہ دونوں کے مخلص دوست ممالک ازخود پیچھے ہو جائیں اور ہم دونوں پورے اعتماد سے از خود سفارتی ڈائیلاگ کا آغاز کریں۔ تیسری بڑی ضرورت دونوں ممالک کی سول سوسائٹی خصوصاً موضوع کے ماہرین کا ڈائیلاگ ہے جو مشترکہ طور پر دونوں حکومتوں کو دونوں کے خلاف بیرونی دشمنوں کی ڈیزائن کی ہوئی پراکسی وارز ہیں جس میں وہ ایران اور پاکستان کی آبادی سے ہی پراکسی وار کے جنگجو تیار کر کے سرحد پار علاقوں میں ایسے آپریشن کرینگے کہ پاکستان اور ایران دونوں ایک دوسرے کیلئے سلامتی کا خطرہ بن جائیں۔رہی اس حوالے سے پاکستان کی داخلی پوزیشن۔ جو کچھ ہوا اس کے ردعمل میں پاکستانی سول سوسائٹی اورتمام سیاسی جماعتوں کی لی گئی پوزیشن کی یکسانیت واضح نظر آئی۔ دوجے اس گھمبیر صورتحال میں پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کی ہوئی زیر عتاب حالت ایک بڑی قومی کمی اور خلا اس صورت میں نظر آئی۔ خدارا سمجھ لیا جائے 8فروری کی دی ڈیٹ کو الیکشن بمطابق آئین کراکر بحران سے نکلنے کا سنہری موقع ضائع نہ ہونے دیا جائے۔ ایسا نہ ہوا تو صرف بحران کے حل کی طرف جاتی ٹرین ہی مس نہیں کرینگے بلکہ اربوں روپے سے ہوئے ٹیلر میڈ الیکشن اس گھمبیر ملکی صورتحال میں عدم استحکام کا فوری بڑھتا اضافہ ہوگا۔ جسکا امکان تادم غالب بڑھ رہا ہے۔ تبھی تو اس موضوع پر لکھتے ہوئے بھی نشاندہی کے طور پر 8فروری کے حوالے سے نگران حکومت کے سخت منفی اور الیکشن کمیشن کے غیر ذمے دارانہ رویے کی نشاندہی کرنا قومی ضرورت سمجھا۔ وما علینا الالبلاغ۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم