کارکن کا عروج 163

کارکن کا عروج

میری ابھی قاسم خان سوری سے بات ہورہی تھی۔وہ کہہ رہے تھے’’تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ساٹھ کی دہائی میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو واٹر بورڈ کا بل بھجوایاگیا۔ رجیم چینج آپریشن کے بعد شیریں مزاری کو 1972 میں ان کے والد کی جانب سے ملنے والی زمین کا نوٹس بھجوایا اور کیس بنادیا گیا۔اب ’’عقل مندوں‘‘ نے، شوکت خانم مرحومہ کو لگژری گھر رکھنے پر ٹیکس کا نوٹس بھجوا دیاہے۔ان کی وفات کے 28سال بعد انہیں ٹیکس نوٹس جاری کر دیا گیا۔پست ذہنیت اپنے ذاتی مفاد کیلئے پاکستان کوبہت تیزی سے تباہی کے دہانے پر لے جا رہی ہے۔میں نے بیرونی مداخلت پر مبنی تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دی تھی معزز سپریم کورٹ کو سائیفر کی تحقیقات کیلئے بطورِ قائم مقام اسپیکر درخواست بھی کی تھی۔اگرسائیفر کی آزادانہ تحقیقات ہو جاتیں تو اصلی چہرے سامنے آ جاتے اور آج پاکستان یوں تباہی اور بربادی کے نرغے میں نہ ہوتا۔میری وہ رولنگ اب بھی اہمیت رکھتی ہے۔ غیر ملکی مداخلت پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘‘

قاسم خان سوری کا ایک ایک جملہ میری سماعت میں روشنی کی طرح اترتا رہا۔بے شک تحریک انصاف وہ واحد سیاسی پارٹی ہے جہاں عام کارکنوں کو لیڈر بننے کا موقع ملا وگرنہ اس ملک میں پچھلی دو تین دہائیوں سے صرف وہی لوگ لیڈر بن رہے تھے جو کسی لیڈر کی اولاد تھے یا بہت دولت مند تھے۔ کوئی پارٹی کسی عام آدمی کو ایم این اے یا ایم پی اے کا ٹکٹ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ الیکشن پرکروڑوں روپے خرچ ہونے لگے تھے۔ عمران خان نے عام ورکرز کو ٹکٹ دئیے۔قاسم خان سوری انہی نوجوانوں میں سے ایک ہیں۔انہیں اس وقت پی ٹی آئی کامرکزی سینئر نائب صدر بنایا گیا ہے۔یہ یقینا پارٹی کے اندر پی ٹی آئی کے ورکرز کی جیت ہے۔وہ جنہیں چوہدری پرویز الٰہی کو صدر بنانے پر اعتراض تھا۔وہ تمام لوگ اس عمل پر عمران خان کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔مراد سعیدبھی ایک ایسا ہی نوجوان ہے۔افتخار درانی کے بقول ’’مراد سعید پاکستان کی مڈل کلاس کا وہ چہرہ ہے جس کو دیکھ کر ملک کے لاکھوں نوجوان اپنے مستقبل کیلئے پر امید ہیں۔ اس محب وطن نوجوان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم پہلے ہی ارشد شریف جیسا ہیرو رجیم چینج کی نذر کر چکے ہیں۔ مراد سعید کی فول پروف سیکورٹی یقینی بنائی جائے‘‘ہاں توآج موضوع سخن ہے قاسم خان سوری۔وہ سچائی کی لگن کا نام ہے۔دیانت کا بانکپن ہے۔ روشنی کی تلاش میں نکلی ہوئی ایک متحرک روح ہے۔حوصلوں، ہمتوں اور ارادوں سے بھرا ہوا شخص ہے۔شیر شاہ سوری کی نسل سے تعلق رکھنے والا قاسم سوری عمران خان کا ایک ایسا نوجوان جرنیل ہے۔ جس نے کسی میدان میں شکست نہیں مانی۔کسی زمانے میں عمران خان کا جدِامجد ہیبت خان نیازی، شیر شاہ سوری کا جرنیل ہوا کرتا تھا۔ تاریخ کے تناظر میں عمران خان اور قاسم سوری میں ایک تعلق یہ بھی ہے مگر اب شیر شاہ سوری عمران خان ہے اور ہیبت خان، قاسم سوری۔ یہ سنجیدہ سا پڑھا لکھا نوجوان بڑے بڑے کام کرنے کا عزم لے کرعمران خان کی ٹیم میں شامل ہے اور مسلسل نمایاں ہورہا ہے۔اسے نہ کوئی گھمنڈ ہے نہ کوئی رعونت کبھی اس کے گرد و نواح میںنظر آئی ہے۔قاسم خان سوری سے حکومتی اتحادکو بہت تکلیف ہے۔اُسی کے سبب نون لیگ کا حلیف محمود خان اچکزئی اسمبلی نہیں پہنچ سکا۔ہار میں بھی اچکزئی کی پوزیشن تیسری تھی۔دوسرا لشکری رئیسانی تھا۔ اسلم رئیسانی کابھائی۔ جس نے یہ بلیغ جملہ کہا تھا:ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی۔پیپلزپارٹی کیلئے بھی قاسم خان سوری خاصاتکلیف دہ ہے۔ اس نے کئی مرتبہ بلاول بھٹو کو ایوان میں تقریر کیلئے ٹائم نہیں دیاتھا۔ اس نے آئین اور قانون کے مطابق اسمبلی کو کچھ اس طرح اپنی گرفت میں رکھا کہ سامنے بیٹھے ہوئے بڑے بڑے اناپرست بتوں کے کلیجے ہاتھ میں آ گئے تھے۔مجھے یاد ہے کہ میں اور ہارون الرشید کوئٹہ میں بلوچستان کے ایک سردارسے ملے۔وہ قاسم خان سوری کا نام سن کر غصے میں آ گیا تھا۔میں نے اس شخص سے پوچھا کہ جوہمیں اس کے پاس لے گیا تھا کہ اسے قاسم سوری سے کوئی تکلیف ہے تو وہ کہنے لگا۔’’بلوچستان کےایک عام نوجوان کا قومی اسمبلی کے ا سپیکر کی کرسی پر بیٹھنا وہاں کےنوابوں کو کیسے برداشت ہوسکتا ہے‘‘۔

بے شک قاسم خان سوری جیسے نوجوان ہی اس ملک کا مستقبل ہیں۔ انہی کو دیکھ کر روشنی بھری صبح کی توقع آنکھوں میں جھلملاتی ہے وگرنہ دور دور تک کوئی آواز کوئی ایسا منظر موجود نہیں جو اس ملک کو کسی ترقی یافتہ مملکت میں بدلنے کا خواب دکھائے۔ اللہ تعالی عمران خان اور ان کی ٹیم کا حامی و ناصرہو۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز