قارئین کرام! اختتامی مرحلے پر مکمل عوامی ہوگئی نتیجہ خیز ملک گیر وکلا تحریک برائے بحالی جمہوریت 2007-8)کے تقریباً 16 سال مکمل ہوئے تو اس عرصے میں اطلاقِ آئین اور مطلوب سیاسی و جمہوری عمل کا واضح ارتقا یہ ہوا کہ دو سول منتخب حکومتوں نے اپنے اقتدار کی آئینی مدت مکمل کی، ان ہی ادوار کے دو منتخب وزیراعظم قانون شکنی کے مرتکب ہونے پر عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ کھو بیٹھے، جس سے عدلیہ کی ساکھ اور وقار میں ایٹ لارج اضافہ ہوا،لیکن ان کے جماعتی اقتدار کی مدت بمطابق آئین ایوان سے ہی منتخب ہونیوالے وزراء اعظم نے مکمل کی۔ الیکشن 2018ءکے نتیجے میں تیسری سول منتخب حکومت بھی اقتدار میں آئی۔ یوں ارتقائی آئینی و جمہوری عمل آگےبڑھا۔ذہن نشین رہے کہ متذکرہ تینوں، زرداری، گیلانی، نواز اور عمران حکومتیں کوئی آئیڈیل یا مکمل شفاف اور عین بمطابق آئین منتخب حکومتیں تو نہیں تھیں، ہر ایک کے ساتھ الیکشن میں پری پول ، مشکوک و متنازع پولنگ اور گنتی میں گڑ بڑ کے الزامات کی بھرمار مخالف جماعتوں کی طرف سے ہوئی، لیکن جزوی دھاندلی، بے قاعدگیوں اور مداخلت کے الزامات کی کئی ماہ پر محیط تکرار، نشاندہی اور پروپیگنڈے کے بعد بالآخر تینوں ہی حکومتیں سنبھلی رہیں اور ایٹ لارج عوام کی قبولیت تک ہضم ہوگئیں، اور انہوں نے جو کرنا تھا، جیسی جیسی جس کی نیت اور اہلیت تھی، اس کے مطابق اپنی گورننس میں اچھا برا کیا۔ گویا جو حکومتیں اقتدار میں آئیں، وہ منتخب مانی گئیں اور اپنی پالیسیوں، فیصلہ سازی اور عملدرآمد میں خاصی بااختیار رہیں۔ بلاشبہ اقتدار کی تبدیلی میں عام انتخاب کے علاوہ ہر الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کی روایتی مداخلت زیر بحث اور تنقید رہی اوراسے ہی الزامات کی بڑی بنیاد بنایا گیا، لیکن الزامات الیکشن کمیشن، انتظامیہ، نادرا اور کسی حد تک عدلیہ پر بھی لگتے رہے لیکن ان کا بھرم قائم رہا ۔
عوام الناس اور اسٹیبلشمنٹ کی محدود مداخلت جہاں ان انتخابات میں ایک حقیقت ہے، اس سے بڑی یہ ہے کہ اس مشکل ترین ملک گیر انتخابی عمل کو پرامن اور محفوظ بنانے میں فوج کی معاونت ناگزیر رہی اور ہے۔ یوں آئین کے اطلاق اور جمہوری ارتقا میں نتیجہ خیز فوجی تعاون، افواج پاکستان کے ’’فوج برائے امن و استحکام‘‘ کے کردار کا امتیاز فوج ہی نہیں پوری قوم کیلئے قابل فخر و اطمینان رہا۔ پھر ہماری فوج کا یہ کردار ملکی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر محیط ہے اور ’’پیس کیپنگ مشنز‘‘ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے مکمل تسلیم شدہ ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ ٹاپ کا ملکی خفیہ ادارہ اپنے مقاصد و تنظیمی ساخت کے اعتبار سے بنیادی طور پر فقط فوجی نہیںبلکہ فوج و سول کے امتزاج کا سول سیٹ اپ ہے۔ قطع نظر اسکے کہ اسکی روح و کردار و مقاصد پر کبھی کوئی کھلی تو کیا مطلوب و محتاط بات بھی نہیں ہوئی، جس سے اس کا کردار ملک کیلئے ناگزیر اور باکمال ہونے کے باوجود مسلسل متنازع ہوتا گیا، نہ غلط ہوتی ڈائریکشن درست ہوئی، اسی لئے آج اس کی پیچیدگی تشویشناک اور حد درجہ توجہ طلب ہے، لیکن یہ تلخ ترین حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ جہاں اسٹیبلشمنٹ کے متنازع ہوتے کردار سے سول سیٹ اپ اور سیاسی جمہوری عمل منفی طور پر متاثر ہوتا رہا، وہاں ہمارے سیاسی نظام بد (اسٹیٹس کو) نے بھی فوج کو منفی کردار کی ادائیگی کے مواقع فراہم کرنے اور اپنی سیاست کا انحصار ’’عوام کی فلاح‘‘ پر کرنے کی بجائے، اسٹیبلشمنٹ کی خود ہی بڑھائی بنائی اہمیت و حیثیت پر کیا اور اسے مختلف شکایات و احتجاج کے ساتھ بھگتا اور بھگت رہی ہے۔
قارئین کرام! آج کا ’’آئین نو‘‘ قیام پاکستان کی پہلی صدی کے آخری ربع (کوارٹر) کا پہلا سال مکمل ہونے اور اس میں اولیگارکی (مافیا راج) کے پیدا کئے ملکی تاریخ کے بدترین اقتصادی، سیاسی و آئینی بحران اور ماہ آزادی کے خصوصی حوالے سے سیاسی تاریخ کے ریکارڈ پر لایا جارہاہے۔ پاکستانی شدید ابتر حالت حاضرہ،بدترین اقتصادی و دستوری و انتظامی بحران اور مسخ ہوتی قومی سیاست پر مشتمل ہے۔ جس کے سب سے بڑے متاثر 25 کروڑ کی آبادی کو پہنچنے والے انتہائی مہنگائی میں جکڑے پکڑے عوام ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ نکال دیں، باقی آبادی شدید اضطراب، مایوسی اور خوف میں مبتلا ہیں، زیادہ سے زیادہ جو ایک کروڑ ملک کے امیر ترین اور آسودہ آبادی میں ہیں ان کے نفسیاتی دبائو کی کیفیت بھی کوئی کم نہیں، بس دال روٹی، علاج معالجے کے اخراجات (مطلوب صحت نہیں) اور بجلی ٹرانسپورٹ جیسی ناپید ہوگئیں، بنیادی سہولتوں کی فکر سے ہی آزاد ہیں، لیکن ان کا اپنا ہی خوف و اضطراب ہے، گویا امن و سکون سے یہ بھی نہیں۔ امر واقعہ اوربنتی عبرتناک، تاریخ کے سبق تو ہماری اولیگارکی لینے کو ہر گز تیار نہیں جس کا بڑا عذاب عوام پر نازل ہوتا رہا اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ سخت گیر مافیا راج، ناقابل اصلاح ہے، وگرنہ اب مشرف کا سنہری لگتا دور، لیکن غیر آئینی اور اپنے اختتام پر آئین و قانون سے بدتر سلوک کرتا عہد، ختم ہوا تو، پھر سے منظر پر غلبہ حاصل کرنےکی دونوں بحال ہوئی روایتی پارلیمانی قوتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لئے یہ کفارے کا عشرہ شروع ہوا تھا، محترمہ بے نظیر تو شاید اس کےلئے مکمل آمادہ تھیں، لندنی چارٹر آف ڈیموکریسی اس کا عکس تھا، لیکن آنے والی حکومتوں نے مشرف کے خلاف تحریک کی کامیابی تو سیاسی و آئینی کھلواڑ کا ایک اور موقع تھا جو کسی حد تک ارتقائی عمل سے بیلنس ہو رہا تھا،لیکن بیڈ گورننس کرپشن اور انتظامی کھلواڑ اپنی انتہا پر پہنچا۔ عدلیہ سے فیملی جج تک بنانے میں کامیابی ملی ’’وکیل کیا کرنا، جج ہی کرلو‘‘ اور کھاندے نیں تے لاندے وی نیں (کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں) کے بیانیے پبلک ڈس کورس بن گئے، جو سیاسی عمل میں اپنی طاقت اور اثر رکھتا ہے۔ ملک لوڈشیڈنگ سے پورے ایک دور تک کے لئے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ اس کے باوجود سیاسی و آئینی استحکام اس حد تک قائم رہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا جب ملک سے زیادہ پارٹی کا وفادار ہونا ثابت ہوگیا تو فرینڈلی اپوزیشن لیڈر جناب نواز شریف بھی کالا کوٹ پہن کر عدالت جاتے، گیلانی صاحب اور پارٹی نے بھی چون و چرا کئے بغیر عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا، پھر اس سے ملتا جلتا پانامہ کیس میں پیپلز پارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کا جبہ اتار کر عدلیہ کے فیصلے کو زیادہ اہمیت دی۔ احتسابی عمل سے فالو اپ میں وزیر اعظم نواز شریف نے پانامہ کیس میں اپنے اوپر عائد الزامات کے جواب میں مکمل آئینی آپشن کا انتخاب کرکے مفصل بیانِ صفائی قوم کے سامنے پارلیمان میں دیا تو ان کے سیاسی وقار میں خاصا اضافہ ہوا، لیکن یہ دھڑام سے زمین پر گر کر بکھر گیا جب میاں صاحب کے وکیل نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران متذکرہ پارلیمانی بیان پر جج صاحبان کے ہونے والے سوالوں کے جواب میں اسے (میاں صاحب کے بیانِ صفائی) کو سیاسی بیان سمجھا جائے کہہ کر عدالت کو مزید زحمت سے روک دیا۔وہ تو رک گئی لیکن اس پر جو رائے عامہ بنی وہ ہی عوام کی نظر میں آج تک لگے الزامات کی اصل حقیقت سمجھی جاتی ہے، پھر عدلیہ نے بھی اس کا کوئی مطلب لیا ہوگا۔ اس کے بعد مزید سماعت کے دوران بھی قطری خط اور کیلبری فونٹ جیسے ہارڈ فیکٹس کی حقیقت کھلنے کے پس منظر میں جناب نواز شریف کا سزا یافتہ ہونا قوم نے اور کسی حد تک پارٹی نے بھی باآسانی ہضم کرلیا۔ (جاری ہے)