مہمان کالم - کیا لے کر آئی ہو؟ کیا لے کر آئی ہو؟

 ڈاکٹر جام سجاد حسین

درست ہے کہ بیٹیاں دعاؤں سے پیدا ہوتی ہیں اور اندیشوں میں پالی جاتی ہیں۔ بیٹی ماں باپ کی آنکھ کا تارا، دل کا سکون، اور پورے خاندان کی عزت سمجھی جاتی ہے۔ جہیزکی لعنت معاشرتی رسم کی صورت بیٹی کے والد پر سب سے بڑا بھار ثابت ہوتا ہے۔ شادی کی اس تقریب میں لڑکی کا مستقبل ماپنے کے لیے سب سے پہلے اس کا جہیز تولا جاتا ہے۔ پھر اْس کا صبر، اس کا کردار، اس کی برداشت اور سسرال میں اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت کو پرکھا جاتا ہے۔ لیکن اگر، خدانخواستہ، یہ رشتہ نبھ نہ پائے، اور طلاق کا فیصلہ ہو جائے جو کہ شریعت میں جائز، مگر معاشرے کا ناپسندیدہ ترین عمل ہے تو یہی بیٹی جو کل تک دلہن تھی، آج صرف ’جہیز‘ بن کے رہ جاتی ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور دیگر سماجی تنظیموں کے مطابق ملک میں طلاق کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف کراچی میں ہر سال 10 ہزار سے زائد طلاقیں رجسٹر ہوتی ہیں، جبکہ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں یہ گنتی ہزاروں میں ہے۔ پنجاب میں فیملی عدالتوں میں ایک اندازے کے مطابق سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلاق اور خلع کے کیسز دائر کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف رجسٹرڈ طلاقوں کے ہیں، جب کہ گاؤں دیہات اور چھوٹے شہروں میں کئی معاملات چپ چاپ یا دباؤ میں طے ہو جاتے ہیں اور کہیں درج نہیں ہوتے۔لیکن اعداد و شمار کا دکھ صرف کاغذی نہیں، بلکہ ان کے پیچھے ہر عورت کی ایک الگ کہانی، ایک الگ تذلیل، اور ایک الگ بربادی چھپی ہوتی ہے۔ اور تباہی کی یہ لکیریں اْس وقت اور گہری ہو جاتی ہیں جب لڑکی کی شادی کسی پسند کی بنیاد پر ہو، یا وہ گھر سے‘‘بھاگ’’کراپنی مرضی سے نکاح کرے۔ایسی لڑکیاں، جنہوں نے محبت کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہو یا کسی ظلم سے تنگ آ کر نکاح کیا ہو، اگر طلاق کا سامنا کریں یا واپس میکے آ جائیں، تو نہ سسرال اْنہیں قبول کرتا ہے، نہ میکہ، نہ خاندان، نہ محلہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ معاشرے کے لیے وہ ہمیشہ ’’گناہ گار‘‘، ایک’’بدنام‘‘، ایک‘’’ناکام‘‘عورت کہلاتی ہے۔ سسرال میں ایسی عورت کو سب سے پہلے اور بار بار ایک ہی سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ’’تم کیا لے کر آئی ہو؟‘‘۔یہ سوال بظاہر سیدھا سادہ لگتا ہے، مگر اس میں اتنا زہر بھرا ہوتا ہے کہ ہر روز ایک نئی توہین جنم لیتی ہے۔ اگر وہ بیٹی جہیز نہ لے کر گئی ہو، یا اپنی مرضی سے گئی ہو تو یہ سوال اْس کے لیے عذاب ِ جاں بن جاتا ہے۔’’کیا لے کر آئی ہو؟‘‘ یعنی مال، سونا، فرنیچر، یا خاندان کی عزت؟ اور اگر وہ ان سب میں سے کچھ بھی نہ لے کر آئی ہو تو اْسے ’’خالی ہاتھ، ‘خالی دماغ، خالی عزت‘‘ والی قرار دے دیا جاتا ہے۔ایسی عورت کے لیے سسرال میں عزت کی کرسی موجود نہیں، صرف طعنے، طنز، اور الزام کا کمرہ ہے۔اور اگر یہی عورت حالات سے تنگ آ کر واپس میکے آ جائے، تو محلے والوں، رشتہ داروں اور معاشرتی ٹھیکے داروں کا رویہ بھی اس سے کم ظالمانہ نہیں ہوتا۔ سب سے عام جملہ یہ ہوتا ہے کہ ’’ایسی لڑکیاں تو ویسے ہی گھر توڑتی ہیں‘‘۔’گھرچھوڑنے‘ کے پیچھے اسباب ہوتے ہیں۔ اگر اْس نے ایک انتہائی قدم اٹھالیا ہے تو سسرال کو بھی چاہئے کہ وہ اْسے صدقِ دل سے قبول کرے نہ کہ یہ سوال کرے کہ ’کیا لے کر آئی ہو‘۔وہ کچھ نہیں لے کر آئی، وہ اکیلی آئی ہے، آپ بھی اْسے اکیلا ہی سمجھیں۔ اْسے سہارا چاہئے، اْسے دھتکارا نہیں جانا چاہئے، بلکہ اْسے قبول کرنا چاہئے۔ دراصل ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کو تعلیم دیتے ہیں، مگر شعور نہیں دیتے۔ یہ تکلیف دہ اَمر ہے کہ عورت کے لئے ’طلاق‘ اور مرد کیلئے ’دوسری شادی‘ معاشرتی طورپر قبیح عمل مان لیا گیا ہے۔ جن معاشروں میں یہ سوچ پروان چڑھ چکی ہے وہ معاشرے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ہم اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں، مگرانہیں رشتے نبھانے کا ہنر نہیں سکھاتے۔ ہم بیٹیوں کو رخصت کرتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ اگر سامنے والاانسان کی بجائے حیوان نکل آئے اوربظاہر زندگی کا راستہ بند تا محسوس ہو تو واپس آنے پر دروازہ کھلا ہوگا یا نہیں۔ اور پھر جب بیٹیاں ناکام لوٹتی ہیں تو اْنہیں صرف ایک ہی راستہ دکھایا جاتا ہے۔ ’خاموشی‘۔ کیونکہ ہمارے ہاں معاشرتی رویہ اپنالیا گیا ہے کہ بولنے سے عزت چلی جاتی ہے، سر اٹھانے سے ’کردار‘ مشکوک ہو جاتا ہے، اور دوسری شادی کی تو بات ہی نہیں کی جاتی۔حالانکہ دوسری شادی کی رسم عزت و احترام سے ادا کی جانی چاہئے۔ لاکھوں مرد و خواتین ایسے ہونگے جو دوسری شادی سے ہی اپنی زندگی شروع کرناچاہ رہے ہونگے مگر معاشرتی قباحتیں اْن کا راستہ روکے بیٹھی ہونگی۔عین ممکن ہے جہیز کی لعنت راہ کی رکاوٹ ہو، دوسرا نکاح یا عمر راہ میں حائل ہو۔ مگر جہیز پہلی شادی، طلاق اور دوسری شادی یا پھر دوسری شادی میں طلاق کی وجہ جہیز بنادیا جائے گا تو لاکھوں خواتین زندگی سے ہار جائیں گی۔ کوئی زہر کھا لے گی، کوئی جل مرے گی، اور کوئی معاشرتی قید میں مرجھا جائے گی۔ اور یہ سب کچھ ہم بحیثیت معاشرہ اپنی بے حسی اور دوغلے معیار کی وجہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوچ کوہی طلاق دیں، جو عورت کو صرف اْس وقت تک عزت دیتی ہے جب وہ خاموشی سے سب ظلم سہتی رہے۔ ہمیں ایسی بیٹیوں کے لیے دروازے کھولنے ہوں گے، جو اپنے فیصلے کی قیمت چکا کر واپس آئی ہیں۔ ہمیں اْنہیں نئی زندگی کا موقع دینا ہوگا، نئی شادی کا حق دینا ہوگا، اور سسرال والوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ’’کیا لے کر آئی ہو؟‘‘کا جواب ’خودداری، تعلیم، حوصلہ اور زندگی کا عزم‘ہونا چاہئے نہ کہ فریج، ٹی وی اور صوفہ سیٹ اور دیگر سامان۔یاد رکھئے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ’وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘۔یہ معاشرہ صرف عورتوں کے دم سے ہے۔ اور اگر ہم عورت کو اس کے فیصلے کی بنیاد پر سزا دیں گے، تو یاد رکھیں، ہم آنے والی نسلوں سے بھی انصاف نہیں کر سکیں گے۔

بشکریہ روزنامہ آج